استنبول – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج کی بحریہ فلسطینیوں کے حامی کارکنوں کے ایک نئے بیڑے کا مقابلہ کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے، جس کے بارے میں توقع ہے کہ وہ غزہ کی پٹی پر عائد بحری محاصرے کو توڑنے کی ایک نئی کوشش کے تحت ترکیہ کے شہر مرمریس سے روانہ ہوگا۔
یہ پیش رفت قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے یونانی جزیرے کریت کے قریب بین الاقوامی پانیوں میں گلوبل صمود فلوٹیلا کو روکنے اور اس میں شریک درجنوں افراد کو حراست میں لینے کے چند روز بعد سامنے آئی ہے، جس اقدام کو بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
اس سے قبل بھی قابض اسرائیلی افواج بین الاقوامی پانیوں میں عالمی گلوبل صمود فلوٹیلا سے تعلق رکھنے والے درجنوں بحری جہازوں پر حملہ کر چکی ہیں اور سینکڑوں کارکنوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں سے بہت سوں نے قابض صہیونی عقوبت خانوں میں بدترین تشدد کا نشانہ بننے کی اطلاع دی ہے۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے بیڑے کی تنظیم سازی ترکیہ کی انسانی امدادی تنظیم (آئی ایچ ایچ) کر رہی ہے، جس نے اس سے قبل سنہ 2010 میں ماوی مرمرہ بیڑے کی قیادت کی تھی۔
اسرائیلی چینل 13 کی رپورٹ کے مطابق اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ آنے والی مہم گذشتہ مہم کے مقابلے میں زیادہ بڑی اور منظم ہو سکتی ہے، جبکہ قابض اسرائیل کو اس بات کا خوف لاحق ہے کہ جہاز پر مسلح کارکن موجود ہو سکتے ہیں، جس کی منظم کرنے والے ادارے عموماً تردید کرتے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی بحریہ نے اپنی تیاریوں کو مزید سخت کر دیا ہے اور اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ محاصرے کو طاقت کے ذریعے توڑنے کی کسی بھی کوشش کو ناکام بنا دیا جائے گا۔
یہ تبدیلیاں ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہیں جب حال ہی میں یورپی بیڑے میں شریک ہونے والے کارکنوں نے قابض اسرائیل پر شدید تشدد کے استعمال کے ساتھ ساتھ پکڑے گئے جہازوں کے نیویگیشن اور مواصلاتی نظام کو معطل کرنے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
اسی تناظر میں درجنوں کارکن رہائی کے بعد استنبول پہنچ چکے ہیں، جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک بڑے بیڑے کی تیاریاں جاری ہیں جس میں 100 سے 150 جہاز شامل ہو سکتے ہیں، یہ جہاز یورپی ممالک کی شرکت کے ساتھ وسیع تر بین الاقوامی کوششوں کے تحت ترکیہ کی بندرگاہوں سے روانہ ہوں گے۔
علاوہ ازیں مختلف علاقوں سے غزہ کی طرف بحری سفر کی کوششیں جاری ہیں، جہاں مشن ربیع سنہ 2026 کے نام سے اٹلی اور سپین سے درجنوں کشتیوں پر مشتمل بحری قافلے روانہ ہوئے ہیں، جبکہ اس میں شرکت کو وسعت دے کر متعدد ممالک کے 100 سے زائد جہازوں کو شامل کرنے کا منصوبہ ہے۔
یہ تحرکات سنہ 2010 کے ماوی مرمرہ بیڑے کے واقعے کی یاد تازہ کر رہے ہیں جس میں دس ترک رضاکار شہید ہوئے تھے اور جس کے نتیجے میں ترکیہ اور قابض اسرائیل کے درمیان سفارتی بحران پیدا ہو گیا تھا، اس کے ساتھ ساتھ محاصرہ توڑنے کی گذشتہ کوششیں بھی ذہنوں میں تازہ ہو رہی ہیں جن میں سنہ 2008 میں غزہ پہنچنے والے جہاز نمایاں تھے، جبکہ غزہ کی پٹی پر مسلط محاصرے کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر بحث اب بھی جاری ہے۔
