Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

لبنان و اسرائیل کے درمیان جنگ بندی میں مزید توسیع، صورتحال بدستور حساس

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قابض اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیز فائر میں 3 ہفتوں کی توسیع کا اعلان کیا ہے، یہ جنگ بندی اتوار کے روز ختم ہونا تھی، جبکہ دوسری جانب قابض اسرائیلی افواج روزانہ کی بنیاد پر اس کی خلاف ورزیوں میں مصروف ہیں۔

یہ اعلان “ٹروتھ سوشل” پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ اور وائٹ ہاؤس میں لبنان اور قابض اسرائیل کے درمیان مشاورتی اجلاس کے دوسرے دور کے اختتام پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران سامنے آیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر اپنی پوسٹ میں بتایا کہ انہوں نے اپنے نائب جے ڈی وینس، وزیر خارجہ مارکو روبیو، قابض اسرائیل کے لیے وشنگٹن کے سفیر مائیک ہکابی اور لبنان کے لیے سفیر مشعل عیسیٰ کے ہمراہ اوول آفس میں قابض اسرائیل اور لبنان کے اعلیٰ سطح کے نمائندوں سے ملاقات کی۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ “مذاکرات بہترین رہے” اور اعلان کیا کہ قابض اسرائیل اور لبنان کے درمیان سیز فائر کی مدت میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی جائے گی۔

انہوں نے مستقبل قریب میں لبنان کے صدر جوزاف عون اور قابض اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو کی میزبانی کی خواہش کا بھی اظہار کیا۔

وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر نے باقاعدہ اعلان کیا کہ “لبنان اور قابض اسرائیل کے درمیان سیز فائر میں 3 ہفتوں کی توسیع کر دی گئی ہے” اور اشارہ دیا کہ عون اور بنجمن نیتن یاھو “آنے والے ہفتوں میں ملاقات کر سکتے ہیں”، تاہم انہوں نے کسی حتمی وقت کا تعین نہیں کیا۔

ٹرمپ نے کانفرنس کے دوران کہا کہ اس سال قابض اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدے کے حصول کا “بڑا موقع” موجود ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کو حزب اللہ کی فنڈنگ بند کرنی چاہیے، ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ “اگر قابض اسرائیل پر فائرنگ کی گئی تو وہ اپنا دفاع کرے گا لیکن اسے یہ کام احتیاط کے ساتھ کرنا ہو گا”۔

واضح رہے کہ ترامب نے 17 اپریل سنہ 2026ء کو لبنان میں قابض اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 10 روزہ قابل تجدید سیز فائر کا اعلان کیا تھا۔

جمعرات کے روز ہونے والا مذاکرات کا دور واشنگٹن میں لبنان کی سفیرہ ندی حمادہ اور قابض اسرائیل کے سفیر یحیئيل لیٹر کی سطح پر منعقد ہوا، بالکل اسی طرح جیسے 10 دن قبل واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کے ہیڈ کوارٹر میں دونوں فریقوں کے درمیان پہلا اجلاس ہوا تھا۔

رواں ماہ 14 اپریل کو 43 سالوں میں پہلی بار امریکی سرپرستی میں واشنگٹن میں لبنان اور قابض اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جس میں فریقین نے سیز فائر اور براہ راست مذاکرات شروع کرنے پر اتفاق کیا تھا جن کے وقت اور مقام کا تعین بعد میں ہونا تھا۔

لیکن قابض اسرائیل اس “کمزور سیز فائر” کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں شہادتیں، زخمی اور بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے، جبکہ حزب اللہ نے اس اشتعال انگیزی کے جواب میں جنوبی لبنان میں قابض اسرائیلی فوجیوں کے ٹھکانوں اور اسرائیلی بستیوں کو نشانہ بنایا ہے۔

سیز فائر سے قبل، قابض اسرائیل نے 2 مارچ سنہ 2026ء کو لبنان پر جارحیت کا آغاز کیا تھا جس میں تازہ ترین سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2483 افراد شہید اور 7707 زخمی ہوئے، جبکہ دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

قابض اسرائیل نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے، جن میں سے کچھ دہائیوں سے اس کے قبضے میں ہیں جبکہ دیگر پر اکتوبر سنہ 2023ء اور نومبر سنہ 2024ء کے درمیان ہونے والی سابقہ جنگ میں قبضہ کیا گیا، اسی طرح موجودہ جارحیت کے دوران صیہونی فوج جنوبی سرحد کے اندر تقریباً 10 کلومیٹر تک گھس آئی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan