غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے خلاف ورزیوں کا سلسلہ مسلسل 198 ویں دن بھی جاری ہے اور اس دوران میدانی سطح پر ایسی سنگین سفاکیت دیکھنے میں آ رہی ہے جس میں غزہ کی پٹی کے مختلف علاقوں میں رہائشی مکانات اور شہری تنصیبات کو بارود سے اڑانے اور مسمار کرنے کی کارروائیاں شامل ہیں۔
طبی اور مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ہفتہ کی صبح ننھی بچی دعاء محمد سلیمان رحیم ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کر گئی جو اسے چند روز قبل وسطی غزہ کی پٹی میں دیر البلح کے مغرب میں قابض دشمن کی فائرنگ کے نتیجے میں آئے تھے۔
گذشتہ جمعہ کے روز قابض اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی پے در پے خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ایک خاتون اور تین بچوں سمیت 13 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
میدانی صورتحال کی تفصیلات کے مطابق ہفتہ کی صبح قابض دشمن کی فوجی گاڑیوں نے وسطی غزہ کی پٹی میں واقع المغازی کیمپ کے مشرقی علاقوں کی جانب اندھا دھند فائرنگ کی، جبکہ جنوب میں خان یونس شہر کے مشرقی علاقوں کو بھی توپ خانے کی گولہ باری اور فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا جہاں ایک سے زائد مقامات پر دوبارہ بمباری کی گئی۔
اسی طرح قابض اسرائیل کی جنگی کشتیوں نے غزہ شہر کے ساحلوں پر شدید گولہ باری کی، جس کے ساتھ ساتھ قابض افواج نے شہر کے مشرقی حصے میں شہری تنصیبات کو دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیاں بھی کیں۔
خان یونس کی فضائیں قابض دشمن کے ڈرون طیاروں کی شدید پروازوں سے گونجتی رہیں اور اسی دوران شہر کے گرد و نواح میں تعینات فوجی گاڑیوں سے مسلسل فائرنگ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
قابض صہیونی دشمن کی جانب سے یہ مجرمانہ کارروائیاں ایک ایسے وقت میں کی جا رہی ہیں جب غزہ کی پٹی پر دو سالہ طویل جنگ کے بعد عرب ممالک اور امریکہ کی ثالثی میں 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو طے پانے والا سیز فائر معاہدہ نافذ العمل ہے۔
فلسطینی وزارت صحت کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک شہداء کی تعداد 791 ہو گئی ہے اور 2235 افراد زخمی ہوئے ہیں، جبکہ 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے جاری اس نسل کشی میں شہداء کی مجموعی تعداد تقریباً 72,568 ہو چکی ہے اور 1,72,338 فلسطینی زخمی ہو چکے ہیں۔
