مقبوضہ فلسطین – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطین جرنلسٹ فورم فلسطین نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں انسانی حقوق کی صورتحال سے متعلق اقوام متحدہ کی خصوصی مبصر فرانسسکا البانیز کو غزہ کی پٹی میں صحافیوں کے خلاف قابض اسرائیلی جرائم کے بارے میں ایک مفصل قانونی و انسانی حقوق کی رپورٹ پیش کر دی ہے۔
یہ رپورٹ اقوام متحدہ کی جانب سے انسانی حقوق اور میڈیا کے اداروں کو صحافت کو نشانہ بنائے جانے کے حوالے سے شہادتیں فراہم کرنے کی دعوت کے جواب میں پیش کی گئی، جس کے لیے گذشتہ اپریل کے اختتام تک کی مہلت دی گئی تھی۔
فورم نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل اکتوبر سنہ 2023ء سے منظم طریقے سے بیانیہ کی نسل کشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کا مقصد سچائی کے علمبرداروں کو نشانہ بنا کر حقیقت کا قتل کرنا ہے۔
رپورٹ میں 262 صحافیوں کی شہادت کی دستاویزی تصدیق کی گئی ہے اور واضح کیا گیا ہے کہ صحافیوں کے قتل کے یہ واقعات اتفاقیہ نہیں بلکہ سوچی سمجھی نیت کے تحت کیے گئے تھے۔ اس ضمن میں شہید صحافی حسن اصلیح، مریم ابو دقہ اور انس الشریف کی شہادتوں کی واضح مثالیں پیش کی گئیں جنہیں صحافتی وردی اور واضح علامات کے باوجود نشانہ بنایا گیا۔
فورم نے صحافیوں کو نشانہ بنائے جانے کو ان کے خاندانوں پر حملوں سے بھی جوڑا ہے جو کہ پیشہ ورانہ دباؤ اور خوف زدہ کرنے کا ایک حربہ ہے۔ اس سلسلے میں صحافی وائل الدحدوح کے اہل خانہ پر حملے کا ذکر کیا گیا جس کے نتیجے میں ان کی اہلیہ اور بچے شہید ہوئے، اسی طرح صحافی مصطفی الصواف کے گھر پر بمباری کا تذکرہ بھی کیا گیا جس میں وہ خود اور ان کے کئی بچے اور رشتہ دار شہید کر دیے گئے تھے۔
فورم نے اقوام متحدہ کو غزہ پر جارحیت کے آغاز سے اب تک تین صحافیوں کی جبری گمشدگی پر اپنی شدید تشویش سے بھی آگاہ کیا اور ان کے انجام کے بارے میں فوری انکشاف کا مطالبہ کیا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ تقریباً 50 صحافی تاحال غیر انسانی حالات میں قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید ہیں۔
بنیادی ڈھانچے کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ غزہ کی پٹی میں میڈیا کے سینکڑوں دفاتر کو تباہ کر دیا گیا ہے جس سے ادارہ جاتی صحافتی کام تقریباً مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔ اس کے علاوہ 400 سے زائد صحافی زخمی ہوئے ہیں جن میں سے بعض براہ راست حملوں کے نتیجے میں اعضاء کے کٹ جانے اور مستقل معذوری کا شکار ہو چکے ہیں۔
فورم نے اقوام متحدہ کی مبصر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان حقائق کو جنرل اسمبلی میں پیش کی جانے والی اپنی آئندہ رپورٹ میں شامل کریں اور صحافیوں کو نشانہ بنانے پر ایک آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کریں، کیونکہ یہ بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔
رپورٹ میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ عالمی میڈیا کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے دباؤ ڈالا جائے اور میدان عمل میں موجود صحافیوں کے لیے تحفظ کا فوری طریقہ کار وضع کیا جائے۔
فورم برائے صحافیان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اس وقت یہ رپورٹ پیش کرنے کا مقصد ان خلاف ورزیوں کو بین الاقوامی ریکارڈ کا حصہ بنانا اور ذمہ داروں کو سزا سے بچنے سے روکنا ہے۔
