نیویارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے قابض اسرائیلی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے انسانی حقوق کے کارکنوں سیف ابو کشک اور تھیاگو آفیلا کو، جو قابض اسرائیل میں زیر حراست ہیں، فوری اور بلا شرط رہا کیا جائے۔
یہ مطالبہ کمشنر کے ترجمان ثمین الخيطان کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل کو چاہیے کہ وہ گلوبل صمود فلوٹیلا کے ارکان سیف ابو کشک اور تھیاگو آفیلا کو فی الفور غیر مشروط طور پر رہا کرے، جنہیں عالمی سمندر میں اغوا کر کے قابض اسرائیل منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ اب تک بغیر کسی الزام کے قید ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یکجہتی کا اظہار کرنا اور غزہ کی پٹی میں موجود فلسطینیوں کے لیے انسانی امداد پہنچانے کی کوشش کرنا کوئی جرم نہیں ہے، جبکہ وہاں کے عوام اس امداد کے شدید ضرورت مند ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ابو کشک اور تھیاگو آفیلا کو دوران حراست جس شدید بدسلوکی اور سفاکیت کا نشانہ بنائے جانے کی پریشان کن رپورٹس سامنے آئی ہیں، ان کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئیں اور اس کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
ثمین الخيطان نے قابض اسرائیل پر زور دیا کہ وہ جبری گرفتاریوں اور دہشت گردی کے ان قوانین کا استعمال بند کرے جن کی تعریف نہایت مبہم اور حد سے زیادہ وسیع ہے، کیونکہ یہ قوانین انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین سے متصادم ہیں۔
انہوں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل کو چاہیے کہ وہ غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرے اور اس محصور فلسطینی علاقے میں کافی مقدار میں انسانی امداد کے داخلے کی اجازت دے اور اس عمل میں سہولت فراہم کرے۔
