نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے انکشاف کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری انسانی المیے اور بدترین بگاڑ کے نتیجے میں اب بھی تقریباً 21 لاکھ فلسطینی غزہ کی پٹی کے آدھے سے بھی کم رقبے پر محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔
پریس بریفنگ کے دوران ڈوجارک نے واضح کیا کہ ورلڈ فوڈ پروگرام نے آبادی کے درمیان غذائی قلت کی سطح میں خطرناک حد تک اضافے کو نوٹ کیا ہے، جو اس بات کی واضح علامت ہے کہ غزہ کی پٹی میں خوراک کا بحران انتہائی شدت اختیار کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بنیادی ضرورت کی اشیاء کی آمد پر عائد کردہ پابندیاں اور کئی اہم امدادی شراکت داروں کے کام میں رکاوٹیں غزہ میں مقامی خدمات کی بحالی کی راہ میں بڑی رکاوٹ بنی ہوئی ہیں۔
اسی تناظر میں انسانی حقوق کے لیے اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر کے ترجمان ثمین الخیطان نے اس سے قبل قابض اسرائیل کے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بنیادی ضروریات سے متعلق تمام پابندیاں ختم کریں اور غزہ کی پٹی تک انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد کی رسائی کی اجازت دیں۔
الخیطان نے اس بات پر زور دیا کہ صاف پینے کے پانی، خوراک، کھانا پکانے والی گیس اور دیگر بنیادی اشیاء کی شدید قلت کے باعث غزہ کے حالات بدستور انتہائی خطرناک بنے ہوئے ہیں۔
مزید برآں غزہ کی پٹی میں ادویات کی بھی شدید قلت ہے، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں مریض بالخصوص معصوم بچے ضروری علاج سے محروم ہو چکے ہیں، جبکہ امدادی سامان کی وسیع پیمانے پر فراہمی کے لیے مسلسل آوازیں اٹھائی جا رہی ہیں۔
ایک نئی لکیر، اورنج لائن
قابض اسرائیل یلو لائن کے بعد اب نام نہاد اورنج لائن کے ذریعے غزہ کی پٹی پر اپنے ناجائز تسلط کو مزید وسعت دے رہا ہے، جس سے اس کے قبضے میں آنے والا علاقہ غزہ کی پٹی کے کل رقبے کے 50 فیصد سے بڑھ کر 70 فیصد تک پہنچ گیا ہے!
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفن ڈوجارک نے بتایا کہ قابض اسرائیل نے غزہ میں امدادی اداروں کو نقشے فراہم کیے ہیں جن میں نئی سرحدوں کی نشان دہی کی گئی ہے تاکہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور ان کے جغرافیائی وجود کو مزید محدود کرنے کے ناپاک عزائم کو پورا کیا جا سکے۔
