Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ میں کشیدگی برقرار، اسرائیلی کارروائیوں میں 13 افراد شہید

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے شمالی اور جنوبی علاقوں میں قابض اسرائیل کی فضائی اور توپ خانے کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں 13 شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ ہلاکتیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب قابض دشمن کی جانب سے مشرقی علاقوں کو نشانہ بنا کر سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔

ناصر میڈیکل کمپلیکس کے مطابق جنوبی غزہ میں خان یونس کے علاقے مواصی میں بئر 19 کے مقام پر پولیس کی ایک گاڑی پر کیے گئے حملے میں 8 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ بعد ازاں طبی ذرائع نے تصدیق کی کہ اس سفاکانہ حملے میں شہداء کی تعداد بڑھ کر 8 ہو گئی ہے۔

ان شہداء میں سے جن کی شناخت ہو سکی ہے ان میں عبدالمنعم محمد مقداد، عمر صالح معمر، عبدالرحمن عبدالرحیم برکات، محمد نادر الدواہیدی، محمد حمدی مقداد اور حسام شیخ العید شامل ہیں۔

شمالی غزہ میں کمال عدوان ہسپتال کے قریب الطنانی خاندان کے گھر پر قابض دشمن کے توپ خانے نے گولہ باری کی جس کے نتیجے میں آج شام ایک خاتون اسلام محمد کرسوع اور دو سگے بہن بھائی حمزہ اور نایا خالد طنانی جام شہادت نوش کر گئے۔

اسی طرح شمالی غزہ میں کمال عدوان ہسپتال کے قریب ہی الطنانی خاندان کے ایک اور گھر پر گولہ باری سے مزید دو فلسطینی شہید ہو گئے۔

وزارت داخلہ کے مطابق غزہ شہر کے شمال مغرب میں واقع شیخ رضوان پولیس سٹیشن کے قریب قابض اسرائیل کے طیاروں نے پولیس کے ایک گشتی دستے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد اہلکار شہید اور زخمی ہوئے۔ پولیس کے محکمہ تعلقات عامہ نے بتایا کہ اس حملے میں اپنے فرائض کی ادائیگی میں مصروف افسران اور جوانوں کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں کیپٹن عمران عمر اللدعہ اور لیفٹیننٹ احمد ابراہیم القصاص شہید جبکہ دو دیگر اہلکار شدید زخمی ہوئے۔

جمعہ کی علی الصبح شمالی غزہ کے قصبے بیت لاہیا میں سیز فائر کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قابض اسرائیل کی افواج نے فائرنگ کی جس سے ایک بچی زخمی ہو گئی۔ شمالی غزہ میں طبی خدمات کے ڈائریکٹوریٹ نے اپنے بیان میں بتایا کہ ان کے عملے نے ایک 10 سالہ بچی کو شدید زخمی حالت میں غزہ شہر کے الشفاء ہسپتال منتقل کیا ہے۔ اس بچی کو بیت لاہیا پروجیکٹ کے علاقے میں مقیم شہریوں اور نازحین پر کی جانے والی فائرنگ کے دوران نشانہ بنایا گیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ یہ بچی اس وقت سر میں گولی لگنے سے زخمی ہوئی جب وہ نازحین کے لیے قائم کردہ خلیفہ سکول کے اندر موجود تھی۔ گواہوں نے مزید بتایا کہ بیت لاہیا کے شمال اور مشرق میں تعینات اسرائیلی ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں نے جمعرات کی شام سے ہی علاقے پر شدید فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ شروع کر رکھا تھا۔

اسی طرح جنوبی غزہ میں خان یونس کے مختلف محلوں پر بھی قابض دشمن کی گاڑیوں نے شدید فائرنگ کی۔

قابض اسرائیل کی افواج غزہ کی پٹی میں پناہ گزینوں کے ٹھکانوں پر فضائی اور زمینی حملوں کے ذریعے سیز فائر معاہدے کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نام نہاد یلو لائن کے اندر عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہ کرنے کا عمل بھی جاری ہے جبکہ سامان کی نقل و حمل، امداد کی فراہمی اور سفر پر ظالمانہ پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 796 ہو چکی ہے جبکہ 2245 افراد زخمی ہوئے ہیں اور اب تک مختلف مقامات سے 761 لاشیں نکالی جا چکی ہیں۔

سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس بدترین نسل کشی کے نتیجے میں اب تک مجموعی طور پر 72,568 فلسطینی شہید اور 172,338 زخمی ہو چکے ہیں، جو غزہ پر مسلط کی گئی اس طویل جنگ کی بھاری انسانی قیمت کا واضح ثبوت ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan