تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایران میں خاتم الانبیاء ہیڈ کوارٹر کے کمانڈر نے واضح کیا ہے کہ ایرانی افواج مضيق ہرمز کی سکیورٹی کی مکمل نگرانی کر رہی ہیں اور کسی بھی صورت حال میں یہاں سے گزرنے کے لیے ان کے ساتھ ہم آہنگی اور کوآرڈینیشن لازمی ہے۔
ایرانی ٹیلی ویژن نے کمانڈر کے حوالے سے خبر دی ہے کہ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ کوئی بھی غیر ملکی طاقت، بالخصوص امریکی فوج، اگر مضيق ہرمز کے قریب آئی تو اسے حملوں کا نشانہ بنایا جائے گا۔
انہوں نے تجارتی جہازوں اور تیل بردار بحری جہازوں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی سکیورٹی کی خاطر ہمارے ساتھ ہم آہنگی کے بغیر یہاں سے گزرنے سے گریز کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کی حفاظت کریں گے اور اپنی پوری طاقت کے ساتھ اس کا انتظام سنبھالیں گے۔
ایرانی کمانڈر نے اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کی جانب سے کوئی بھی جارحانہ اقدام موجودہ صورت حال کو بگاڑنے کا سبب بنے گا اور بحری جہازوں کی سکیورٹی کو خطرے میں ڈال دے گا۔
یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے “پروجیکٹ فریڈم” کے نام سے ایک منصوبے کا ذکر کیا ہے، جس کا مقصد مضيق ہرمز کے ذریعے بحری جہازوں کی نقل و حرکت کی نگرانی اور ساتھ چلنا ہے۔
امریکی سنٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس کی افواج پیر کے روز سے اس منصوبے کی حمایت کا آغاز کر دیں گی، جس میں گائیڈڈ میزائلوں سے لیس تباہ کن بحری جہاز، 100 سے زائد لڑاکا طیارے اور 15 ہزار فوجی شامل ہوں گے۔
اسی تناظر میں برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے اعلان کیا ہے کہ خطے میں جاری فوجی کارروائیوں کی وجہ سے مضيق ہرمز میں سمندری سکیورٹی کو درپیش خطرات کی سطح بدستور “انتہائی سنگین” ہے۔
اتھارٹی نے مزید کہا کہ جہاز رانوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ عمانی حکام کے ساتھ ہم آہنگی پیدا کریں اور سمندری ٹریفک کی تقسیم کے نظام کے جنوب میں عمانی علاقائی پانیوں سے گزرنے پر غور کریں، جہاں امریکہ نے ایک مضبوط سکیورٹی زون قائم کر رکھا ہے۔
برطانوی فوج کے ماتحت کام کرنے والی اس اتھارٹی نے یہ اطلاع بھی دی ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساحل کے قریب مضيق ہرمز میں ایک تیل بردار بحری جہاز پر “نامعلوم گولہ باری” کی گئی ہے، یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ نے اس اہم آبی گزرگاہ سے جہازوں کے گزرنے کی نگرانی کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
اتھارٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ اتوار کی شام اس تزویراتی آبی گزرگاہ میں متحدہ عرب امارات کے شہر فجیرہ سے تقریبًا 145 کلومیٹر شمال میں بحری جہاز کو نشانہ بنایا گیا، اور حکام اس واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جہاز کا عملہ محفوظ ہے اور کسی ماحولیاتی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، تاہم علاقے سے گزرنے والے دیگر جہازوں کو انتہائی احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
