غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر جاری قابض اسرائیلی وسیع تر عسکری جارحیت محض کوئی عارضی واقعہ نہیں ہے جسے گذشتہ جنگوں کے تناظر میں دیکھا جائے، بلکہ یہ وہ لمحہ ہے جس نے پورے معرکے کی ازسرنو تعریف کی ہے۔ اس جنگ نے قابض اسرائیلی قوت کے گھمنڈ کو اس وقت خاک میں ملا دیا جب اس کا ٹکراؤ برسوں سے محصور ایک غیور قوم کے فولادی عزم سے ہوا۔ غزہ پر مسلط کردہ اس سفاکیت کا تجزیہ محض فضائی حملوں کی تعداد یا زمینی پیش قدمی کے نقشوں سے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ غاصب دشمن کیا حاصل کرنا چاہتا تھا اور سیاسی، عسکری و انسانی میدان میں اسے اب تک کیا حاصل ہوا؟
اعلان کردہ اہداف اور جنگ کا میزان
جارحیت کے ابتدائی لمحات میں ہی قابض اسرائیل نے اپنے اہداف کی حد بہت بلند کر دی تھی۔ بنجمن نیتن یاھو کی حکومت نے مزاحمت کے خاتمے، اپنی فوجی ہیبت کی بحالی، طاقت کے زور پر قیدیوں کی واپسی اور غزہ کی پٹی میں ایک نیا سیاسی و سکیورٹی ڈھانچہ تشکیل دینے کے دعوے کیے۔ یہ مقاصد محض عسکری نہیں تھے بلکہ ان کا مقصد غزہ کو مزاحمت کے گڑھ کے طور پر ختم کرنا اور فلسطینیوں کو ایک ایسی قوم کے طور پر توڑنا تھا جو غلامی اور سرتسلیم خم کرنے سے انکاری ہے۔
لیکن غزہ کی زمین پر حقائق اس کے برعکس ثابت ہوئے۔ جیسے جیسے تباہی کی وسعت بڑھتی گئی، قابض دشمن کے اعلان کردہ اہداف اور عملی نتائج کے درمیان تضاد کھل کر سامنے آگیا۔ غاصب دشمن کے پاس آگ اور خون کا سیلاب بہانے کی بے پناہ صلاحیت تو ہے جس سے اس نے رہائشی محلوں، ہسپتالوں اور شہری ڈھانچے کو ملیا میٹ کیا، لیکن اس کے پاس مستقل سیاسی برتری حاصل کرنے کی طاقت مفقود ہے۔ یہاں اس جنگ کی اصل گرہ کھلتی ہے کہ محض تباہ کن قوت کا حامل ہونا کسی مستحکم فتح کی ضمانت نہیں ہوتا۔
قابض اسرائیل نے اپنی اس دھاک کو بحال کرنے کی کوشش کی جو سات اکتوبر سنہ 2023ء کو بری طرح پامال ہوئی تھی۔ مگر یاد رہے کہ ہیبت اور دبدبے کا اندازہ بمباری کی شدت یا معصوم بچوں اور خواتین کے قتل عام سے نہیں لگایا جاتا۔ آج سچی حقیقت یہ ہے کہ غزہ کی مبارک مزاحمت کے بعد لبنان، یمن، عراق اور ایران سے ہونے والے حملوں نے صہیونی ریاست کو عدم تحفظ کا شکار کر دیا ہے اور نسل کشی کی اس تمام تر سفاکیت کے باوجود غاصب دشمن کے اندرونی حصوں کو امن نصیب نہیں ہو سکا۔
نسل کشی کی منطق اور اجتماعی دباؤ
غزہ میں جو کچھ ہوا اسے کسی فوج اور مزاحمتی گروپوں کے درمیان روایتی جنگ نہیں کہا جا سکتا۔ شہریوں کو براہ راست نشانہ بنانا، مکانات کی منظم تباہی، ہسپتالوں، سکولوں اور پناہ گاہوں پر مسلسل حملے، بھوک پیاس کا ہتھیار کے طور پر استعمال اور سخت ترین محاصرہ؛ یہ سب محض عسکری اہداف نہیں بلکہ فلسطینیوں کی نسل کشی کی ایک سوچی سمجھی پالیسی ہے۔ ہم ایک ایسی منظم سزا کا سامنا کر رہے ہیں جس کا مقصد فلسطینی معاشرے کو شدید اذیت، نقل مکانی اور تھکن کے ذریعے تبدیل کرنا ہے۔
