غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے غزہ کی پٹی میں پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر قابض اسرائیلی افواج کے بڑھتے ہوئے حملوں کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ یہ حملے ایک ایسے منظم تسلسل کا حصہ ہیں جس کا مقصد عوامی نظم و نسق کے ڈھانچے کو کمزور کرنا اور انتشار و بدامنی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ عام شہریوں کے امن و سلامتی کی قیمت پر قابض اسرائیل کے آلہ کاروں اور مسلح گروہوں کی نقل و حرکت کو آسان بنایا جا سکے۔
مرکز کے عملے کی دستاویزی رپورٹ کے مطابق 24 اپریل سنہ 2026ء کی دوپہر ایک قابض اسرائیلی ڈرون نے پولیس کی ایک گشتی گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں دو پولیس اہلکار شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ یہ حملہ شہر کے شمال مغرب میں واقع شیخ رضوان پولیس سٹیشن کے قریب کیا گیا۔ یہ سفاکانہ حملہ ایک ایسے علاقے میں کیا گیا جو شہریوں سے بھرا ہوا تھا جس کی وجہ سے معصوم لوگوں کی زندگیوں کو براہ راست خطرہ لاحق ہوا۔
اسی تناظر میں ایک ڈرون طیارے نے 23 اپریل سنہ 2026ء کی شام خان یونس کے جنوب مغرب میں واقع المسلخ کے علاقے میں ایک سکیورٹی ناکے پر موجود نوجوانوں کے گروہ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 22 سالہ نوجوان یحییٰ مروان یوسف ابو شلہوب شہید جبکہ دیگر کئی افراد زخمی ہو گئے۔
21 اپریل سنہ 2026ء کی آدھی رات کے بعد ایک قابض اسرائیلی طیارے نے خان یونس کے مغرب میں واقع حی الامل کے شمالی حصے میں ایک سکیورٹی ناکے پر بمباری کی جس کے نتیجے میں تین شہری موقع پر شہید ہو گئے جبکہ بعد ازاں طبی ذرائع نے ایک چوتھے زخمی کے دم توڑ جانے کی تصدیق کی۔
20 اپریل سنہ 2026ء کو ایک قابض اسرائیلی ڈرون نے بوریج کیمپ میں جودہ چوک کے قریب سکیورٹی اہلکاروں کے ایک اجتماع کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک اہلکار شہید اور دوسرا شدید زخمی ہو گیا۔
اکتوبر سنہ 2025ء میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد سے غزہ مرکز برائے انسانی حقوق قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے سکیورٹی ناکوں اور پولیس چیک پوسٹوں پر حملوں کی شدت میں غیر معمولی اضافے کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ یہ حملے ان پولیس اہلکاروں پر کیے جاتے ہیں جو عوامی نظم و نسق برقرار رکھنے اور عوامی و نجی املاک کے تحفظ جیسی اپنی خالصتاً شہری ذمہ داریاں ادا کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو مفلوج کرنے اور دانستہ طور پر سکیورٹی کا خلا پیدا کرنے کی ایک مکارانہ صہیونی پالیسی کا حصہ ہے۔
اس تلخ حقیقت کے نتیجے میں قابض اسرائیل کے آلہ کاروں اور ملیشیا گروہوں کو پناہ گزینوں کے علاقوں میں گھسنے اور نہتے شہریوں کے اغوا اور املاک پر حملوں جیسی سنگین خلاف ورزیوں کے مواقع ملے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ باقاعدہ حفاظتی نظام کی عدم موجودگی میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر فراہم کی جانے والی امداد کی لوٹ مار کے واقعات بھی بڑھے ہیں۔
غزہ مرکز برائے انسانی حقوق نے واضح کیا ہے کہ امن و امان کی بحالی کے لیے کام کرنے والے پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں کو نشانہ بنانا اور پناہ گزینوں سے بھرے گنجان آباد علاقوں میں شہریوں کے اجتماعات پر حملے کرنا بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔ یہ کارروائیاں عالمی فوجداری عدالت کے روم کنونشن کے تحت جنگی جرائم کے زمرے میں آتی ہیں۔ مزید برآں عوامی نظم و نسق کو دانستہ طور پر سبوتاژ کرنا اور فوضیٰ پھیلانا بین الاقوامی سطح پر ممنوعہ اجتماعی سزا کی پالیسیوں کا حصہ ہے جو فلسطینیوں کی نسل کشی کا شاخسانہ ہے۔
مرکز نے خبردار کیا ہے کہ اس قسم کے حملوں کا تسلسل نہ صرف انسانی جانوں کے لیے مستقل خطرہ ہے بلکہ یہ معاشرتی ڈھانچے کو بھی تہہ و بالا کر رہا ہے اور شہریوں کے ذاتی تحفظ اور قانونی تحفظ کے بنیادی حق کو پامال کر رہا ہے۔
لہٰذا مرکز نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قانون نافذ کرنے والے شہری اداروں کو نشانہ بنانے کے اس سلسلے کو رکوانے کے لیے فوری اور موثر اقدام کرے تاکہ عام شہریوں کے لیے حقیقی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ مرکز نے ان جرائم کی آزادانہ بین الاقوامی تحقیقات شروع کرنے کا بھی مطالبہ کیا ہے تاکہ ذمہ داروں کا کڑا احتساب کیا جا سکے اور قابض اسرائیل کی طرف سے سزا سے بچنے کے طویل سلسلے کا خاتمہ ہو سکے۔
