Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

غزہ میں صحت کے بحران کے باعث بچوں کی حالت تشویشناک

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی حالیہ دنوں میں متعدی امراض کے پھیلاؤ میں غیر معمولی اضافے کی گواہ ہے جن میں چیچک (چکن پاکس) سرفہرست ہے، جو خاص طور پر بچوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے۔ یہ صورتحال ایک ایسے انسانی اور طبی ماحول میں پیدا ہوئی ہے جسے کم از کم “تباہ کن” ہی قرار دیا جا سکتا ہے۔

میدانی رپورٹس کے مطابق غزہ میں بچوں کے درمیان چیچک کا پھیلاؤ براہ راست ماحولیاتی اور طبی صورتحال کی ابتری سے جڑا ہوا ہے۔ کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں اور سیوریج کے گندے پانی کے بہاؤ نے خاص طور پر پناہ گزینوں کے گنجان آباد مراکز میں جلدی اور متعدی امراض کی منتقلی کے لیے ایک مثالی ماحول پیدا کر دیا ہے۔

علامات اور تیزی سے منتقلی

چیچک کی علامات بخار، تھکن اور جسم میں درد سے شروع ہوتی ہیں جس کے بعد جسم کے مختلف حصوں میں دانے اور آبلے نکل آتے ہیں۔ یہ بیماری سانس کے ذریعے یا متاثرہ افراد کے براہ راست لمس سے آسانی سے منتقل ہوتی ہے، جس کی وجہ سے پناہ گزینوں کے پرہجوم مراکز میں اس کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے۔

فلسطین میڈیکل ریلیف کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو عفش نے صورتحال کی مانیٹرنگ کرتے ہوئے بتایا کہ ہسپتال بنیادی ترین ضروریات (پٹیوں، جراثیم کش ادویات اور دیگر ادویات) سے محروم ہیں جبکہ بنیادی طبی آلات تباہ ہو چکے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیز فائر کے معاہدے کے باوجود قابض اسرائیل آلات، ادویات اور تعمیراتی سامان کی آمد میں رکاوٹیں ڈال رہا ہے، طبی مراکز اور بجلی کے جنریٹر تباہ کر دیے گئے ہیں جبکہ ایندھن اور اسپیئر پارٹس پر بھی پابندی ہے۔

شمالی غزہ کے ایک پناہ گزین مرکز میں مقیم ایک ماں “نرمین” نے مرکزاطلاعات فلسطین کے نامہ نگار کو بتایا کہ ان کے پانچ سالہ بیٹے کے جسم پر چھوٹے دانے نکلنا شروع ہوئے جو دیکھتے ہی دیکھتے پورے جسم میں پھیل گئے۔ انہوں نے اپنی ممتا کی بے بسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کا بیٹا نہ صرف بیماری کی تکلیف سہہ رہا ہے بلکہ علاج کی عدم دستیابی نے اس کی اذیت دوگنی کر دی ہے اور وہ ٹھنڈے پانی سے اس کا درد کم کرنے کی ناکام کوشش کر رہی ہیں۔

اسی طرح “ام احمد” نے اپنی تین سالہ بیٹی “سجود” کے بارے میں بتایا کہ خارش کی شدت بچی کو سونے نہیں دیتی۔ انہوں نے روتے ہوئے کہا کہ وہ غزہ شہر کے مغرب میں واقع کیمپ میں پانی کی شدید قلت کے باوجود بچی کو صاف ستھرا رکھنے کی کوشش کر رہی ہیں لیکن انہیں ڈر ہے کہ ادویات اور صفائی کے لیے پانی نہ ہونے سے بچی کی حالت مزید بگڑ جائے گی۔

“ام یوسف” کی کہانی مزید دردناک ہے جن کے دو بچے ایک کمرے میں شدید ازدحام کے باعث یکے بعد دیگرے اس بیماری کا شکار ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک چھوٹے سے کمرے میں 20 سے زائد افراد رہ رہے ہیں جن میں اکثریت بچوں کی ہے، ایسے میں بچوں کو ایک دوسرے سے دور رکھنا ناممکن ہے اور انہیں ڈر ہے کہ جلد ہی خاندان کے دیگر افراد بھی اس وباء کا شکار ہو جائیں گے۔

تباہ کن حالات

غزہ کی پٹی میں الرنتیسی ہسپتال برائے اطفال کے سربراہ ڈاکٹر جمیل سلیمان نے تصدیق کی کہ حال ہی میں متعدی امراض اور خاص طور پر چیچک کے کیسز میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ بچوں میں تیزی سے پھیلنے والی یہ بیماری مشکل ماحولیاتی حالات کے باعث اب ایک دوہرے خطرے کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

ڈاکٹر سلیمان کے مطابق پناہ گزین مراکز اور رہائشی مقامات پر آبادی کا شدید دباؤ اس وباء کی منتقلی کو تیز کر رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ یہ صرف چیچک تک محدود نہیں بلکہ ماحولیاتی آلودگی، مچھروں، چوہوں اور جانوروں کے فضلے کی وجہ سے کئی دیگر جلدی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں جو مجموعی طبی صورتحال کو دھماکہ خیز بنا رہی ہیں۔

دوسری جانب غزہ بلدیہ نے شہر میں کچرے اور ملبے کے بڑے ڈھیروں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ماحولیاتی ابتری پر انتباہ جاری کیا ہے۔ بلدیہ کے مطابق غزہ کے مراکز میں جمع کچرے کی مقدار 3 لاکھ 50 ہزار کیوبک میٹر تک پہنچ چکی ہے جو بیماریوں کی افزائش گاہ بن چکا ہے۔

بلدیہ کے ڈائریکٹر تعلقات عامہ احمد الدریملی نے بتایا کہ بنیادی ڈھانچے اور عمارتوں کی وسیع پیمانے پر تباہی نے حشرات اور چوہوں کی پیداوار کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا ہے جبکہ وسائل کی کمی کے باعث بلدیاتی عملہ اس بحران سے نمٹنے سے قاصر ہے۔

ڈاکٹر جمیل سلیمان نے زور دے کر کہا کہ اگر فوری بین الاقوامی مداخلت نہ ہوئی تو یہ طبی بحران قابو سے باہر ہو جائے گا۔ ایسا لگتا ہے کہ غزہ کے نصیب میں جنگ اور بھوک کے بعد اب ان وبائی امراض کا سامنا بھی لکھا تھا۔ چیچک کا پھیلاؤ اس انسانی المیے کا ایک نیا رخ ہے جہاں قابض اسرائیل کی مسلط کردہ جنگ، غربت اور غیر صحت بخش ماحول مل کر ایک پوری نسل کی زندگی کے لیے براہ راست خطرہ بن چکے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan