Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کی تعمیر نو ایک بڑا چیلنج، اربوں ڈالر کی ضرورت

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک بین الاقوامی رپورٹ نے آج پیر کے روز غزہ کی پٹی میں قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے نتیجے میں ہونے والی وسیع پیمانے پر تباہی کے بعد بحالی اور تعمیر نو کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 71.4 ارب ڈالر لگایا ہے۔ رپورٹ میں انسانی اور ادارہ جاتی سطح پر تعمیر نو کی راہ میں حائل بڑے چیلنجوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔

یہ تخمینے نقصانات، معاشی نقصانات اور بحالی کی ضروریات کے حتمی جائزے کا حصہ ہیں، جسے یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے عالمی بینک کے تعاون سے تیار کیا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ یہ لاگت اگلے ایک دہائی پر محیط ہے، جس میں بنیادی خدمات کی بحالی، انفراسٹرکچر کی تعمیر نو اور معاشی استحکام کی حمایت کے لیے پہلے 18 ماہ کے دوران تقریباً 26.3 ارب ڈالر کی فوری ضرورت ہے۔

رپورٹ کے مطابق انفراسٹرکچر کو پہنچنے والا مادی نقصان تقریباً 35.2 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے، جبکہ معاشی اور سماجی نقصانات کا تخمینہ تقریباً 22.7 ارب ڈالر لگایا گیا ہے، جس میں رہائش، صحت، تعلیم، تجارت اور زراعت کے شعبوں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ 3 لاکھ 71 ہزار سے زائد رہائشی یونٹس تباہ یا متاثر ہوئے ہیں، آدھے سے زیادہ ہسپتال کام کرنا چھوڑ چکے ہیں، جبکہ سکولوں کو تقریباً مکمل طور پر تباہ یا نقصان پہنچایا گیا ہے، اس دوران معیشت میں 84 فیصد تک سکڑاؤ آیا ہے۔

اسی تناظر میں رپورٹ نے غزہ میں انسانی ترقی کے 77 سال پیچھے چلے جانے کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ 19 لاکھ افراد بے گھر ہوئے ہیں جو اکثر کئی بار نقل مکانی پر مجبور ہوئے، اور 60 فیصد سے زائد آبادی اپنے گھروں سے محروم ہو چکی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی کہ خواتین، بچے، معذور افراد اور معاشرے کے سب سے کمزور طبقات اب سب سے زیادہ بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ غزہ میں بحالی کی کوششیں انسانی کاموں کے ساتھ متوازی ہونی چاہئیں، تاکہ ہنگامی امداد سے لے کر بڑے پیمانے پر تعمیر نو تک مؤثر اور منظم منتقلی کو یقینی بنایا جا سکے، جس میں غزہ کی پٹی اور مغربی کنارہ دونوں شامل ہوں۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کے عمل کی قیادت فلسطینیوں کے ہاتھ میں ہونی چاہیے، اور اس میں بہتر انداز میں تعمیر نو کا نظریہ شامل ہونا چاہیے جو مستقبل کو روشن بنا سکے، جس میں سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 اور جامع منصوبہ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی کی حکمرانی کی منتقلی اور دو ریاستی حل پر مبنی مستقل سیاسی تصفیے کو فعال طور پر فروغ دیا جائے۔

بحالی کے لیے شرائط

اسی سیاق و سباق میں رپورٹ نے بین الاقوامی قرارداد نمبر 2803 پر مؤثر طریقے سے عمل درآمد کے لیے کئی شرائط کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ ان شرائط کے بغیر بحالی یا تعمیر نو کا کوئی بھی عمل کامیاب نہیں ہو سکتا۔

سلامتی کونسل نے یہ قرارداد (2803) 17 نومبر سنہ 2025ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ میں امن اور جنگ کے خاتمے کے منصوبے کی حمایت کے لیے منظور کی تھی۔

اس حوالے سے یورپی یونین اور اقوام متحدہ نے کہا کہ پائیدار سیز فائر اور کافی سکیورٹی کا قیام کم از کم شرائط میں سے ہے۔ بحالی کے لیے انسانی امداد کی فراہمی اور بنیادی خدمات کی بلا رکاوٹ فوری بحالی ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے کے اندر اور درمیان افراد، اشیاء اور تعمیر نو کے مواد کی نقل و حرکت کی آزادی، نیز ایک مؤثر اور شفاف مالیاتی نظام کا ہونا انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ واضح اور جوابدہ حکمرانی، بشمول قرارداد نمبر 2803 کے تحت عبوری انتظامی اداروں کے لیے اختیارات کا تعین اور شرائط کا وضع کرنا، فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ ہم آہنگی کے ساتھ اپنے کردار کو انجام دینے کے لیے ضروری ہے۔ نیز مقبوضہ علاقوں بشمول غزہ، مغربی کنارہ اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی اتھارٹی کی مستقبل کی حکمرانی کے لیے ایک قابل اعتماد راستہ وضع کرنا بہت اہم ہے۔

دونوں اداروں نے ملبے کو ہٹانے، دھماکہ خیز مواد کو تلف کرنے اور رہائش، زمین اور ملکیت کے مسائل کو حل کرنے کو تعمیر نو کے لیے بنیادی شرائط قرار دیا۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مربوط طریقے سے وسائل اکٹھا کرے اور مہارت اور آلات کی فوری تعیناتی کی راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو دور کرے۔

رپورٹ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2803 پر مکمل عمل درآمد اور جامع منصوبہ تب تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک دو کام نہ کیے جائیں؛ غزہ کی مادی اور ادارہ جاتی تعمیر نو، اور تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک واضح راستہ کا تعین۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan