Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پی ایل ایف نیوز

امریکہ اور اسرائیل کا 75 سالہ گٹھ جوڑ (۲)

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان

(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکہ اور اسرائیل کے شیطانی گٹھ جوڑ کی داستان جو کہ 75 سالوں سے زائد تاریخ پر محیط ہے ۔ گذشتہ کالم میں سنہ 1948 سے 1967 کے امریکی سیاسی اور معاشی تعاون کے ساتھ ساتھ اسرائیل
کے لئے امریکہ کے سفارتی تعاون کو بیان کیا گیا تھا ۔ کالم کے اس حصہ میں امریکہ اور اسرائیل کے گٹھ جوڑ سے متعلق اب 1967 سے 1973 کے زمانہ کا جائزہ لیا جائے گا کہ کس طرح اور کن کن موقعوں پر امریکی حکومت نے غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی بھرپور حمایت جاری رکھی جس میں سیاسی، سفارتی اور مسلح حمایت بھی شامل تھی۔

یہی وہ عرصہ تھا جب امریکہ نے اسرائیل کو صرف ایک اتحادی نہیں بلکہ اپنے اسٹریٹجک مفادات کا لازمی جزو سمجھنا شروع کیا۔یہاں سے امریکہ نے اسرائیل کے خطے میں اپنے لئے لازمی قرار دیا اور دوسری طرف اسرائیل نے بھی امریکہ کی اس حمایت سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے توسیع پسندانہ عزائم کو مزید بڑھاوا دیا۔

امریکہ اور اسرائیل کے اس گٹھ جوڑ پر جب ہم بات کرتے ہیں تو یاد رکھنا چاہئیے کہ امریکہ کی جانب سے غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے لئے تعاون کی کی یہ تاریخ محض سفارتی تعاون تک محدود نہیںہے ۔امریکہ کی جانب سے اسرائیل کے لئے یہ تعاون ایک ایسے گہرے سیکیورٹی اشتراک میں تبدیل ہو چکا ہے جس نےمغربی ایشیاء کی سیاست، جنگی توازن اور عالمی حکمتِ عملی کو متاثر کیاہے۔نہ صرف یہاں تک بلکہ جیسا اوپر بیان کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے امریکہ کی اسی مدد اور تعاون کی وجہ سے خطے میں توسیع پسندانہ عزائم کو بڑھاوا دیا اور آج اس کے نتائج ہمیں غزہ، لبنان، شام اور ایران پر مسلط کردہ جنگوں کی صورت میں نظر آتے ہیں۔ اگر امریکہ کی جانب سے ابتدائی دور اسرائیل کے قیام اور سیاسی سرپرستی کا تھا، تو 1967 سے 1973 کا زمانہ وہ مرحلہ ثابت ہوا جب دونوں کے درمیان حقیقی عسکری و سیکیورٹی تعلق کی بنیاد رکھی گئی۔یہ دور دو بڑی جنگوں سے عبارت ہے یعنی 1967 کی چھ روزہ جنگ اور 1973 کی یومِ کیپور جنگ۔ انہی دو جنگوں نے امریکہ کی اسرائیل کے بارے میں سوچ بدل دی۔

جون 1967 میں ہونے والی چھ روزہ جنگ میں اسرائیل نے مصر، شام اور اردن کے خلاف حیران کن کامیابی حاصل کی۔ چند دنوں میں اسرائیل نے نہ صرف عرب افواج کو شکست دی بلکہ وسیع علاقے بھی اپنے قبضے میں لے لئے۔پیہ وہ زمانہ تھا کہ جب مسلمانوں کا قبلہ اول اور فلسطین کا دارلحکومت یعنی اسلامی دنیا کا پہلا دارلحکومت اسرائیل کے قبضہ میں چلا گیا۔اس جنگ کے بعد واشنگٹن میں اسرائیل کو ایک نئے زاویے سے دیکھا جانے لگا۔ امریکہ نے محسوس کیا کہ اسرائیل مغربی ایشیاء میں ایک مؤثر فوجی طاقت بن چکا ہے جو سوویت حمایت یافتہ عرب ممالک کے مقابلے میں مغربی مفادات کا دفاع کر سکتا ہے۔لہذا امریکہ نے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھایا اور اسرائیل کی عسکری اور فوجی طاقت کو مزید اضافہ دینے کی منصوبہ بندی کی۔اس جنگ کے بعد جو تبدیلیاں آئیںان میںاسرائیل کو بڑے پیمانے پر اسلحے کی فروخت میں اضافہ ہوا، ساتھ ساتھ انٹیلی جنس تعاون بھی وسیع ہوا۔ بحیرہ روم میں محدود سیکیورٹی تعاون شروع ہوا،امریکی اداروں نے اسرائیلی فوجی صلاحیتوں کا باقاعدہ جائزہ لینا شروع کیاتاہم اس مرحلے پر بھی تعلقات مکمل ادارہ جاتی اتحاد میں تبدیل نہیں ہوئے تھے۔لیکن امریکی اداروں کی رپورٹس کہتی ہیں کہ امریکہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اب اسرائیل کو مکمل ناقابل تسخیر بنانا ہے تا کہ خطے میں موجود عرب حکومتیں جو سوویت یونین کی حامی ہیں ان کی مکمل کمر توڑ دی جائے۔