قابض اسرائیل نے 72 ہزار سے زائد فلسطینیوں کو شہید اور ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد کو زخمی کیا، جبکہ غزہ کی پٹی کی 90 فیصد عمارات کو ملیا میٹ کر دیا اور پوری آبادی کو غزہ کی پٹی کے مجموعی رقبے کے 36 فیصد سے بھی کم حصے میں مقید کر دیا۔
یہ منطق اس حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ اس جنگ میں شہری آبادی کو فلسطینیوں کے صمود اور ثابت قدمی کی بنیاد سمجھ کر نشانہ بنایا گیا۔ غاصب دشمن جانتا ہے کہ غزہ محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک زندہ سماجی اور سیاسی ڈھانچہ ہے، اسی لیے اس نے زندگی کے بنیادی عناصر یعنی پانی، بجلی، غذا، علاج اور تعلیم پر ضرب لگائی۔ دشمن کا داؤ واضح تھا کہ عوام کو اس حد تک توڑ دیا جائے کہ وہ انسانی المیے کو سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں۔
مگر اس جارحانہ روش نے ایک اور تضاد کو جنم دیا۔ شہریوں کے خلاف سفاکیت جتنی بڑھتی گئی، اسرائیل کے لیے اس جنگ کو اخلاقی اور سیاسی طور پر دنیا کو بیچنا اتنا ہی مشکل ہوتا گیا۔ اگرچہ مغربی حکومتوں کی پشت پناہی جاری رہی، لیکن غزہ سے اٹھنے والی چیخوں نے عالمی رائے عامہ کو ہلا کر رکھ دیا اور فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف عالمی سطح پر ایک بڑی بیداری کی لہر پیدا کی۔ بین الاقوامی انسانی حقوق کی رپورٹوں نے یہ ثابت کر دیا کہ غزہ میں جو کچھ کیا گیا وہ فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا بدترین جرم ہے۔
عسکری برتری کے باوجود ناکامی کیوں؟
مہینوں کی مسلسل جارحیت کے بعد یہ سوال پوری قوت سے ابھرا کہ تمام تر عسکری برتری کے باوجود قابض اسرائیل اس معرکے کو اپنے حق میں فیصلہ کن انجام تک پہنچانے میں کیوں ناکام رہا؟ اس کا جواب کسی ایک عنصر میں نہیں چھپا۔ غزہ ایک پیچیدہ میدانِ جنگ ہے، جو گنجان آباد اور شہری ڈھانچے میں گتھا ہوا ہے، جہاں ایک ایسی مزاحمت موجود ہے جس نے برسوں کے محاصرے کے دوران لڑنے، ثابت قدم رہنے اور وسائل کے انتظام کا طویل تجربہ حاصل کیا ہے۔ فضائی اور توپ خانے کی برتری جانی نقصان تو پہنچا سکتی ہے مگر زمین پر مستحکم کنٹرول کی ضمانت نہیں دے سکتی۔
میدان میں صورتحال یہ ہے کہ کسی علاقے پر عارضی قبضہ اسے مکمل طور پر محفوظ بنانے کے برابر نہیں ہے۔ جب بھی قابض اسرائیل نے کسی علاقے میں مزاحمت کے انفراسٹرکچر کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا، اسے کچھ ہی عرصے بعد اعتراف کرنا پڑا کہ مزاحمت کو عسکری طور پر ختم کرنے کا خیال محض ایک مبالغہ تھا۔ یہ لڑائی محض ہتھیاروں کی نہیں بلکہ حوصلوں اور تنظیمی ڈھانچے کی ہے۔ جب مزاحمت اس معاشرے کی جڑوں میں پیوست ہو جو ثابت قدمی کو اپنی قومی بقا کی علامت سمجھتا ہو، تو دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو، وہ اس جذبے کو شکست نہیں دے سکتا۔ قابض دشمن جنگ کو طول تو دے سکتا ہے، لیکن وہ بغیر کسی سیاسی افق کے لامتناہی جنگ برداشت کرنے کی سکت نہیں رکھتا، خصوصاً جب اس پر اپنے قیدیوں کی واپسی، جانی نقصان اور بڑھتی ہوئی عالمی تنہائی کا اندرونی دباؤ بڑھ رہا ہو۔
