غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی کے انتہائی شمالی گوشے میں جہاں موت کی سرحدیں شعلوں سے بغل گیر ہوتی ہیں وہاں حلاوہ کیمپ کے پناہ گزین ایک ایسی ہولناک حقیقت میں سانس لے رہے ہیں جو انسانی صبر کے ہر پیمانے کو توڑ چکی ہے۔ یہاں زندگی کا حساب ماہ و سال سے نہیں بلکہ ان سسکتے ہوئے لمحوں سے کیا جاتا ہے جو کسی نئے زخم یا کسی پیارے کے چھن جانے کے نوحے کے بغیر گذر جائیں۔ یہ کیمپ جسے تپتی دھوپ اور بارش سے بچاؤ کی عارضی پناہ گاہ ہونا تھا اب قابض اسرائیل کی سفاکیت کا ایک کھلا نشانہ بن چکا ہے جہاں زندگی کی معصوم خواہشیں بارود کی بو اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ میں دم توڑ رہی ہیں۔
براہ راست ہدف پر ٹھہرا ہوا کیمپ
حلاوہ کیمپ قابض اسرائیل کے زیر تسلط اس خوں آشام علاقے سے محض چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جسے پیلی لکیر کا نام دیا گیا ہے۔ یہی جغرافیائی قربت اس جگہ کو ایک ایسے مقتل میں بدل چکی ہے جہاں روزانہ معصوموں کا لہو رزق خاک بنتا ہے۔ یہاں کا کوئی بھی سورج ایسا نہیں ابھرتا جو اپنے ساتھ دشمن کی فائرنگ اور کسی لاش کے گرنے کی خبر نہ لائے۔
کیمپ کے منتظمین میں شامل مروان رضوان لرزتے ہوئے لہجے میں کہتے ہیں کہ ہم یہاں ہر پل موت کی آہٹ سنتے ہیں۔ یہاں خیموں کے کپڑے کے پردوں کے پیچھے بھی کوئی لمحہ جائے پناہ نہیں ہے کیونکہ دشمن کی سفاک گولی کسی بھی وقت خیموں کا سینہ چاک کر کے کسی معصوم کو ابدی نیند سلا سکتی ہے۔
ہمیں تو ہوا کی سرسراہٹ سے بھی ڈر لگتا ہے
چار بچوں کی مامتا کے سائے میں سسکتی زہر نصرہ اس وحشت ناک ماحول میں اپنی بکھری ہوئی زندگی کے ٹکڑے سمیٹنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔
وہ دل گرفتہ انداز میں کہتی ہیں کہ میرے معصوم بچے مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ ماں ہم دوسرے لوگوں کی طرح کھلے آسمان تلے بے خوف کیوں نہیں ٹہل سکتے؟ میں ان کے سوالوں کا کیا جواب دوں؟ ہمیں تو اب ہر آہٹ سے خوف آتا ہے یہاں تک کہ جب تیز ہوا چلتی ہے تو ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ گولیوں کی سنسناہٹ ہے۔
وہ ٹوٹتی ہوئی آواز میں مزید کہتی ہیں کہ ہم خوف کے سائے میں عجلت میں کھانا پکاتے ہیں اور اندھیرا ہوتے ہی چراغ گل کر دیتے ہیں تاکہ دشمن کی نظروں سے اوجھل رہ سکیں اور پھر لرزتے وجود کے ساتھ طویل اور پرہول راتوں کے کٹنے کا انتظار کرتے ہیں۔
ممنوعہ کھیل اور اغوا شدہ بچپن
عماد عسلیہ ان سادہ مگر جگر پاش تفصیلات کا تذکرہ کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ میرے چھوٹے بیٹے کو فٹ بال کھیلنے کا جنون ہے لیکن کئی ماہ سے اس کے ہاتھ اپنی گیند کو چھونے کے لیے ترس گئے ہیں۔ ہمیں ہمہ وقت یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ کہیں کھیلتے ہوئے فٹ بال اچھل کر پیلی لکیر کی طرف نہ چلی جائے اور میرا بچہ اسے لاتے ہوئے دشمن کی گولی کا نشانہ بن جائے۔
وہ ایک گہری آہ بھرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اس کیمپ میں اب قہقہے بھی ایک خواب بن گئے ہیں اور یہاں ہنسنا بھی جان لیوا خطرہ مول لینے کے مترادف ہے۔
کبھی نہ بھولنے والے زخم
ابھی چند روز ہی گذرے ہیں جب اس کیمپ نے تیرہ سالہ ادہم کا جنازہ اٹھایا جو رات کے اندھیرے میں اپنی پیاس بجھانے کے لیے پانی بھرنے نکلا تھا کہ قابض دشمن کی گولی نے اس کا سینہ چھلنی کر دیا۔ وہ کوئی جنگجو نہیں تھا بلکہ ایک معصوم بچہ تھا جو اپنی ایک بنیادی ضرورت کے لیے باہر نکلا تھا۔
اس سے قبل چوبیس سالہ نوجوان خلیل بھی اسی طرح کی بربریت کا نشانہ بن کر مٹی تلے جا سویا۔
ایک پڑوسی نے نمناک آنکھوں کے ساتھ کہا کہ ہم اپنے پیاروں کو روایتی سوگ کا موقع ملے بغیر ہی عجلت میں رخصت کر دیتے ہیں کیونکہ دشمن کی سفاکیت ہمیں جی بھر کر رونے کی مہلت بھی نہیں دیتی۔
انسانیت کا دم توڑتا تصور
عالمی اداروں کی رپورٹس کے مطابق غزہ کی پٹی کے باشندے اس وقت تاریخ کی بدترین نسل کشی اور جبری نقل مکانی کا سامنا کر رہے ہیں جہاں خوراک اور پانی کی بوند بوند کو ترسایا جا رہا ہے۔ حلاوہ جیسے کیمپوں میں دشمن کے مورچوں سے قربت نے اس اذیت کو دوچند کر دیا ہے۔
ایک بے گھر خاتون نے سسکتے ہوئے کہا کہ ہماری کوئی بڑی تمنا نہیں ہے ہم کوئی پرتعیش زندگی نہیں مانگتے ہم تو بس اتنا چاہتے ہیں کہ ہمیں وحشیانہ طریقے سے قتل کیے بغیر جینے کا حق دے دیا جائے۔
