غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے عالمی برادری، اقوام متحدہ اور تمام متعلقہ فریقوں سے اپنے اس مطالبے کو دہرایا ہے کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں یکساں طور پر فلسطینی عوام کے خلاف قابض فوج اور دہشت گرد آبادکاروں کے روزانہ کے قتل و غارت اور مجرمانہ سلسلے کو روکنے کے لیے فوری اور مؤثر اقدام کیا جائے، تحریک نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی عوام کو نسل کشی اور جبری بے دخلی کے اس خطرے سے بچایا جائے جو تاحال ان کے سروں پر منڈلا رہا ہے۔
حماس نے جمعرات کے روز جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ مجرم صہیونی قابض فوج کا غزہ کی پٹی میں ہمارے عوام کے خلاف مسلسل جرائم کا ارتکاب جاری ہے، جس کی تازہ ترین مثال آج دوپہر المغازی پناہ گزین کیمپ میں ایک سویلین گاڑی پر بمباری ہے، جس کے نتیجے میں تین فلسطینی جام شہادت نوش کر گئے۔
تحریک نے گذشتہ رات شمالی غزہ میں ہونے والے اس ہولناک قتل عام کی جانب بھی اشارہ کیا جس میں تین معصوم بچوں سمیت پانچ فلسطینی شہید ہوئے، بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ مجرمانہ اشتعال انگیزی نسل کشی کی جنگ کے تسلسل کا ثبوت ہے اور سیز فائر معاہدے کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی ایک سازش ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ہمارے عوام کے خلاف ہونے والے ان جرائم اور خلاف ورزیوں پر عالمی برادری کی خاموشی اور ناقابل فہم بے بسی ہی وہ اصل عنصر ہے جو جنگی مجرم بنجمن نیتن یاھو اور اس کی دہشت گرد حکومت کے ارکان کو ان مظالم کو جاری رکھنے پر اکسا رہا ہے، حماس نے اسے عالمی اور بین الاقوامی ادارے کی ایک ایسی ناکامی قرار دیا جو قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں بشمول شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی پاسداری میں رکاوٹ ہے۔
