مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب میں واقع قصبے ام طوبا کے ایک فلسطینی رہائشی کو زبردستی اپنا گھر خالی کرنے پر مجبور کر دیا تاکہ بغیر لائسنس تعمیر کے بہانے اسے جبری طور پر مسمار کیا جا سکے۔
القدس گورنری نے وضاحت کی ہے کہ قابض بلدیہ نے شہری محمد عبدالرؤوف ابو طیر کو اپنا گھر خالی کرنے کا پابند کیا، باوجود اس کے کہ انہوں نے مسماری کے فیصلے کو ملتوی کروانے یا لائسنس کے حصول کی ناکام کوشش میں 45 ہزار شیکل کے بھاری مالی جرمانے بھی ادا کر رکھے تھے۔
اس گھر میں 9 افراد پر مشتمل خاندان رہائش پذیر ہے، جن میں زیادہ تر بچے ہیں، جو قابض دشمن کے مسلسل دباؤ کے باعث اب دربدری اور بے گھری کے خطرے سے دوچار ہیں۔
گورنری نے اس جانب اشارہ کیا کہ قابض حکام نے خاندان کو “خود مسماری” (سیلف ڈیمولیشن) پر مجبور کیا تاکہ وہ بلدیہ کی جانب سے عائد کردہ بھاری اخراجات، مشینری کی اجرت اور اضافی جرمانوں سے بچ سکیں، واضح رہے کہ یہ گھر دو اپارٹمنٹس پر مشتمل تھا اور اس کا کل رقبہ لگ بھگ 160 مربع میٹر ہے۔
القدس گورنری نے اس بات پر زور دیا کہ ام طوبا کے قصبے میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایک منظم سفاکانہ پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینی باشندوں کو ان کی سرزمین سے بے دخل کر کے صہیونی آباد کاری کے منصوبوں کو فروغ دینا ہے۔
اسی تناظر میں وادی حلوہ انفارمیشن سینٹر کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گذشتہ ماہ اپریل کے دوران مقبوضہ بیت المقدس میں مسماری کی کارروائیوں میں شدید اضافہ ہوا، جہاں 26 تنصیبات کو مسمار کیا گیا، جن میں سے اکثر کو جبری طور پر خود مسماری کے ذریعے ڈھایا گیا۔
رپورٹ میں مزید واضح کیا گیا کہ مسماری کی یہ کارروائیاں سلوان کے علاقوں خصوصاً حی البستان، ام طوبا اور جبل مکبر میں مرکوز رہیں، جہاں فلسطینی آبادی کو اپنی ہی زمین سے بے دخل کرنے کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے۔
