بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنان کے نیشنل سینٹر فار سائنسی تحقیق نے ایک لبنانی عہدیدار کے حوالے سے انکشاف کیا ہے کہ حزب اللہ کے خلاف 6 ہفتوں پر محیط جنگ کے دوران قابض اسرائیل کی سفاک کارروائیوں کے نتیجے میں 62 ہزار سے زائد رہائشی مکانات مکمل یا جزوی طور پر تباہ ہو چکے ہیں۔
لبنان پر اسرائیلی جارحیت کے ماحولیاتی اثرات پر مبنی رپورٹ پیش کرنے کے لیے منعقدہ ایک پریس کانفرنس کے دوران نیشنل کونسل فار سائنسی تحقیق کے سیکرٹری جنرل شادی عبداللہ نے وضاحت کی کہ 45 دن تک جاری رہنے والی اس جنگ میں 21 ہزار 700 رہائشی یونٹس مکمل طور پر زمین بوس ہو گئے ہیں، جبکہ 40 ہزار 500 دیگر مکانات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
گذشتہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب سے حزب اللہ اور قابض اسرائیل کے درمیان سیز فائر نافذ ہونے کے باوجود لبنانی حکام اور عینی شاہدین نے تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیلی افواج تاحال جنوبی لبنان میں گھروں کو منہدم کرنے اور دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں، علاوہ ازیں کئی سرحدی دیہاتوں کے باسیوں کو ان کے گھروں کو لوٹنے سے بھی روکا جا رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق دو مارچ سنہ 2026ء کو شروع ہونے والی اس جنگ میں 2400 سے زائد افراد شہید اور 10 لاکھ سے زائد شہری اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے کی جانب سے جاری کردہ تصاویر جنوبی لبنان کے دو سرحدی دیہاتوں میں وسیع پیمانے پر تباہی کو ظاہر کرتی ہیں جہاں قابض فوج کے بلڈوزر اور عسکری گاڑیاں کھلے عام عمارتوں کو مسمار کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ سیز فائر کے آغاز کے محض تین دنوں کے اندر مزید 428 رہائشی مکانات کو زمین بوس اور 50 کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔
متوقع ہے کہ جمعرات کے روز واشنگٹن میں لبنان اور قابض اسرائیل کے سفیروں کے درمیان ملاقات ہوگی۔ یہ ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان دہائیوں بعد ہونے والی پہلی براہ راست بات چیت کے نتیجے میں سیز فائر کا اعلان کیا گیا تھا۔
اس تناظر میں ایک لبنانی سرکاری ذریعے کا کہنا ہے کہ لبنان جنگ بندی میں ایک ماہ کی توسیع اور متاثرہ علاقوں میں جاری دھماکوں اور تباہ کاریوں کو فوری روکنے کا مطالبہ کرے گا۔
یاد رہے کہ حزب اللہ اور قابض اسرائیل کے درمیان ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی جنگ نومبر سنہ 2024ء میں سیز فائر پر ختم ہوئی تھی، تاہم اس کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے جاری رہے اور قابض فوج پانچ اسٹریٹجک پہاڑی علاقوں پر بدستور قابض رہی۔
لبنان کی وزیر ماحولیات تمارا الزین نے کہا کہ سنہ 2023ء اور سنہ 2025ء کے درمیان ہونے والی جارحیت نے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلائی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 2 لاکھ 20 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس متاثر ہوئے ہیں، اس کے ساتھ ساتھ بنیادی ڈھانچہ، مذہبی مقامات، زرعی اراضی اور ماحولیات کو بھی شدید نقصان پہنچایا گیا ہے۔ انہوں نے جنوبی لبنان کے کئی علاقوں میں ہونے والی اس تباہی کو شہری اور ماحولیاتی نسل کشی قرار دیا ہے۔
