جنوبی لبنان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مختلف علاقوں میں قابض اسرائیلی افواج کے جنگی رویے کے تسلسل میں ایک بار پھر اسرائیلی میڈیا نے جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیوں کے دوران قابض فوجیوں کی جانب سے بڑے پیمانے پر لوٹ مار کے واقعات کا انکشاف کیا ہے۔ یہ مناظر خطے میں اسرائیلی جنگوں کے ساتھ جڑی انسانی حقوق کی پامالیوں اور لوٹ کھسوٹ کی طویل تاریخ کو ایک بار پھر زندہ کر رہے ہیں۔
یہ مجرمانہ افعال اس وسیع تر تناظر سے الگ نہیں ہیں جو سنہ 1948ء کے نکبہ سے شروع ہو کر، جس کی یاد کے دن قریب ہیں، مختلف جنگوں سے ہوتا ہوا غزہ میں جاری نسل کشی کی جنگ تک پہنچا ہے۔ ان تمام مواقع پر انسانی حقوق کی رپورٹس نے ثابت کیا ہے کہ کسی بھی حقیقی احتساب کی عدم موجودگی میں شہریوں کی املاک کے ساتھ سلوک کے ایک جیسے گھناؤنے پیٹرن پائے جاتے ہیں۔
جنوبی لبنان میں زمینی جارحیت میں شامل اسرائیلی فوجیوں اور افسران نے اعتراف کیا ہے کہ باقاعدہ فوج اور ریزرو فورسز کے اہلکار لبنانی شہریوں کے گھروں اور دکانوں سے بڑے پیمانے پر سامان لوٹ رہے ہیں۔ اس لوٹ مار میں موٹر سائیکلیں، ٹیلی ویژن سیٹ، فن پارے، صوفے اور قالین تک چوری کیے جا رہے ہیں۔
ان فوجیوں نے مزید بتایا کہ لوٹ مار کا یہ عمل اب ایک معمول کی شکل اختیار کر چکا ہے اور چھوٹے بڑے تمام اسرائیلی افسران اس سے بخوبی واقف ہیں لیکن وہ اسے روکنے کی کوئی کوشش نہیں کرتے، جیسا کہ آج جمعرات کے روز اخبار ’ہارٹز‘ نے اپنی رپورٹ میں ذکر کیا ہے۔
اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے قابض فوج نے زبانی جمع خرچ کے طور پر یہ دعویٰ کیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر تادیبی اور مجرمانہ کارروائی کرتی ہے اور ملٹری پولیس شمالی سرحد پر واپسی کے وقت تلاشی لیتی ہے۔ تاہم اخبار نے نشاندہی کی ہے کہ لوٹ مار روکنے کے دعوے کے ساتھ شمالی سرحد پر قائم کیے گئے ملٹری پولیس کے کئی ناکے ختم کر دیے گئے ہیں اور کئی مقامات پر تو ایسے ناکوں کا وجود ہی نہیں ہے۔
موصولہ شہادتوں کے مطابق، فوجی لبنان سے واپسی پر اپنی گاڑیوں میں مسروقہ سامان لاد کر لاتے ہیں اور اسے چھپانے کی کوشش تک نہیں کرتے۔ ایک اسرائیلی فوجی نے بتایا کہ یہ سرقہ جنونی حد تک زیادہ ہے، ہر کوئی کچھ نہ کچھ چرا رہا ہے، کوئی ٹی وی، کوئی سگریٹ، کوئی کام کرنے کے اوزار یا کچھ بھی، وہ اسے فوری اپنی گاڑی میں ڈال لیتے ہیں۔ سب کچھ سرِ عام ہو رہا ہے اور ہر کوئی جانتا ہے کہ یہ چوری کا مال ہے۔
اخبار نے فوجیوں کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ افسران اس صورتحال پر آنکھیں موندے ہوئے ہیں، جبکہ بعض دیگر زبانی مذمت تو کرتے ہیں لیکن چوروں کو سزا دینے سے کتراتے ہیں۔ ایک فوجی نے بتایا کہ ہمارے افسران نہ تو کوئی تنبیہی نوٹ دیتے ہیں اور نہ ہی ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں، یہاں تک کہ بٹالین اور بریگیڈ کمانڈرز بھی سب کچھ جانتے ہیں۔
ایک اور فوجی نے بتایا کہ ایک واقعے میں لبنان کے اندر ایک افسر نے چند فوجیوں کو جیپ میں مسروقہ سامان لے جاتے ہوئے پکڑا اور ان پر چیخ کر سامان پھینکنے کا حکم دیا، لیکن معاملہ وہیں ختم ہو گیا اور کسی قسم کی تحقیقات نہیں کی گئیں۔
ایک تیسرے فوجی کا کہنا تھا کہ افسران اس رجحان کے خلاف بات تو کرتے ہیں اور اسے خطرناک قرار دیتے ہیں لیکن عملی طور پر کچھ نہیں کرتے۔
فوجیوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ لبنانی شہریوں کی املاک لوٹنے والے اہلکاروں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی نہیں ہو رہی، جس کی وجہ سے اعلیٰ کمان کی تنبیہات محض کھوکھلے الفاظ ثابت ہو رہی ہیں۔ یہ صورتحال فوجیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے کہ وہ لوٹ مار جاری رکھیں۔ اگر کسی ایک کو بھی عہدے سے ہٹایا جاتا، جیل بھیجا جاتا یا سرحد پر ملٹری پولیس تعینات کی جاتی تو یہ سلسلہ رک سکتا تھا، لیکن جب سزا ہی نہیں ہے تو پیغام بالکل واضح ہے۔
ایک فوجی نے شہریوں کی املاک کی لوٹ مار کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہاں ریزرو فورسز کے سپاہی 500 دنوں سے زیادہ عرصے سے خدمات انجام دے رہے ہیں، کوئی بھی کمانڈر انہیں جیل نہیں بھیج سکتا۔ وہ جانتے ہیں کہ فوج میں نظم و ضبط کا جنازہ نکل چکا ہے اور وہ اس پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت نہیں رکھتے، اس لیے وہ معاملات کو خاموشی سے نمٹانے کو ترجیح دیتے ہیں تاکہ فوجی اگلی لڑائی کے لیے تیار رہیں۔
فوجیوں نے مزید اشارہ کیا کہ لوٹ مار کی یہ لہر فوجی کارروائیوں کے دوران بنیادی ڈھانچے اور املاک کی وسیع پیمانے پر تباہی کے سائے میں مزید پھیلی ہے۔ فوجی خود سے یہ کہتے ہیں کہ اس لوٹ مار سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیونکہ یہ جگہ بہرحال تباہ ہی ہونی ہے۔
اخبار نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ جنگ میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے لوٹ مار کے ان واقعات میں اضافے کی ایک وجہ جنوبی لبنان میں لڑائی کی نوعیت میں تبدیلی ہے۔ چونکہ بعض علاقوں میں مزاحمت اس طرح موجود نہیں ہے، اس لیے قابض فوجی زیادہ تر شدید لڑائی میں مصروف نہیں ہوتے۔ وہ کافی عرصے تک شہریوں کے خالی مکانات اور ان قصبوں میں قیام کرتے ہیں جہاں سے آبادی پہلے ہی ہجرت کر چکی ہوتی ہے، جو گذشتہ جنگوں کے برعکس ہے جہاں مسلسل اور شدید لڑائیاں ہوتی تھیں۔
