غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں بمباری، فائرنگ اور مسلسل محاصرے کے ذریعے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے نتیجے میں مزید ایک فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
منگل کی شام غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع نصیرات کیمپ میں ایک گھر پر قابض اسرائیل کے فضائی حملے میں ایک شہری شہید اور دوسرا زخمی ہوا۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ طبی عملے نے نصیرات کیمپ کے مشرق میں واقع نوفل خاندان کے گھر کے راہداری کو نشانہ بنانے والے ایک اسرائیلی ڈرون حملے کے بعد ایک شہید اور ایک زخمی کو ہسپتال منتقل کیا ہے۔
یہ واقعہ سیز فائر معاہدے کی بڑھتی ہوئی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے سائے میں پیش آیا ہے۔ وزارتِ صحت کے مطابق 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے سیز فائر کے نفاذ کے بعد سے اب تک شہید ہونے والوں کی تعداد 857 ہو چکی ہے، جبکہ زخمیوں کی کل تعداد 2,465 تک جا پہنچی ہے۔
غزہ کی پٹی میں فلسطینی وزارتِ صحت نے آج قبل ازیں اعلان کیا تھا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 2 شہداء اور 10 زخمیوں کو ہسپتالوں میں لایا گیا ہے۔
وزارت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں واضح کیا کہ متعدد متاثرین اب بھی ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں، کیونکہ ایمبولینس اور شہری دفاع کے عملے کے لیے اب تک ان تک پہنچنا ممکن نہیں ہو سکا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ 11 اکتوبر سے سیز فائر کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر 856 شہداء اور 2,463 زخمی ریکارڈ کیے گئے ہیں، جبکہ ملبے سے 770 افراد کو نکالنے کے واقعات درج ہوئے ہیں۔
7 اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے مجموعی اعداد و شمار میں وزارت نے تصدیق کی ہے کہ شہداء کی تعداد بڑھ کر 72,742 ہو گئی ہے، جبکہ زخمیوں کی کل تعداد 172,565 تک پہنچ چکی ہے۔