Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اسرائیلی حملہ، جنوبی لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزی، ایک شہید

بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنان میں جنگ بندی کے پہلے ہی روز غاصب صہیونی دشمن نے معاہدے کی دھجیاں اڑاتے ہوئے جنوبی لبنان میں ایک گاڑی اور موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم ایک لبنانی شہری شہید ہو گیا۔

لبنانی میڈیا کے مطابق جنوبی لبنان کی بلدیات کونین اور بیت یاحون کے درمیان شاہراہ پر قابض اسرائیل کے ایک جاسوس طیارے نے موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں ایک شہری جام شہادت نوش کر گیا جبکہ تین دیگر افراد زخمی ہوئے۔

صہیونی سفاکیت کا سلسلہ یہیں نہیں رکا بلکہ قابض افواج نے کونین نامی بستی میں ایمبولینس ٹیم پر بھی توپ خانے سے گولہ باری کی اور مشین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی جس سے متعدد افراد زخمی ہو گئے۔

قضاء مرجعیون میں شامل بستیوں الطیبہ، دیر سریان اور الخیام میں قابض افواج نے بڑے پیمانے پر دھماکا خیز مواد کے ذریعے مکانات کو منہدم کرنے اور نسف کرنے کی کارروائیاں کیں۔

قابض اسرائیل کے توپ خانے نے دبین اور الخیام بستیوں کو بھی گولہ باری کا نشانہ بنایا، جہاں الخیام پر پانچ گولے گرے، جبکہ قضاء صور کی بستی بیوت السياد کی جانب بھی دو گولے فائر کیے گئے۔

دوسری جانب جمعہ کے روز ہی جنوبی لبنان میں ایک مکان کے اندر ہونے والے دھماکے میں 6 اسرائیلی فوجی زخمی ہو گئے جن میں سے دو کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ قابض اسرائیل کے عبرانی چینل 14 کے مطابق یہ دھماکا اس وقت ہوا جب اسرائیلی فوجیوں نے ایک گھر میں گھسنے کی کوشش کی، تمام زخمیوں کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے منتقل کر دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ لبنان پر 45 روز تک جاری رہنے والی اسرائیلی جارحیت کے بعد جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب جنگ بندی کا معاہدہ نافذ العمل ہوا تھا۔

لبنان اور قابض اسرائیل کے درمیان سیز فائر کا یہ معاہدہ امریکی سرپرستی میں کشیدگی کو روکنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کے لیے کیا گیا ہے، جس کی ابتدائی مدت 10 دن مقرر کی گئی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق اس معاہدے کے 6 اہم نکات ہیں، جن میں سے پہلا نکتہ 16 اپریل سنہ 2026ء سے جنگ بندی کے نفاذ سے متعلق ہے تاکہ مستقل امن کے لیے فضا ہموار کی جا سکے۔

دوسرے بند کے تحت مذاکرات میں ٹھوس پیش رفت اور لبنانی ریاست کی اپنی سرزمین پر مکمل حاکمیت کی صورت میں اس الٹی میٹم میں توسیع کی جا سکتی ہے۔

تیسرا نکتہ قابض اسرائیل کو کسی بھی حملے کی صورت میں دفاعی اقدامات کا حق دیتا ہے، جبکہ اس کے بدلے اسرائیل لبنانی حدود میں سمندری، فضائی یا زمینی جارحیت سے گریز کا پابند ہوگا۔

معاہدے کے تحت لبنانی حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ حزب اللہ یا کوئی بھی مسلح گروہ اسرائیلی اہداف کے خلاف کسی قسم کی کارروائی نہ کرے۔

پانچویں شق اس بات پر زور دیتی ہے کہ ملک کے دفاع اور حاکمیت کی ذمہ داری صرف لبنانی فوج کی ہوگی اور کسی بھی متوازی قوت کا کردار قبول نہیں کیا جائے گا۔

چھٹا اور آخری نکتہ لبنان، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان براہ راست مذاکرات کے تسلسل کی ضمانت دیتا ہے تاکہ سرحدی حد بندی سمیت تمام تصفیہ طلب مسائل کو حل کر کے خطے میں مستقل امن و استحکام لایا جا سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan