تونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) تونس میں ماہرین اور مقررین نے فلسطینی اسیران کے ساتھ بھرپور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف ہونے والی اسرائیلی پامالیوں کی شدید مذمت کی ہے اور اسیران کو سزائے موت دینے کے قانون کو منسوخ کرانے کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دیا ہے۔
ان خیالات کا اظہار تونس کی تین سیاسی جماعتوں کی جانب سے دارالحکومت تونس میں یومِ اسیرِ فلسطین کی یاد میں منعقدہ ایک سیاسی سیمینار کے دوران کیا گیا۔
واضح رہے کہ ہر سال 17 اپریل کو یومِ اسیر منایا جاتا ہے۔ یہ وہ تاریخ ہے جسے فلسطینی قومی کونسل نے سنہ 1974ء میں قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں قید فلسطینیوں کی جدوجہد کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منظور کیا تھا۔
خبر رساں ادارے اناطولیہ کے مطابق اس موقع پر موومنٹ آف دی پیپل (حركة الشعب)، پیپلز کرنٹ پارٹی (حزب التيار الشعبي) اور سوشلسٹ ہوم لینڈ پارٹی (حزب الوطن الاشتراكي) کی جانب سے مشترکہ سیمینار کا اہتمام کیا گیا۔ یہ تمام جماعتیں ناصری قوم پرست نظریات کی حامل ہیں۔
تونس کے دارالحکومت میں پیپلز کرنٹ پارٹی کے ہیڈ کوارٹر میں منعقد ہونے والے اس سیمینار کا عنوان “اسیران سے وفاداری اور مزاحمتی محاذوں کی حمایت” رکھا گیا تھا۔
سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے تیونسی اور بین الاقوامی امور کے ماہر خالد کرونہ نے کہا کہ “روئے زمین پر فلسطین کے نصب العین سے زیادہ مقدس اور کوئی مقصد نہیں ہے”۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ فلسطینی اسیران کی تعداد 9350 سے تجاوز کر چکی ہے جن میں 56 خواتین اور 350 بچے شامل ہیں، جبکہ 3385 فلسطینی ایسے ہیں جو کسی الزام یا مقدمے کے بغیر انتظامی حراست کے تحت قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ “اسیران کی تحریک بذاتِ خود مزاحمت کی ایک شکل ہے جس نے اپنی پوری تاریخ میں مسئلہ فلسطین کو مٹانے کی کوششوں کے خلاف جدوجہد کے مختلف طریقے اپنائے ہیں”۔
دوسری جانب تیونسی مفکر اور وکیل محمد صالح التومی نے اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ “اسیران کا مقدمہ اس دور کے سب سے منصفانہ مقدمات میں سے ایک ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ “فلسطینی اسیرات اور اسیران کو یاد رکھنا اور ان کے دفاع میں حصہ لینا ہر اس شخص کے لیے باعثِ شرف ہے جو ان پر ڈھائے جانے والے مظالم اور نسل کشی کے خلاف آواز بلند کرنا چاہتا ہے”۔
انہوں نے خبردار کیا کہ فلسطینی اسیران بدترین قسم کے جبر اور قہر کے سائے میں جی رہے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اسیران نے اپنی مزاحمت اور ٹکراؤ کے ذریعے صفِ اول میں کھڑے ہو کر فلسطین کی شناخت مٹانے کی کوششوں کو مسترد کیا اور اپنی سرزمین سے وابستگی کا اعلان کیا۔
اسی تناظر میں فلسطینی سیاسی محقق عابد الزریعی نے کہا کہ “اس سال یومِ اسیر کی انفرادیت اس کا اہم علاقائی صورتحال بالخصوص لبنان میں ہونے والی جھڑپوں کے ساتھ ہم آہنگ ہونا ہے”۔
انہوں نے مزید کہا کہ “یہ موقع ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب قابض اسرائیل کی پارلیمنٹ (کنيسٹ) نے ایک ایسا قانون منظور کیا ہے جو فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کی اجازت دیتا ہے”۔
الزریعی نے اس قانون کو “نسل پرستانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ “اگر کوئی اسرائیلی کسی فلسطینی کو قتل کر دے تو اس پر یہ قانون لاگو نہیں ہوتا”۔
یاد رہے کہ 30 مارچ سنہ 2026ء کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت فلسطینی اسیران کو سزائے موت دی جا سکے گی۔ اس قانون کی حمایت میں 62 ووٹ آئے جبکہ 48 اراکین نے مخالفت کی اور ایک رکن غیر حاضر رہا۔
یہ سفاکانہ قانون ان 117 اسیران پر لاگو ہوتا ہے جن پر اسرائیلیوں کو قتل کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔
انسانی حقوق کی رپورٹس کے مطابق اس وقت قابض اسرائیل کے عقوبت خانوں میں 9600 سے زائد فلسطینی اسیران قید ہیں جن میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ یہ اسیران بدترین تشدد، بھوک اور طبی غفلت کا شکار ہیں جس کے نتیجے میں اب تک درجنوں اسیران اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
