Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ میں بلدیاتی انتخابات کا آغاز، قانونی اقدامات پر سوالات

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) آج ہفتے کو فلسطینی مقامی اداروں (بلدیاتی) انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل شروع ہو گیا ہے۔ یہ انتخابی عمل ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب انتخابی قانون کی امتیازی نوعیت، متعدد حلقوں میں مسابقت کے فقدان اور بعض کونسلوں کی محض ‘اتفاق رائے’ (بلامقابلہ) کی بنیاد پر تشکیل پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

سنٹرل الیکشن کمیشن کے سابق رکن حسن ابو لبدہ نے اس حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ متعدد مقامی اداروں میں مقابلے کی فضا کا نہ ہونا جمہوری عمل کی روح کو مجروح کرتا ہے اور شہریوں کو اپنے نمائندوں کے انتخاب اور ان کے احتساب کے بنیادی حق سے محروم کر دیتا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ بند کمروں کے معاہدوں کے ذریعے بلدیاتی کونسلوں کی تشکیل ایسے اداروں کو جنم دے رہی ہے جنہیں براہ راست عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں ہے بلکہ یہ محض داخلی جوڑ توڑ کا نتیجہ ہیں جو لازمی طور پر شہریوں کے حقیقی ارادوں کی عکاسی نہیں کرتے۔

عوام سے لاتعلق اور غیر نمائندہ ادارے

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کونسلیں نہ تو عام لوگوں کی ترجمانی کرتی ہیں اور نہ ہی حقیقی معنوں میں ان کی نمائندہ ہیں بلکہ یہ محض نامزد کردہ ڈھانچے ہیں۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کے طریقے شفافیت اور گڈ گورننس کے اصولوں کو کمزور کرتے ہیں اور انتخاب پر مبنی نمائندگی کے فقدان کی وجہ سے شہریوں کے لیے ان اداروں کا محاسبہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔

اسی تناظر میں معروف قانون دان اور تجزیہ نگار صلاح الدین موسیٰ نے کہا کہ موجودہ بلدیاتی انتخابات تحریک فتح کے لیے ایک تقدیر ساز امتحان کی حیثیت رکھتے ہیں۔ موجودہ غیر معمولی حالات کے پیش نظر یہ خدشہ موجود ہے کہ شاید یہ مغربی کنارے میں موجودہ مرحلے کے آخری انتخابات ثابت ہوں جس نے سیاسی اور تنظیمی داؤ کو مزید بڑھا دیا ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ تحریک فتح کو اس بات کا شدید خوف ہے کہ اگر ان انتخابات میں اسے اپنی ہی منحرف فہرستوں کے ہاتھوں شکست ہوئی تو اس سے ان سرکاری حلقوں کی ساکھ بری طرح متاثر ہوگی جنہوں نے آفیشل فہرستیں تیار کی تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک نے مقامی اداروں پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے لیے ‘اتفاق رائے’ کی کوششوں کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔

صلاح الدین موسیٰ نے تحریک کے اندر پائی جانے والی داخلی بغاوت کی لہر کی جانب بھی توجہ دلائی جہاں بہت سے امیدواروں نے سرکاری فریم ورک سے باہر نکل کر آزاد حیثیت میں انتخابات میں حصہ لیا ہے جو تحریک کے اندرونی اختلافات کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بعض قیادت کی جانب سے غیر سرکاری فہرستوں کی حمایت کے خلاف سخت گیر موقف اپنایا گیا ہے جس کے مستقبل میں گہرے تنظیمی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ انتخابی منظرنامے میں بعض علاقوں میں قبائلی اور خاندانی عصبیت کو ہوا دی گئی ہے جبکہ بعض دیگر مقامات پر اسے دانستہ طور پر بکھیر دیا گیا ہے جو معاشرتی تقسیم اور بکھراؤ کی واضح علامت ہے۔ یہ صورتحال ووٹنگ کے تناسب پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہے جہاں بعض علاقوں میں ووٹرز کا جوش و خروش دیدنی ہے تو کہیں شدید سرد مہری پائی جاتی ہے۔

معاشرتی تقسیم میں اضافہ

انہوں نے یہ بھی کہا کہ انتخابی عمل کے دوران بعض شہروں میں شدید داخلی تناؤ دیکھا گیا جو امیدواروں کے درمیان الزامات کی بوچھاڑ اور انتخابی مباحثوں کے انعقاد پر مقامی میڈیا کو ملنے والی دھمکیوں تک جا پہنچا ہے۔

انتخابی طریقہ کار کے حوالے سے پولنگ سٹیشنز کے دروازے صبح سات بجے کھول دیے گئے جہاں تقریباً 10 لاکھ 30 ہزار ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ یہ ووٹرز 491 مراکز میں قائم کردہ 1922 پولنگ سٹیشنز پر شام سات بجے تک ووٹ ڈال سکیں گے۔

ان انتخابات میں 90 بلدیاتی کونسلیں شامل ہیں جن میں 321 فہرستوں کے درمیان مقابلہ ہے اور مجموعی طور پر 3773 امیدوار میدان میں ہیں۔ اس کے علاوہ 93 دیہاتی کونسلوں کی نشستوں کے لیے 1358 امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہو رہا ہے۔

یہ انتخابات 19 نومبر سنہ 2025ء کو جاری ہونے والے ایک نئے قانون کے تحت منعقد کیے جا رہے ہیں جس کے مطابق بلدیاتی کونسلوں میں تناسبی نمائندگی (اوپن لسٹ) کا نظام اپنایا گیا ہے جبکہ دیہاتی کونسلوں میں اکثریتی نظام (انفرادی نامزدگی) کے تحت ووٹنگ ہو رہی ہے۔

طریقہ کار کے مطابق بلدیاتی کونسلوں کے انتخابات میں ووٹر پہلے کسی ایک فہرست کا انتخاب کرتا ہے اور پھر اس میں سے اپنے پسندیدہ پانچ امیدواروں کو نشان زد کرتا ہے جبکہ دیہاتی کونسلوں کے لیے بیلٹ پیپر پر درج ناموں میں سے براہ راست پانچ امیدواروں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

ووٹوں کی گنتی کا عمل پولنگ سٹیشنز کے اندر ہی مبصرین، نامہ نگاروں اور امیدواروں کے نمائندوں کی موجودگی میں مکمل کیا جائے گا۔ نتائج کو سرکاری دستاویزات میں درج کر کے پولنگ سٹیشنز کے باہر آویزاں کیا جائے گا جس کے بعد یہ تمام ڈیٹا مرکزی مرکز کو منتقل کر دیا جائے گا۔

سنٹرل الیکشن کمیشن کی جانب سے کل بروز اتوار ایک پریس کانفرنس میں حتمی نتائج کا اعلان کیا جانا متوقع ہے جبکہ ان نتائج کو اعلان کے ایک ہفتے کے اندر انتخابی عدالت میں چیلنج کیا جا سکے گا۔

واضح رہے کہ یہ انتخابی گہما گہمی ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب قابض اسرائیل سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر اپنی سفاکیت اور نسل کشی کی وحشیانہ جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس صہیونی جارحیت کے نتیجے میں اب تک 2 لاکھ 44 ہزار سے زائد فلسطینی جام شہادت نوش کر چکے ہیں یا زخمی ہوئے ہیں جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس کے علاوہ 11 ہزار سے زائد فلسطینی تاحال لاپتہ ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں شہری بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ قابض دشمن کی بمباری سے غزہ کی پٹی میں ہر طرف تباہی کے مناظر ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan