غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک قابض صہیونی عدالت نے منگل کو شمالی غزہ کی پٹی میں واقع کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی گرفتاری میں نام نہاد غیر قانونی جنگجو قانون کے تحت توسیع کر دی ہے۔ ان پر کسی بھی قسم کا کوئی الزام عائد کیے بغیر یہ توسیع ایک ایسی کارروائی ہے جس نے فلسطینی اسیران کی حالت زار پر ایک بار پھر انسانی حقوق کے حلقوں میں شدید تنقید کو جنم دیا ہے۔
اسرائیلی تنظیم ڈاکٹرز فار ہیومن رائٹس نے ایک بیان میں اطلاع دی ہے کہ بئر السبع کی مرکزی عدالت نے ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو غیر معینہ مدت تک جیل میں رکھنے کی منظوری دی ہے اور ان کے خلاف باضابطہ فرد جرم عائد نہ ہونے کے باوجود ان کی فوری رہائی کی درخواست مسترد کر دی ہے۔
تنظیم نے مزید کہا کہ ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو اس وقت النقب جیل میں انتہائی سفاک حالات میں رکھا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر کی بگڑتی ہوئی صحت کے باوجود انہیں ان کی ادویات سے محروم رکھا جا رہا ہے اور انہیں ضروری طبی امداد بھی فراہم نہیں کی جا رہی جو ایک قیدی اور مریض کے طور پر ان کے بنیادی حقوق کی سنگین پامالی ہے۔
گرفتاری میں توسیع کا یہ فیصلہ غیر قانونی جنگجو قانون کے استعمال پر قابض اسرائیل کو درپیش بڑھتی ہوئی تنقید کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ یہ قانون کسی بھی شخص کو واضح الزامات یا مقدمے کے بغیر طویل عرصے تک حراست میں رکھنے کی اجازت دیتا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ قانون غزہ کی پٹی سے گرفتار کیے گئے افراد کے خلاف بڑے پیمانے پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ شمالی غزہ کی پٹی کے ممتاز طبی عملے میں شمار ہوتے ہیں۔ وہ کمال عدوان ہسپتال کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں جو شمالی غزہ گورنری کی اہم ترین طبی سہولیات میں سے ایک ہے۔ اس ہسپتال نے غزہ پر جاری مسلسل محاصرے اور فوجی کشیدگی کے دوران زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے۔
ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کا نام غزہ پر ہونے والی حالیہ جنگ کے دوران سامنے آیا جب طبی نظام پر دباؤ میں شدید اضافہ ہوا تھا۔ انہوں نے ادویات اور طبی سامان کی شدید قلت، بجلی کی بندش اور زخمیوں کی بڑی تعداد کے مسلسل آنے جیسی تباہ کن صورتحال میں اپنے طبی عملے کے ساتھ کام جاری رکھا۔
انسانی حقوق کے ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ طبی عملے کو نشانہ بنانا یا انہیں گرفتار کرنا غزہ کے صحت کے نظام کی تباہی کو مزید تیز کرتا ہے جو پہلے ہی محاصرے کے نتیجے میں دائمی بحرانوں کا شکار ہے، اس کے علاوہ فوجی کارروائیوں کے دوران ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے کو بھی وسیع پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
ان کی مسلسل حراست کے پیش نظر بین الاقوامی انسانی حقوق اور طبی تنظیموں کی جانب سے ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی رہائی اور انہیں ضروری طبی دیکھ بھال کی ضمانت دینے کے مطالبے زور پکڑ رہے ہیں، اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ حراستی حالات میں ان کی صحت مزید بگڑ سکتی ہے۔
