لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانیہ میں فلسطینی سفیر حسام زملط نے برطانوی وزارت خارجہ سے باضابطہ رابطہ کرتے ہوئے شدید احتجاج درج کرایا ہے اور اس معاملے میں سرکاری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ احتجاج برطانوی میوزیم میں موجود نوادرات کی معلوماتی تختیوں سے فلسطین کا نام نکالے جانے کے بعد سامنے آیا ہے جسے فلسطینی سفیر نے فلسطین کی تاریخی شناخت مٹانے کی ایک سوچی سمجھی کوشش قرار دیا ہے جس کا مقصد فلسطینی بیانیے کو نقصان پہنچانا ہے۔
اخبار گارڈین نے انکشاف کیا ہے کہ میوزیم نے بلاد الشام اور قدیم مصر کے جغرافیے سے متعلق معلوماتی بورڈز سے لفظ فلسطین کو ہٹا کر اس کی جگہ غزہ اور مغربی کنارہ جیسی اصطلاحات درج کر دی ہیں۔ اس کے علاوہ قدیم مشرق اور مصر کے ہالوں میں موجود تشریحات سے بھی لفظ فلسطین اور فلسطینی حذف کر دیے گئے ہیں۔
یہ معاندانہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب برطانیہ نے سنہ 2025ء کے ماہ ستمبر میں باضابطہ طور پر ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ اسی سال کے دوران میوزیم میں یہ تبدیلیاں کی گئیں جس نے برطانیہ کے سرکاری سیاسی موقف اور ثقافتی اداروں کے طرز عمل کے درمیان واضح تضاد پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
حسام زملط نے مطالبہ کیا ہے کہ حذف کی گئی اصطلاحات کو فوری طور پر بحال کیا جائے اور میوزیم انتظامیہ کے ساتھ اس حوالے سے سنجیدہ مذاکرات کا آغاز کیا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ تاریخی حقائق میں یہ تبدیلی قطعی طور پر ناقابل قبول ہے خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب فلسطین کو وسیع پیمانے پر تباہی و بربادی کا سامنا ہے۔
فلسطینی سفیر نے مزید کہا کہ یہ قدم فلسطینیوں کے خلاف جاری نسل کشی اور تباہی کی مہم کے عین مطابق ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کی رپورٹس اور اقوام متحدہ کے آزاد کمیشن کا حوالہ دیا جس نے قابض اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کی نسل کشی کا تذکرہ کیا ہے۔ انہوں نے اس جانب بھی توجہ دلائی کہ قابض اسرائیل مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے آثار قدیمہ چوری کر رہا ہے اور گذشتہ برس ستمبر سنہ 2025ء میں غزہ کی پٹی میں آثار قدیمہ کے سب سے بڑے گودام کو بمباری سے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا گیا ہے۔
سفیر حسام زملط نے بتایا کہ انہیں اس سے قبل میوزیم کے ڈائریکٹر نکولس کولینن اور دیگر ٹرسٹیز سے ملاقات کی دعوت دی گئی تھی لیکن اس ملاقات میں میوزیم انتظامیہ نے تاریخی تحریف کو درست کرنے کا کوئی وعدہ نہیں کیا بلکہ صرف میوزیم کے دورے کی پیشکش کی جسے انہوں نے مسترد کر دیا۔
گذشتہ 9 اپریل سنہ 2026ء کو بھیجے گئے ایک مراسلے میں فلسطینی سفیر نے تاکید کی کہ وہ ایسے کسی عمل کا حصہ نہیں بن سکتے جسے موجودہ تحریف شدہ نمائش کی قبولیت سمجھا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ مذاکرات کے لیے اسی صورت تیار ہوں گے جب میوزیم انتظامیہ ان بنیادی غلطیوں کی تصحیح کر لے گی۔
دوسری جانب برطانوی میوزیم نے عذر پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ لفظ فلسطین کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا گیا بلکہ یہ بعض ہالوں اور ویب سائٹ پر اب بھی موجود ہے تاہم میوزیم کا یہ دعویٰ ان دستاویزی تصاویر کے سامنے جھوٹا ثابت ہو رہا ہے جو ان تبدیلیوں کی تصدیق کرتی ہیں۔
میوزیم انتظامیہ کے ساتھ رابطوں میں ناکامی کے بعد حسام زملط نے برطانوی وزارت خارجہ کو مداخلت کی باضابطہ درخواست دے دی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ برطانوی حکومت میوزیم پر دباؤ ڈالے گی تاکہ وہ اپنی نمائش کو لندن کے اس سرکاری موقف کے مطابق ڈھالے جو ریاست فلسطین کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتا ہے۔ برطانوی حکومت نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ میوزیم آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں اور نمائشوں سے متعلق فیصلے ان کے ٹرسٹیز کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
اسی دوران اخبار ٹیلی گراف نے انکشاف کیا ہے کہ یہ تبدیلیاں ایک صہیونی گروپ برٹش لائرز فار اسرائیل کے دباؤ پر کی گئی ہیں۔ اس صہیونی گروپ نے لفظ فلسطین کے استعمال پر اعتراض کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی تاریخ کو نظر انداز کرنے کے مترادف قرار دیا تھا۔ تاہم دیگر شواہد بتاتے ہیں کہ یہ تبدیلیاں صہیونی دباؤ سے بھی پہلے شروع کر دی گئی تھیں جبکہ میوزیم انتظامیہ نے ان فیصلوں کی کوئی ٹھوس علمی یا تاریخی بنیاد فراہم نہیں کی۔
گارڈین کے مطابق قدیم مصر میں ہائکسوس حکمرانوں سے متعلق بورڈز پر لفظ فلسطینی کو کنعانی سے بدل دیا گیا ہے اور فنیقیوں کے بارے میں تحریروں سے بھی فلسطین کا حوالہ حذف کر کے انہیں صرف کنعانی قرار دیا گیا ہے۔
ان تبدیلیوں پر ماہرین آثار قدیمہ اور محققین کی جانب سے وسیع پیمانے پر تنقید کی جا رہی ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ لفظ فلسطین تاریخی طور پر مصری، آشوری، فارسی، یونانی اور رومی ذرائع میں صدیوں سے مستعمل ہے اور اسے مٹانا محض عصر حاضر کے سیاسی مقاصد اور صہیونی بیانیے کو تقویت دینے کی ایک بھونڈی کوشش ہے۔
