Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

طبی سہولیات کی کمی، غزہ کے بچوں میں چکن پاکس تیزی سے پھیلنے لگا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے جاری نسل کشی کی وحشیانہ جنگ، پناہ گزین کیمپوں میں شدید ازدحام اور نظام صحت کی مکمل تباہی کے باعث بے گھر ہونے والے فلسطینی بچوں میں چکن پاکس کا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔

بیماری کا یہ پھیلاؤ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب غزہ کی پٹی کا صحت عامہ کا ماحول شدید گراوٹ کا شکار ہے۔ بڑے پیمانے پر جبری نقل مکانی، سیوریج کے نظام کی ابتری اور پینے کے صاف پانی کی قلت نے متعدی امراض بشمول چکن پاکس کی منتقلی کے لیے ایک سازگار ماحول فراہم کر دیا ہے، جو اب خاندانوں کے درمیان بڑے پیمانے پر پھیلنا شروع ہو گیا ہے۔

پناہ گزین خیموں کے اندر وباء کی صورتحال

غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے علاقے العطار میں ایک خیمے میں مقیم بی بی نرمین محمد نے اپنے خاندان کے اس وائرس کا شکار ہونے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر سائد میں پہلے فلو جیسی علامات ظاہر ہوئیں جو بعد میں جلد پر دانوں کی شکل اختیار کر گئیں۔ اس کے بعد یہ انفیکشن ان کے 8 سالہ بیٹے عبداللہ اور پھر یکے بعد دیگرے مزید تین بچوں کو لگ گیا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ خیمے کے اندر محدود وسائل کے ساتھ مریضوں کو الگ تھلگ رکھنے کی ان کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں، کیونکہ ایک بیٹی بیماری کی پیچیدگیوں کے باعث بے ہوش ہو گئی جبکہ ان کے شوہر کی حالت آنکھوں تک دانے پہنچنے کی وجہ سے مزید بگڑ گئی۔ نرمین نے اس بات کی تصدیق کی کہ حفاظتی تدابیر پر عمل درآمد کی کمی، صحت کے بارے میں شعور کے فقدان اور صفائی کی بنیادی سہولیات سے محروم ماحول میں میل جول کی وجہ سے یہ وباء پورے علاقے میں پھیل چکی ہے۔

شہر غزہ میں بی بی صبحیہ الجمال نے اپنے 4 سالہ بچے آدم کی تکلیف بیان کی جسے شدید بخار کے بعد الرنتیسی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں معلوم ہوا کہ وہ نمونیا اور چکن پاکس کا شکار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کا بچہ پیدائشی طور پر دل کے مرض میں مبتلا ہے اور اس کا اوپن ہارٹ آپریشن ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے یہ انفیکشن اس کے لیے مزید جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔

گنجان آباد ماحول میں تیزی سے پھیلتا انفیکشن

ایک اور گواہی میں بی بی تغرید ابو العون نے بتایا کہ خیمے میں علیحدگی کی کوششوں کے باوجود ان کے تینوں بچے باری باری اس وباء کا شکار ہوئے۔ پہلے 6 سالہ یحییٰ بیمار ہوا، جس کے بعد 11 سالہ آیہ اور 4 سالہ نور بھی اس کی زد میں آ گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کو تیز بخار، سر درد، جوڑوں میں درد اور جلد پر شدید دانے نکل آئے ہیں، جبکہ شدید خارش کی وجہ سے بچے سو نہیں پاتے اور علاج کی عدم دستیابی نے ان کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔

اسی طرح 5 سالہ احمد ابو سمرہ کی حالت بھی مختلف نہیں جو اپنے بھائی سے انفیکشن لگنے کے بعد بیمار ہوا۔ اس کی والدہ کے مطابق بیماری کا آغاز تیز بخار سے ہوا اور پھر اس کے پورے جسم پر پانی بھرے چھالے نکل آئے۔

الرنتیسی ہسپتال میں ماہر اطفال ڈاکٹر شریف مطر نے وضاحت کی کہ چکن پاکس ایک انتہائی متعدی وائرل بیماری ہے جس کی علامات میں بخار اور نقاہت شامل ہے، جس کے بعد جسم پر پانی سے بھرے چھالے بن جاتے ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ اگرچہ یہ بیماری عام حالات میں جان لیوا نہیں ہوتی، لیکن دائمی امراض یا کمزور قوت مدافعت والے بچوں کے لیے یہ شدید پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ پناہ گزین مراکز میں شدید ازدحام، صفائی کی کمی اور بچوں کا آپس میں قریبی میل جول اس وباء کے پھیلاؤ کے بنیادی عوامل ہیں۔

طبی تشریحات اور انتباہات

ہسپتال میں انفیکشن کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی عہدیدار صفاء الکحلوت نے بتایا کہ جنگ کے بعد متعدی امراض میں تشویشناک اضافہ ہوا ہے۔ روزانہ 20 سے 25 مشتبہ کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں جن میں سے تقریباً پانچ بچوں کو ہسپتال میں داخل کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے ہاتھ دھونے اور مریضوں کو الگ تھلگ رکھنے کی اہمیت پر زور دیا، تاہم موجودہ حالات میں یہ ناممکن نظر آتا ہے۔

اسلامک یونیورسٹی میں فیکلٹی آف ہیلتھ سائنسز کے ڈین ڈاکٹر عبد الرؤوف المناعمہ نے خبردار کیا کہ 5 سال سے کم عمر کے بچے، غذائی قلت کا شکار اور کمزور قوت مدافعت والے افراد سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ویکسینیشن سب سے مؤثر ذریعہ ہے، لیکن غزہ کے موجودہ حالات میں جہاں ہزاروں خاندان گنجان خیموں میں پانی اور ادویات کے بغیر زندگی گزار رہے ہیں، وہاں اس وباء پر قابو پانا ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے جو بچوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan