بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جنوبی لبنان میں میدانی محاذ پر گھمسان کی لڑائی کا سلسلہ جاری ہے، جہاں دو طرفہ فوجی کارروائیاں اس بات کی تصدیق کر رہی ہیں کہ اعلان کردہ جنگ بندی زمین پر تناؤ کو کم کرنے یا استحکام پیدا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے۔
عبرانی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ بچاؤ کے کاموں پر مامور ہیلی کاپٹروں نے قابض اسرائیلی فوج کے متعدد اہلکاروں کو شمالی قابض اسرائیل کے ہسپتالوں میں منتقل کیا ہے۔ یہ کارروائی جنوب لبنان کے ایک مکان میں حزب اللہ کے گھات لگا کر کیے گئے حملے میں ایک فوجی یونٹ کے پھنس جانے کے بعد عمل میں لائی گئی۔
ذرائع نے وضاحت کی ہے کہ قابض اسرائیلی فوج اس وقت علاقے میں پھنسی ہوئی اپنی فورس کو نکالنے کے لیے شدید فائرنگ کی چھتری تلے کام کر رہی ہے، تاہم نقصانات کی صحیح تعداد کے بارے میں مزید تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
دوسری جانب حزب اللہ نے ملک کے جنوب میں واقع قصبے الطیبہ میں قابض فوج پر دو حملوں کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم نے واضح کیا کہ اس نے ایک ڈرون طیارے کے ذریعے قابض فوجیوں کے اجتماع کو نشانہ بنایا اور اسی قصبے میں فوجیوں کو نکالنے کے لیے آنے والی ایک عسکری یونٹ پر بھی حملہ کیا، جس میں براہ راست اور یقینی طور پر جانی نقصان پہنچانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
حزب اللہ کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں لبنان اور اس کے عوام کے دفاع اور سیز فائر معاہدے کی قابض دشمن کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیوں اور جنوبی دیہاتوں پر جاری جارحیت کے جواب میں کی گئی ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب قابض اسرائیل کی اشتعال انگیزی مسلسل جاری ہے، باوجود اس کے کہ 17 اپریل سے 10 روزہ جنگ بندی نافذ تھی جسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید تین ہفتوں کے لیے بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ دونوں فریقین ایک دوسرے پر معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کر رہے ہیں۔
امن معاہدے سے قبل، 2 مارچ سے قابض افواج نے لبنان پر وسیع پیمانے پر جارحیت کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2496 افراد شہید اور 7725 زخمی ہوئے، جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔
قابض افواج اب بھی جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر قابض ہیں، جن میں سے بعض دہائیوں سے ان کے زیر تسلط ہیں، جبکہ حالیہ جارحیت کے دوران وہ سرحد کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک گھس آئی تھیں، جس سے بین الاقوامی کوششوں کے باوجود میدانی کشیدگی برقرار رہنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں۔