مزاحمت اور سیاسی بقا کی مساوات
غزہ کی اس جنگ کا کوئی بھی تجزیہ ارادوں کے ٹکراؤ کا ذکر کیے بغیر ادھورا ہے۔ قابض اسرائیل چاہتا تھا کہ فلسطینی مزاحمت کو منظر نامے سے بالکل ختم کر دے یا اسے اس حد تک معذور کر دے کہ وہ اٹھنے کے قابل نہ رہے۔ لیکن مزاحمت کا آج بھی میدان میں موجود رہنا، اثر انداز ہونا اور مختلف اوقات میں دشمن کو حیران کرنے کی صلاحیت برقرار رکھنا اس بات کا بین ثبوت ہے کہ دشمن کا یہ ہدف خاک میں مل چکا ہے۔
اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ غزہ پر ٹوٹنے والی قیامت اور بے پناہ جانی و مالی نقصان کو نظر انداز کیا جائے، بلکہ مقصد یہ ہے کہ اس جارحیت کو اسرائیلی چشمے سے نہ دیکھا جائے جو محض تباہی کو فتح کا نام دیتا ہے۔ اگر محض تباہی ہی فتح کا معیار ہوتی تو فلسطینی قوم عشروں پہلے ہتھیار ڈال چکی ہوتی۔ تاریخ اس کے برعکس بتاتی ہے کہ جبر کی ہر لہر نے مزاحمت کی نئی بنیادیں فراہم کی ہیں، کیونکہ مسئلے کی جڑ یعنی غاصبانہ قبضے کو حل کرنے کے بجائے اسے طاقت کے بل بوتے پر مزید گہرا کیا گیا ہے۔
مزاحمت یہاں محض ایک فوجی فعل نہیں، بلکہ یہ غزہ کو بے بس اور بے ارادہ خطہ بنانے کی صہیونی سازشوں اور محاصرے کی ناکامی کا اعلان ہے۔ اس زاویے سے دیکھا جائے تو مزاحمتی فعل کا باقی رہنا ہی قابض اسرائیل کے اس منصوبے کی واضح شکست ہے جس کا مقصد غزہ کو اپنی سکیورٹی اور سیاسی شرائط کے مطابق ڈھالنا تھا۔
جنگ کے علاقائی اور عالمی اثرات
یہ جنگ خطے سے الگ تھلگ نہیں تھی۔ شروع سے ہی کئی قوتوں نے اس معرکے کو پھیلنے سے روکنے کی کوشش کی، جبکہ اسرائیل نے خصوصاً امریکہ کی طرف سے فراہم کردہ بین الاقوامی چھتری کا فائدہ اٹھا کر اپنی کارروائیوں کا دائرہ بڑھانے کی کوشش کی۔ مغربی فوجی اور سیاسی مدد نے غاصب دشمن کو وقت تو فراہم کیا لیکن وہ اس حقیقت کو نہیں چھپا سکے کہ اس جنگ نے عالمی نظام کے دوغلے پن کو بے نقاب کر دیا ہے۔
وہ ادارے جو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے علمبردار بنتے ہیں، اس امتحان میں یا تو بے بس نظر آئے یا پھر کھلم کھلا جانبداری اور مجرمانہ خاموشی کا شکار پائے گئے۔ یہ سچائی فلسطینیوں کے لیے نئی نہیں تھی، لیکن اس بار یہ ایک وسیع تر عالمی منظر نامے پر اس طرح عیاں ہوئی کہ اسے چھپانا ممکن نہ رہا۔ غزہ کے انسانی مناظر اور وہاں سے آنے والی گواہیوں نے ان تمام بیانیوں کو پاش پاش کر دیا جو اسرائیل کی حمایت کو جواز فراہم کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے تھے۔
اسی طرح اس جنگ نے عرب ممالک کے سرکاری موقف کی حدوں کو بھی بے نقاب کیا۔ بیانات اور سفارتی سرگرمیاں تو ہوئیں لیکن اس المیے کے تناسب سے ان کا عملی اثر نہ ہونے کے برابر رہا۔ اس صورتحال نے عرب سیاسی ارادے اور فلسطین کی حامی عوامی لہر اور بین الاقوامی دباؤ کے درمیان موجود خلیج کو مزید واضح کر دیا۔
آنے والا کل کیا ہوگا؟