اکتوبر 1973 میں مصر اور شام نے اچانک حملہ کر کے اسرائیل کو شدید دباؤ میں ڈال دیا۔ ابتدا میں اسرائیل کی فوجی صورتحال نہایت خراب ہو گئی اور پہلی مرتبہ یہ واضح ہوا کہ امریکی مدد کے بغیر اسرائیل کی بقا خطرے میں پڑ سکتی ہے۔اسی دوران اسرائیلی وزیراعظم گولڈا مائیر نے امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر سے رابطہ کیا اور کھلی فوجی امداد کی درخواست کی۔ امریکہ نے فوری اور بھرپور مدد فراہم کی، جس کے نتیجے میں اسرائیل ممکنہ شکست سے بچ گیا۔یہیں سے امریکی پالیسی میں بنیادی تبدیلی آئی۔ کسنجر کا اصول یہ بنا کہ اسرائیل کو دوبارہ کبھی ایسی حالت میں نہیں پہنچنے دیا جائے گا جہاں اس کے وجود کو خطرہ لاحق ہو۔امریکہ کی اسرائیل کو شروع کی جانے والی عسکری اور فوجی مدد نے دنیا میں انسانوں کی نسل کشی کو جنم دیا جسے آج دنیا اپنی آنکھوں سے مشاہدہ کر رہی ہے۔

یومِ کیپور جنگ کے دوران امریکہ نےآپریشن نکل گراس شروع کیا، جو دوسری جنگِ عظیم کے بعد سب سے بڑا فوجی فضائی رسد آپریشن تھا۔اس کے تحت غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کو آٹھ ہزار ٹن سے زائد اسلحہ بھیجا گیا۔امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو بائیس ہزار سے زیادہ جنگی سازوسامان اور گولہ بارود منتقل ہوا۔اسی طرح ٹینک، فینٹم طیاروں کے پرزے اور فضاء سے زمین پر مار کرنے والے میزائل فراہم کیے گئے۔C-5 اور C-141 طیاروں کے ذریعے مسلسل دن رات ترسیل جاری رہی ۔یہ آپریشن تاریخی اس لیے تھا کہ پہلی بار امریکہ نے اسرائیل کو بچانے کے لیے براہِ راست عملی عسکری مداخلت کی۔اسی اقدام نے بعد میں امریکہ کے باضابطہ سیکیورٹی عہد کی بنیاد رکھ دی جو آج تک جاری ہے اور اس کا نتیجہ پوری دنیا میں انسانوں کا قتل عام اور غزہ ولبنان میں نسل کشی جاری ہے۔

یومِ کیپور جنگ کے بعد امریکہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اگر عرب ممالک آبادی میں اسرائیل سے کئی گنا بڑے ہیں اور انہیں سوویت یونین سے بھاری اسلحہ مل رہا ہے، تو اسرائیل کو زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹیکنالوجی، تربیت اور ہتھیاروں میں ہمیشہ ایک نسل آگے رہے۔یہی تصور بعد میں Qualitative Military Edge کہلایا۔اس کا مطلب تھا کہ اسرائیل کو ہر وقت، ہر محاذ اور ہر عسکری شعبے میں اپنے ہمسایہ ممالک پر نمایاں تکنیکی برتری حاصل ہونی چاہیے۔یہ اصول بعد میں امریکی قومی سلامتی پالیسی کا مستقل حصہ بن گیا۔ پہلے یہ غیر رسمی حکمتِ عملی تھی، مگر بعد میں اسے مختلف امریکی قوانین میں شامل کر دیا گیا۔یہ سلسلہ آج تک جاری ہے۔
1967 سے 1973 کے درمیان امریکہ نے غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ کئی ایک معاہدے کئے جن میں 1967 کے بعد بھاری اسلحے کی فراہمی ،براہِ راست سیکیورٹی رابطہ لائن کا قیام شامل تھا اور اسی طرح 1973 میں دفاعی ہم آہنگی کے معاہدےجدید ہتھیاروں کی مسلسل منتقلیQME پالیسی کے ابتدائی خدوخال اور پھر 1975 کے سیکیورٹی معاہدے کی بنیاد، جو بعد میں کیمپ ڈیوڈ کی تمہید بنا۔خلاصہ یہ ہے کہ 1967 سے 1973 تک کا زمانہ امریکہ اور اسرائیل گٹھ جوڑ میں فیصلہ کن موڑ تھا۔ اس دور سے پہلے اسرائیل ایک اہم اتحادی تھا، مگر اس دور کے بعد وہ امریکی مغربی ایشیائی پالیسی کا مرکزی ستون بن گیا۔یہی وہ مرحلہ تھا جب اسرائیل کی سلامتی کو امریکی قومی سلامتی کا حصہ تصور کیا جانے لگا، اور اسی سوچ نے آنے والی دہائیوں میں ایک غیر معمولی اور استثنائی اتحاد کو جنم دیا۔آج بھی امریکی حکومت اسی فارمولہ پر کاربند ہے اور اسرائیل کی سلامتی کو مقدم رکھتے ہوئے ایران پر جنگ مسلط کی گئی ہے۔امریکہ اور یورپ میں مبصرین کاکہنا ہے کہ امریکہ نے اسرائیل کے لئے خود کو قربان کرنے کی ٹھان رکھی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan