غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی افواج نے منگل کی صبح غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں کو اپنی وحشیانہ توپ خانے کی گولہ باری اور فائرنگ کا نشانہ بنایا، جو کہ پٹی کے اندر متعدد محاذوں پر نئے میدانی حملوں کا شاخسانہ ہے۔
ایک مقامی ذریعے نے اطلاع دی ہے کہ قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے غزہ کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے سمندر میں گولے برسائے، جبکہ اسی دوران غزہ شہر کے مشرق میں فوجی گاڑیوں سے کی جانے والی فائرنگ اور توپ خانے کی گولہ باری نے علاقے کو تھرا دیا۔
علاوہ ازیں قابض دشمن کی جنگی کشتیوں نے غزہ شہر کے ساحل کی جانب بھی گولہ باری کی اور غزہ کی پٹی کے وسطی علاقے میں واقع البريج پناہ گزین کیمپ کے شمال مشرقی علاقوں کو قابض اسرائیل کے توپ خانے نے وحشیانہ نشانہ بنایا۔
یہ پیش رفت قابض افواج کی جانب سے جنگ بندی (سیز فائر) کے اس معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے جو گذشتہ برس 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو نافذ العمل ہوا تھا۔
غزہ میں وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 854 ہو چکی ہے جبکہ 2453 افراد زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ ملبے کے نیچے سے 770 جسدِ خاکی نکالے گئے ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ سیز فائر کے باوجود فلسطینیوں کی نسل کشی اور انسانی جانوں کا ضیاع بدستور جاری ہے۔