حالیہ مہینوں میں “جنگ کے بعد کا منظر نامہ” یا “اگلے دن” کی اصطلاح بہت گردش کر رہی ہے۔ لیکن اکثر اسے اصل حقیقت سے نظریں چرا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غزہ میں مظالم کے ڈھیر اور قابض دشمن کے نیزوں کے سائے تلے کوئی بھی مستحکم سیاسی مستقبل مسلط نہیں کیا جا سکتا۔ کوئی بھی ایسا تصور جو غزہ کو محض ایک انتظامی یا سکیورٹی فائل کے طور پر دیکھے اور فلسطینی ارادے کو نظر انداز کرے، اس کا مقدر ناکامی ہے۔
قابض اسرائیل ایک ایسا مستقبل چاہتا ہے جو قبضے کے خاتمے کے بغیر اس کی سکیورٹی کی ضمانت دے اور اسے زمین پر ایسا کنٹرول فراہم کرے جس سے اس کا بوجھ کم ہو۔ کچھ بین الاقوامی فریق نئی انتظامیہ یا ٹیکنو کریٹک انتظامات کی بات کر رہے ہیں، لیکن یہ تمام تجاویز قانونی جواز کے سوال سے ٹکرا رہی ہیں۔ غزہ پر وہ حکومت نہیں کر سکتا جسے بیرونی فیصلے سے لایا جائے، بلکہ وہی حق رکھتا ہے جو عوام سے، قومی کاز سے اور اس صمود سے جڑا ہو جو اس ہولناک جنگ کے دوران پروان چڑھا ہے۔
لٰہذا مستقبل کی کوئی بھی سنجیدہ بات جارحیت کے خاتمے، محاصرے کے خاتمے، عوام کی امداد، تعمیر نو اور پھر ایک ایسے داخلی فلسطینی راستے سے شروع ہونی چاہیے جو شراکت داری اور حقیقی نمائندگی کی بنیاد پر قومی گھرانے کی ازسرنو ترتیب کرے۔ اس کے سوا کچھ بھی حل نہیں، بلکہ محض اگلے معرکے تک کے لیے التوا ہے۔
شعور اور بیانیے کی جنگ
اس جنگ کا ایک اہم ترین میدان بیانیے کی جنگ تھا۔ اسرائیل نے محض آگ کی جنگ نہیں لڑی بلکہ زبان، مفہوم اور تصویر کی جنگ بھی لڑی۔ اس نے قتل عام کو “ضمنی نقصان” کے طور پر پیش کرنے، مقتولین سے ان کی داستانیں چھیننے اور ظالم کو مظلوم بنا کر پیش کرنے کی بھرپور کوشش کی۔ لیکن غزہ نے اپنے خون اور اپنے لوگوں کی ثابت قدمی سے اس اجارہ داری کو توڑ دیا۔
یہاں باضمیر فلسطینی اور عرب میڈیا اور ان پلیٹ فارمز کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے جو فلسطینی بیانیے کو حاشیے کے بجائے مرکز میں رکھتے ہیں۔ سچائی کی یہ جنگ کوئی ثانوی مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ یہی طے کرتی ہے کہ دنیا کیا دیکھ رہی ہے اور سیاسی و اخلاقی دباؤ کس طرح بن رہا ہے۔ اس جنگ نے ثابت کیا کہ جب فلسطینی بیانیہ وضاحت اور ثبات کے ساتھ دنیا تک پہنچتا ہے، تو وہ پروپیگنڈے کی مضبوط ترین دیواروں میں بھی دراڑیں ڈال دیتا ہے۔
یہ جنگ کسی نہ کسی موڑ پر رک جائے گی، لیکن اس کے اثرات طویل عرصے تک باقی رہیں گے۔ غزہ کو پتھروں کی بحالی کے لیے بہت وقت چاہیے ہوگا اور انسانوں کے زخم بھرنے کے لیے اس سے بھی زیادہ۔ تاہم، سب سے واضح سبق یہ ہے کہ جو قوم یہ بھاری قیمت چکا رہی ہے وہ کسی کی ہمدردی نہیں بلکہ انصاف، آزادی اور وہ حق مانگ رہی ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ جو اس صورتحال کا دیانتداری سے مطالعہ کرنا چاہتا ہے، اسے یہ نہیں پوچھنا چاہیے کہ غزہ کیسے تباہ ہوا، بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ اس تمام تر تباہی کے باوجود غزہ کیوں آج بھی فلسطین کے دل میں دھڑک رہا ہے اور پوری دنیا کے سامنے اس مسئلے کو نئے سرے سے روشناس کرانے کی طاقت رکھتا ہے۔
