غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ کی پٹی میں سیز فائر معاہدے کی مسلسل خلاف ورزیاں جاری ہیں، جہاں ایک طرف بیس لاکھ سے زائد فلسطینیوں پر بدترین محاصرہ مسلط ہے تو دوسری طرف گزرگاہوں کی بندش اور عسکری اقدامات میں روز بروز سختی لائی جا رہی ہے۔
علی الصبح غزہ شہر کے مشرق میں قابض اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے دو بھائی شہید اور ایک زخمی ہو گیا، جس نے قابض دشمن کی جانب سے جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ جباليا النزلہ کے رہائشی دو بھائی محمود اور عید ابو وردہ اس وقت شہید اور ان کا تیسرا بھائی زخمی ہوا جب قابض افواج نے غزہ شہر کے مشرق میں واقع محلہ شجاعیہ میں پانی کو نمک سے پاک کرنے والے پلانٹ (ڈی سیلینیشن پلانٹ) کو نشانہ بنایا۔ ذرائع کے مطابق دونوں شہداء پانی کے ٹینکر پر کام کرتے تھے اور قابض اسرائیل نے انہیں اس وقت نشانہ بنایا جب وہ پانی بھرنے کے لیے جا رہے تھے۔
بعد ازاں شمالی غزہ کی پٹی میں بھی قابض اسرائیلی فوج کے حملے میں ایک شہری شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ قابض فوج نے شمالی غزہ کے علاقے بیت لاہیا میں تل الذہب کے مقام پر بے گھر فلسطینیوں کے خیموں پر اپنی مشین گنوں سے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں ایک فلسطینی جامِ شہادت نوش کر گیا اور کئی دیگر زخمی ہوئے۔
علاوہ ازیں خان یونس اور غزہ کے مشرقی علاقوں میں مختلف واقعات کے دوران قابض فورسز کی فائرنگ سے مزید 5 فلسطینی زخمی ہوئے ہیں۔ قابض اسرائیل کے توپ خانے نے جنوبی پٹی کے شہر خان یونس کے مشرقی حصوں اور غزہ شہر کے مشرقی علاقوں پر گولہ باری بھی کی۔
اسی طرح قابض اسرائیل کی عسکری گاڑیوں نے غزہ کی پٹی کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں متعدد مقامات پر دوبارہ فائرنگ شروع کر دی ہے۔ گذشتہ روز جمعرات کی شام کو بھی غزہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع محلہ زیتون اور جنوبی شہر خان یونس میں قابض اسرائیلی فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر ایک بچے سمیت دو فلسطینی شہید ہو گئے تھے۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ محلہ زیتون کے کُشکو روڈ پر فائرنگ کے نتیجے میں بچہ صالح بدوی شہید اور متعدد شہری زخمی ہوئے۔ خان یونس میں 38 سالہ محسن عودہ محسن الدباری شہر کے جنوبی علاقے ارض اللیمون میں قابض فوج کی گولیوں کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔
اس سے قبل 33 سالہ رزق الملاحی ان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا جو اسے چند روز قبل غزہ شہر کے شارع النفق میں پولیس کی گاڑی پر قابض اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں آئے تھے۔
قابض اسرائیلی افواج غزہ کی پٹی میں بے گھر ہونے والے مظلوم فلسطینیوں پر فضائی اور توپ خانے سے بمباری کر کے سیز فائر معاہدے کو مسلسل پامال کر رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ نام نہاد یلو لائن کے اندر گھروں کو دھماکوں سے اڑانے اور تباہی کا عمل جاری ہے، جبکہ اشیائے خوردونوش، امدادی سامان کی فراہمی اور سفر پر کڑی پابندیاں بدستور مسلط ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 10 اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے اب تک شہداء کی تعداد 771 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 2147 افراد زخمی ہوئے اور 760 لاشیں ملبے سے نکالی گئیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی اس سفاکیت اور نسل کشی کی جنگ میں اب تک مجموعی طور پر 72,360 فلسطینی شہید اور 172,250 زخمی ہو چکے ہیں، جو غزہ پر مسلط اس جاری جنگ کی سنگین انسانی قیمت کا واضح ثبوت ہے۔
