Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

حزب اللہ کا جنوبی لبنان میں جوابی حملہ، تین اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نے سیز فائر کے ساتویں روز جنوبی لبنان میں قابض اسرائیل کے فوجی اہداف کے خلاف تین بڑی کارروائیوں کا اعلان کیا ہے جن میں صیہونی فوجیوں کے دو اجتماعات کو نشانہ بنانا اور ایک ڈرون طیارہ مار گرانا شامل ہے۔

حزب اللہ کی جانب سے جاری کردہ تین الگ الگ بیانات میں کہا گیا ہے کہ یہ حملے قابض اسرائیل کی جانب سے سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے گئے ہیں جس کا آغاز 17 اپریل سنہ 2026ء کو ہوا تھا۔

دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے سیز فائر کی نئی خلاف ورزیاں کرتے ہوئے آج جنوبی لبنان کے قصبوں ميس الجبل اور الخيام میں فلسطینیوں اور لبنانیوں کے گھروں کو نذر آتش کرنے اور دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھا۔

یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب آج واشنطن میں سفیروں کی سطح پر لبنان اور قابض اسرائیل کے درمیان ابتدائی مذاکرات کا دوسرا دور متوقع ہے جس کا مقصد جنگ کے خاتمے کے لیے کسی حتمی معاہدے تک پہنچنا ہے۔

حزب اللہ نے وضاحت کی کہ اس نے جنوبی لبنان کے قصبے الطیبہ میں قابض اسرائیلی دشمن فوج کے دو اجتماعات کو نشانہ بنایا جن میں سے پہلے حملے میں مناسب ہتھیار استعمال کیے گئے جبکہ دوسرا حملہ خودکش ڈرون کے ذریعے کیا گیا۔

مزاحمتی ونگ نے مزید بتایا کہ اس کے مجاہدین نے جنوبی لبنان کے قصبے مجدل زون میں قابض اسرائیلی فوج کے ایک جاسوس ڈرون طیارے کو مار گرایا تاہم اس کی مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

بدھ کے روز سیز فائر کے چھٹے دن قابض اسرائیلی فوج نے لبنان پر 23 حملے کیے جن کے نتیجے میں ایک خاتون صحافی سمیت 6 افراد شہید اور 5 زخمی ہوئے جبکہ حزب اللہ نے جواب میں جنوبی لبنان میں 7 حملے کیے جن میں ایک توپ خانہ، ہیمر گاڑی، 4 ڈرون طیارے اور فوجیوں کا ایک اجتماع شامل تھا۔

واضح رہے کہ 17 اپریل سنہ 2026ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قابض اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 10 روزہ قابل تجدید سیز فائر کا اعلان کیا تھا اور یہ وعدہ کیا تھا کہ تل ابیب اب لبنان پر حملہ نہیں کرے گا۔

تاہم قابض اسرائیل ڈونلڈ ٹرمپ کے وعدوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر سیز فائر کی خلاف ورزی کر رہا ہے اور اس کے لیے نام نہاد “خطرات کے خلاف دفاع کے حق” کا من گھڑت بہانہ تراشا جا رہا ہے۔

سیز فائر معاہدے میں ایک ایسی شق شامل ہے جسے قابض اسرائیل اپنی جارحیت کے جواز کے لیے استعمال کر رہا ہے جس کے مطابق اسے یہ نام نہاد حق حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت منصوبہ بند یا فوری حملوں کے خلاف دفاع کے لیے ہر طرح کے اقدامات کر سکتا ہے اور یہ حق جنگ بندی کے باعث محدود نہیں ہوگا۔

موجودہ سیز فائر سے قبل 2 مارچ سنہ 2026ء سے جاری قابض اسرائیل کی سفاکیت کے نتیجے میں لبنان میں 2475 افراد شہید اور 7696 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق دس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوئے۔

قابض اسرائیل نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے جن میں سے کچھ دہائیوں سے اس کے قبضے میں ہیں جبکہ کچھ پر 7 اکتوبر سنہ 2023ء سے نومبر سنہ 2024ء تک جاری رہنے والی سابقہ جنگ کے دوران قبضہ کیا گیا تھا جبکہ حالیہ جارحیت کے دوران صیہونی فوج جنوبی سرحد سے تقریباً 10 کلومیٹر اندر تک گھس آئی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan