Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

یورپی کونسل میں اسرائیل کے کردار پر سوال، ترک ارکان کی اپیل

استیبول – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ترک اراکینِ پارلیمنٹ نے کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی میں قابض اسرائیل کو حاصل مبصر ملک کا درجہ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے، یہ مطالبہ ان پالیسیوں اور قانون سازی کے تناظر میں کیا گیا ہے جس کا مقصد فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کو قانونی حیثیت دینا ہے۔

یہ مطالبہ فرانسیسی شہر اسٹراسبرگ میں منعقدہ پارلیمانی اسمبلی کے اجلاس کے دوران سامنے آیا، جہاں تمام حالات میں سزائے موت کے عالمی خاتمے کی تجویز کو 6 کے مقابلے میں 102 ووٹوں کی بھاری اکثریت سے منظور کیا گیا جبکہ 7 اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اجلاس کے دوران ترک رکنِ پارلیمنٹ مراد جنغیر نے اس اسرائیلی قانون کی کڑی مذمت کی جو فلسطینی اسیران کے خلاف سزائے موت عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے، انہوں نے اسے انسانی وقار کی توہین اور قانون کی حکمرانی کو سبوتاژ کرنے کے مترادف قرار دیا۔

جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے مراد جنغیر نے اشارہ کیا کہ ان ظالمانہ پالیسیوں کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی نظام کو بھی متاثر کر رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ اس تناظر میں سزائے موت کو اپنانا اخلاقی گراوٹ کا عکاس ہے۔

ترک رکنِ پارلیمنٹ نے ان سنگین پیش رفتوں کی روشنی میں پارلیمانی اسمبلی سے پرزور مطالبہ کیا کہ قابض اسرائیل کو دیا گیا مبصر رکن کا درجہ فی الفور واپس لیا جائے۔

دوسری جانب ترک رکنِ پارلیمنٹ عبدالرحمن باباجان نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی میں ایک مبصر ملک ہونے کے ناطے قابض اسرائیل سے انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی کے احترام کی توقع کی جاتی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں سزائے موت کا اطلاق بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔

باباجان نے پارلیمانی اسمبلی پر زور دیا کہ وہ ان وحشیانہ اقدامات کو روکنے کے لیے قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالے اور اسے حاصل مبصر ملک کا درجہ ختم کرے۔

ترک رکنِ پارلیمنٹ بلین یلیک نے بھی اپنا موقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل سیز فائر کے باوجود غزہ کی پٹی پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل میں سزائے موت کا قانون صرف فلسطینیوں پر لاگو ہوتا ہے، جو قانون کے سامنے امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔

کونسل آف یورپ کی پارلیمانی اسمبلی کا یہ بہاریہ اجلاس پیر سے جمعہ تک اسٹراسبرگ میں جاری ہے۔

یاد رہے کہ 30 مارچ سنہ 2026ء کو اسرائیلی کنیسٹ نے دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے 48 کے مقابلے میں 62 ووٹوں کی اکثریت سے ایک قانون منظور کیا تھا جو فلسطینی اسیران کو موت کے گھاٹ اتارنے کی اجازت دیتا ہے، یہ قانون ان مزاحمت کاروں پر لاگو کرنے کا منصوبہ ہے جنہوں نے مسلح فدائی کارروائیوں میں اسرائیلیوں کو ہلاک کیا، جن کی تعداد اس وقت 117 بتائی جاتی ہے۔

قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اس وقت 9 ہزار 600 سے زائد فلسطینی اسیران قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یہ اسیران وحشیانہ تشدد، فاقہ کشی اور طبی غفلت کا شکار ہیں جس کی وجہ سے اب تک درجنوں اسیران اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan