بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں پر قابض اسرائیل کی مسلسل فضائی غارت گری کے نتیجے میں دو طبی امدادی کارکنوں سمیت 10 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
لبنانی وزارتِ صحت نے ایک پریس ریلیز میں بتایا کہ قابض اسرائیل کے ایک جنگی طیارے نے نبطیہ شہر میں شہری دفاع کی ایک ٹیم کو اس وقت براہِ راست نشانہ بنایا جب وہ گذشتہ حملے میں زخمی ہونے والے ایک شخص کو طبی امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس سفاکانہ حملے کے نتیجے میں دو امدادی کارکن اور وہ زخمی شخص شہید ہو گئے جبکہ ایک خاتون امدادی کارکن زخمی ہوئیں۔
اسی تناظر میں وزارتِ صحت نے اطلاع دی ہے کہ بنت جبیل اور صور کے علاقوں پر قابض اسرائیل کے دو فضائی حملوں میں 7 افراد شہید اور 8 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
دوسری جانب “نیشنل نیوز ایجنسی” نے بتایا کہ گذشتہ رات جنوبی لبنان کے قصبے کفردونین میں ایک رہائشی مکان پر کیے گئے حملے کے نتیجے میں 6 افراد شہید اور 7 زخمی ہوئے۔
جنوب اور بقاع کے علاقوں پر فضائی حملوں اور توپ خانے کی گولہ باری کا سلسلہ بدستور جاری رہا، جہاں مغربی بقاع کے قصبے سحمر کو خالی کرنے کے انتباہ کے بعد نشانہ بنایا گیا، جبکہ منصوری اور مجدل زون کے مضافات پر بھی شدید گولہ باری کی گئی۔
ایجنسی نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیل کی ایک فوج نے دیر میماس کے قریب ہورا۔رأس الخلہ کے علاقے میں دراندازی کی، جہاں انہوں نے شمسی توانائی سے چلنے والے اس واٹر پمپنگ اسٹیشن کو بارود سے اڑا دیا جو پورے قصبے کو پینے کا پانی فراہم کرتا تھا۔ اس تخریبی کارروائی سے علاقے میں پانی کی فراہمی کا نظام درہم برہم ہو گیا اور بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا۔
لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق 17 اپریل سنہ 2026ء کو سیز فائر کے نفاذ کے بعد سے اب تک قابض اسرائیل کی سفاکیت کے نتیجے میں شہید ہونے والوں کی تعداد 380 ہو چکی ہے، جبکہ 1122 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں بچے، خواتین اور امدادی کارکن بھی شامل ہیں۔
