تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایران کے پہلے نائب صدر محمد رضا عارف نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ان کا ملک جنگ کا خواہاں نہیں ہے لیکن اگر ان پر جنگ مسلط کی گئی تو اس کا بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا ناقابل تردید حق ہے اور اس کی قلعہ بندی بیرونی دباؤ کے خلاف دفاعی حصار کی حیثیت رکھتی ہے۔
محمد رضا عارف نے پیر کے روز اخباری بیانات میں واضح کیا کہ تہران خطے کے ممالک کے درمیان افہام و تفہیم کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہا ہے اور بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کے اس دور میں پوری امت مسلمہ کو ایک جسم واحد تصور کرتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی فوج کے سربراہ امیر حاتمی نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی ہمارے لیے ریڈ لائن ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی تباہ کن بحری جہازوں نے اپنے ریڈار بند کر کے تنگہ ہرمز کے قریب آنے کی کوشش کی جس پر ایرانی بحریہ نے میزائلوں کے ذریعے جوابی کارروائی کی۔
اس کے برعکس ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی بحریہ نے چھ چھوٹی ایرانی کشتیوں کو اس وقت نشانہ بنا کر غرق کر دیا جب وہ تجارتی جہاز رانی کی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ تہران نے امریکی موقف کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اسے باطل اور حقیقت سے عاری الزامات قرار دیا ہے۔
ایرانی فوج نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے امریکی تباہ کن جہازوں کو آبنائے ہرمز میں داخل ہونے سے روک دیا ہے۔ یہ کارروائی ان امریکی جہازوں کے قریب کروز میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے انتباہی فائرنگ کے بعد کی گئی جنہوں نے ایرانی انتباہات کو نظر انداز کر دیا تھا۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امن مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور گذشتہ 8 اپریل سے نافذ العمل جنگ بندی کے باوجود فریقین کے درمیان شدید تناؤ کی صورتحال برقرار ہے۔
یاد رہے کہ ایران نے قابض اسرائیل اور امریکہ کی حالیہ جنگ کے دوران آبنائے ہرمز کو بند کر دیا تھا اور تجارتی جہازوں خصوصاً تیل بردار جہازوں کی آمد و رفت روک دی تھی، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر اور بالخصوص یورپ میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہو گیا تھا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان سیاسی و عسکری محاذ پر کشیدگی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے، جبکہ ایرانی ساحلوں پر عائد بحری محاصرہ اب بھی برقرار ہے اور تہران کی جانب سے ایک بار پھر تنگہ ہرمز بند کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔
دوسری طرف یورپی ممالک نے جہاز رانی کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی فورس تشکیل دینے کی سمت قدم بڑھایا ہے، جبکہ ایران نے واشنگٹن پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا ہے۔ ان حالات میں مستقبل کے مذاکرات کی قسمت پر بھی غیبت کے سائے منڈلا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 28 فروری سنہ 2026ء کو شروع ہونے والی اس جنگ میں اب تک 3 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جس کے بعد 8 اپریل سنہ 2026ء کو پاکستان کی ثالثی میں ایک عارضی جنگ بندی عمل میں آئی تھی، جو اب بھی میدانی حالات اور مذاکرات میں تعطل کے باعث خطرات سے دوچار ہے۔
