Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

سکیورٹی اہلکاروں کی شہادتوں سے غزہ میں بحران گہرا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کی لہو رنگ فضاؤں میں امن و امان کے سفیروں اور پولیس اہلکاروں کو جس بیدردی سے نشانہ بنایا جا رہا ہے، وہ محض جنگی جنون کی وقتی لہر نہیں بلکہ ایک گہرے اور سیاہ صہیونی سازش کا حصہ ہے۔ تجزیہ نگاروں کا ماننا ہے کہ یہ خونیں لکیریں دراصل غزہ کے پورے معاشرتی ڈھانچے کو مسمار کرنے کے لیے کھینچی جا رہی ہیں تاکہ اس پاک سرزمین کو فوضیٰ اور انتشار کے جہنم میں دھکیلا جا سکے۔

معاشرتی بقا کی ریڑھ کی ہڈی پر کاری ضرب

سکیورٹی امور کے نباض رامی ابو زبیدہ کے مطابق پولیس اہلکاروں کا خون بہانا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ دشمن کے ناپاک اور سوچے سمجھے عزائم کا حصہ ہے۔ انہوں نے اس المیے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں یہ سکیورٹی ادارے محض وردی پوش افراد کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ وہ بنیاد ہیں جس پر عام فلسطینی کی زندگی کا دارومدار ہے۔ بازاروں کی رونقیں برقرار رکھنا ہو، بھوکے بچوں تک امداد کی بحالی ہو یا شرپسندوں کو لگام ڈالنا، یہ اہلکار ہی معاشرے کی ڈھال ہیں۔

ابو زبیدہ نے تڑپتے ہوئے دل کے ساتھ بیان کیا کہ ان نہتے محافظوں کو نشانہ بنا کر قابض اسرائیل کوئی فوجی فتح حاصل نہیں کر رہا بلکہ وہ ایک ایسا خلا پیدا کرنا چاہتا ہے جہاں قانون کی جگہ لاقانونیت کا راج ہو۔ اس کا مقصد فلسطینیوں کی باہمی جڑت کو ختم کرنا اور غداروں و آلہ کاروں کے لیے راستہ صاف کرنا ہے تاکہ استقامت کی اس عظیم دیوار میں دراڑیں ڈالی جا سکیں۔

تنظیم کی بساط لپیٹنے اور بدامنی کا زہر گھولنے کی منظم کوشش

سیاسی کارکن حمد شاہین نے اس صورتحال کو صہیونی فسطائیت کا شاخسانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ قابض اسرائیل کی یہ سفاکیت ایک ایسی تاریک پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد غزہ کے انتظامی ڈھانچے کی دھجیاں اڑانا ہے۔

شاہین نے بتایا کہ سنہ 2023ء کے خونی اکتوبر سے اب تک 2800 سے زائد سکیورٹی سپوت اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔ ستم ظریفی تو یہ ہے کہ سیز فائر کے دعووں کے دوران بھی ان کی شہادتوں کا سلسلہ نہ رکا، جو اس بات کی گواہی ہے کہ دشمن کسی بھی ایسے ہاتھ کو کاٹ دینا چاہتا ہے جو فلسطینیوں کو نظم و ضبط کی لڑی میں پرو کر رکھے۔

ان کے مطابق یہ محض سکیورٹی اہلکاروں کا قتل نہیں بلکہ یہ غزہ کے صدموں سے چور معاشرے کے خلاف ایک ہمہ گیر جنگ ہے۔ جب امدادی قافلوں کے محافظ ہی نہ رہیں گے تو بھوک اور بدامنی کا عفریت پورے معاشرے کو نگل لے گا۔ یہ قابض اسرائیل کا وہ بھیانک خواب ہے جس میں وہ غزہ کو ایک ایسی بستی بنانا چاہتا ہے جہاں کوئی آزاد انتظامیہ نہ ہو اور ہر طرف خوف کا سایہ ہو۔

عالمی ضمیر کی مجرمانہ خاموشی

غزہ میں وزارت داخلہ نے اس وحشت پر عالمی تنظیموں اور ریڈ کراس کی بین الاقوامی کمیٹی کے مجرمانہ سکوت پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ ان نہتے خادموں کے قتل پر خاموشی دراصل قابض اسرائیل کی پشت پناہی کے مترادف ہے، جو اسے بین الاقوامی قوانین کے سائے میں تحفظ یافتہ اداروں کی نسل کشی پر اکسا رہی ہے۔

یاد رہے کہ سیز فائر کے نفاذ کے دعووں کے باوجود قابض اسرائیل کی درندگی تھمنے کا نام نہیں لے رہی۔ اب تک 972 فلسطینی سیز فائر کی خلاف ورزیوں کی بھینٹ چڑھ چکے ہیں جبکہ 2235 زخمی اپنے زخموں سے چور ہیں۔

یہ لہو رنگ داستان اس نسل کشی کا تسلسل ہے جو 8 اکتوبر سنہ 2023ء کو امریکی سرپرستی میں شروع کی گئی تھی۔ اس سفاکیت نے اب تک 72 ہزار سے زائد چراغ گل کر دیے ہیں اور پونے دو لاکھ کے قریب مائیں، بہنیں اور بچے زخمیوں کی صورت میں صہیونی بربریت کا نوحہ پڑھ رہے ہیں۔ غزہ کی 90 فیصد بستیوں کا ملبہ اب دشمن کی اس شکست خوردہ ذہنیت کا گواہ ہے جو جیتے جاگتے شہروں کو قبرستان میں بدلنے پر تلی ہوئی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan