تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی فوج کے چیف آف سٹاف ایال زامیر، فضائیہ کے سبکدوش ہونے والے سربراہ تومر بار اور ان کے جانشین عومر تیشلر نے سات اکتوبر سنہ 2023ء کے واقعات میں اسرائیلی فوج کی عبرتناک ناکامی کا اعتراف کر لیا ہے۔ یہ اعتراف وسطی اسرائیل میں واقع تل نوف بیس پر فضائیہ کی قیادت کی تبدیلی کی تقریب کے دوران کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے زامیر نے واضح کیا کہ فضائیہ اور پوری اسرائیلی فوج دفاع کے اپنے بنیادی مشن میں ناکام رہی۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ ناکامی فوجی ادارے کا پیچھا کر رہی ہے اور اس کے لیے ذمہ داری قبول کرنا اور جامع تحقیقات کا آغاز کرنا ناگزیر ہے۔
یہ بیانات سات اکتوبر کو حماس کی جانب سے غزہ کی پٹی کے گرد و نواح میں واقع فوجی اڈوں اور بستیوں پر کیے گئے اس حملے کے تناظر میں سامنے آئے ہیں جو فلسطینیوں اور ان کے مقدسات کے خلاف قابض اسرائیل کی سفاکیت اور جرائم کے جواب میں کیا گیا تھا۔
اسرائیلی حلقوں میں سات اکتوبر کے واقعات کو اب تک کی سب سے بڑی فوجی اور انٹیلی جنس ناکامی قرار دیا جا رہا ہے جس نے اسرائیلی فوج کے نام نہاد ناقابل تسخیر ہونے کے تصور کو پاش پاش کر دیا ہے۔
اسی سلسلے میں تومر بار نے زور دے کر کہا کہ اس دن پوری اسرائیلی فوج ناکام ہوئی اور جب تک ایک آزاد بیرونی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل نہیں دی جاتی تب تک جو کچھ ہوا اس کی مکمل تصویر واضح نہیں ہو سکے گی۔
بار نے مزید کہا کہ جو کچھ ہوا وہ دہائیوں کی سب سے بڑی تباہی ہے، انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اسرائیلی زمین پر لڑائی ہونے کے باوجود فوج شہریوں کے تحفظ کے لیے وہاں موجود نہیں تھی، جسے انہوں نے فضائیہ کی تاریخ کی بے مثال ناکامی قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ایک ایسی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی اشد ضرورت ہے جو فوجی ادارے اور معاشرے کے درمیان اعتماد بحال کر سکے اور حقائق کو سامنے لائے۔
دوسری جانب فضائیہ کے نئے سربراہ عومر تیشلر نے ان واقعات کو ایک تلخ فوجی ناکامی قرار دیتے ہوئے عزم ظاہر کیا کہ وہ اس سے سبق سیکھیں گے اور تحقیقات کے نتائج پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ فوجی تیاریوں کو مزید مضبوط بنائیں گے۔
سیاسی محاذ پر اسرائیلی اپوزیشن کی جانب سے سات اکتوبر کے واقعات کی تحقیقات کے لیے ایک ایسی خود مختار سرکاری کمیٹی بنانے کا مطالبہ مسلسل کیا جا رہا ہے جس کا تقرر سپریم کورٹ کرے، تاہم بنجمن نیتن یاھو کی حکومت اس مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے سیاسی نوعیت کی کمیٹی بنانے پر بضد ہے۔
گذشتہ دسمبر میں قانون سازی کی وزارتی کمیٹی نے شدید تنقید کے باوجود ایک سیاسی تحقیقاتی کمیٹی کی تشکیل کی منظوری دی تھی، جبکہ بنجمن نیتن یاھو نے واضح کیا تھا کہ ان کی حکومت ہی اس کے اختیارات اور دائرہ کار کا تعین کرے گی۔
متعلقہ تناظر میں زامیر نے علاقائی صورتحال پر نظر رکھنے اور کسی بھی خطرے کا جواب دینے کی تیاریوں کا ذکر کیا، جبکہ تیشلر نے ایران کی صورتحال کے پیش نظر ضرورت پڑنے پر فضائیہ کی تمام صلاحیتوں کو مشرق کی جانب منتقل کرنے کی تیاری کی تصدیق کی۔
یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب علاقائی کشیدگی عروج پر ہے، جہاں متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع نے ایران کی طرف سے آنے والے میزائل اور ڈرون حملوں سے نمٹنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان سفارتی کوششیں کسی بڑے نتیجے کے بغیر جاری ہیں۔
یاد رہے کہ 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران اور امریکہ کے درمیان شروع ہونے والی جھڑپیں پاکستان کی ثالثی کے بعد 8 اپریل کو جنگ بندی کے اعلان پر ختم ہوئی تھیں، تاہم مستقبل کے حوالے سے تاحال بے یقینی کی کیفیت برقرار ہے۔
