جنوبی لبنان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنان میں قابض اسرائیل کی وحشیانہ عسکری کارروائیوں میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے جہاں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران شہداء کی مجموعی تعداد 50 سے تجاوز کر گئی ہے۔ جنوبی لبنان کے مختلف قصبوں پر ہونے والی شدید فضائی بمباری کے نتیجے میں 11 شہری جام شہادت نوش کر گئے جبکہ جبشیت، تول، حاروف اور شہابیہ میں 24 افراد زخمی ہوئے۔ اس صہیونی سفاکیت کے دوران متعدد رہائشی مکانات بھی ملبے کا ڈھیر بن گئے۔
لبنانی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق قصبہ شہابیہ پر حملے میں 2 افراد شہید اور ایک زخمی ہوا جبکہ خربہ سلم کے علاقے طبالہ میں ایک گھر اور سپورٹس کلب کو نشانہ بنایا گیا تاہم نقصانات کی فوری تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔
فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ قابض اسرائیل کی فوج نے خاص طور پر بنت جبیل شہر میں بڑے پیمانے پر مکانات اور بنیادی ڈھانچے کو بارودی مواد سے اڑا دیا جس سے تباہی کے ہولناک مناظر سامنے آئے۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے شومیرا کے علاقے میں قابض اسرائیل کے فوجی ٹھکانے پر خودکش ڈرون حملہ کیا جس کے نتیجے میں 12 صہیونی فوجی زخمی ہو گئے۔ زخمیوں میں سے دو کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 10 کو معمولی چوٹیں آئیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق ڈرون نے الفا نامی گولہ بارود لے جانے والی غیر بکتر بند گاڑی کو نشانہ بنایا جس سے اس میں آگ لگ گئی اور اندر موجود دھماکا خیز مواد زوردار دھماکوں سے پھٹ گیا۔
اسرائیلی نشریاتی ادارے کان 11 نے اس واقعے کو ہولناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ گولہ بارود کے ذخیرے میں لگنے والی آگ اس سے بھی بڑی تباہی کا باعث بن سکتی تھی۔
قابض اسرائیل کی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ حزب اللہ نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل کے ذریعے ان کا ایک ڈرون طیارہ مار گرایا ہے جو میدان جنگ میں بڑھتی ہوئی مزاحمتی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ایک الگ بیان میں حزب اللہ نے بتایا کہ اس کے مجاہدین نے جمعرات کی صبح دس بجے بنت جبیل شہر میں قابض دشمن کے دو میرکاوا ٹینکوں کو خودکش ڈرونز کے ذریعے کامیابی سے نشانہ بنایا اور براہ راست ضرب لگائی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی لبنان کے دفاع اور جنوبی دیہاتوں پر قابض اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے جواب میں کی گئی ہے۔
زمینی صورتحال کے پیش نظر قابض اسرائیل کی فوج نے جنوبی لبنان میں جبری انخلا کے احکامات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ تازہ ترین نوٹس میں کم از کم 23 قصبوں بشمول جبشیت، حبوش، حاروف، کفر جوز، النبطیہ الفوقا، عبا، عدشیت الشقیف، عرب صالیم، تول اور حومین الفوقا کے مکینوں کو فوری طور پر گھر چھوڑنے اور کم از کم ایک ہزار میٹر دور جانے کا حکم دیا گیا ہے۔
قابض اسرائیل کی فوج نے اپنے روایتی جھوٹے پروپیگنڈے کا سہارا لیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کی سرگرمیاں اسے فوجی کارروائی پر مجبور کر رہی ہیں اور وہ عام شہریوں کو نشانہ نہیں بنا رہی۔ ساتھ ہی فلسطینیوں اور لبنانیوں کو ڈراتے ہوئے خبردار کیا کہ حزب اللہ کے ارکان یا تنصیبات کے قریب موجودگی جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ سنہ 2026ء سے جاری اسرائیلی جارحیت میں اب تک شہداء کی تعداد 2586 ہو چکی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد 8020 تک پہنچ گئی ہے۔
سیاسی طور پر یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بالواسطہ مذاکرات اور سفارتی کوششیں جاری ہیں لیکن قابض اسرائیل کے تیور بدستور جارحانہ ہیں۔ بنجمن نیتن یاھو نے امریکی صدر سے ٹیلیفونک رابطے کے دوران مذاکرات کے لیے ایک مختصر وقت مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور دھمکی دی ہے کہ اگر پیش رفت نہ ہوئی تو وہ جنگ کے اصل پلان کی طرف واپس لوٹ جائیں گے۔ بنجمن نیتن یاھو کو خدشہ ہے کہ شمالی محاذ پر ان کی دفاعی ساکھ اور قوتِ مدافعت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔
