یروشلم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن)جنوبی لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی کی جانب سے مسیح مجسمے کو ہتھوڑے سے توڑنے کی تصویر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل سامنے آیا ہے۔
اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اس بات کی تصدیق کی ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی وہ تصویر مستند ہے جس میں جنوبی لبنان میں ایک فوجی کو مجسمے پر ضرب لگاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔
عرب میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تصویر میں ایک اسرائیلی فوجی کو بڑے ہتھوڑے کے ذریعے صلیب سے گرے ہوئے مجسمہ مسیح کے سر پر وار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔یہ مجسمہ جنوبی لبنان میں اسرائیل کی سرحد کے قریب واقع عیسائی اکثریتی گاؤں ‘دبل’ میں موجود تھا۔
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج نے آج صبح اپنے بیان میں تصویر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک فوجی کی تصویر ہے جو جنوبی لبنان میں کارروائی کے دوران موجود تھا۔
’الجزیرہ‘ کے مطابق مذکورہ تصویر کو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 5 ملین سے زائد بار دیکھا جا چکا ہے، یہ مجسمہ لبنان کے سرحدی گاؤں دبل کے قریب نصب تھا۔
اسرائیلی فوج نے پیر کے روز اپنے آفیشل ایکس اکاؤنٹ پر جاری ایک پوسٹ میں کہا کہ وہ اس واقعے کو “انتہائی سنگینی” سے دیکھ رہی ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ آج منظرِ عام پر آنے والی اس تصویر کی ابتدائی تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں جس سے یہ طے پایا ہے کہ تصویر میں نظر آنے والا شخص اسرائیلی فوج کا سپاہی ہے جو جنوبی لبنان میں تعینات ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ واقعے میں ملوث افراد کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے گی، اسرائیلی فوج کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ مجسمے کو اس کی اصل جگہ پر دوبارہ نصب کرنے کے لیے مقامی کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔
دوسری جانب لبنان میں مسیحیوں کا مقدس مجسمہ توڑنے پر اسرائیلی فوج کو شدید تنقید کا سامنا ہے، مذہبی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے واقعے پر اسرائیل کی شدید مذمت کی ہے۔مذہبی رہنماؤں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس سے مسیحیوں کے جذبات شدید مجروح ہوئے ہیں۔