Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

اقوام متحدہ: غزہ میں نسل کشی کے دوران روزانہ اوسطاً 47 خواتین اور بچیاں شہید ہوئیں

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے اقوام متحدہ کے ادارے (یو این ویمن) کی جانب سےجمعہ کے روز جاری کردہ اعداد و شمار میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والی نسل کشی کی جنگ کے دوران روزانہ اوسطاً کم از کم 47 خواتین اور بچیاں شہید کی گئیں۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ جنگ بندی کے اعلان کو کئی ماہ گذر جانے کے باوجود جانی نقصان کا سلسلہ اب بھی تھم نہیں سکا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے نے بتایا ہے کہ اکتوبر سنہ 2023ء سے دسمبر سنہ 2025ء کے درمیان غزہ کی پٹی میں 38 ہزار سے زائد خواتین اور بچیاں شہید ہوئیں، جو جنگ کے دوران فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے دستاویزی شکل میں لائے گئے کل شہداء کی تعداد کے نصف سے بھی زائد بنتی ہے۔

ادارے نے اس اندوہناک حقیقت کی جانب اشارہ کیا ہے کہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو سیز فائر نافذ ہونے کے چھ ماہ بعد بھی خواتین اور بچیوں کے متاثر ہونے کا عمل جاری ہے، کیونکہ قابض دشمن کی جانب سے مسلسل خلاف ورزیاں کی جا رہی ہیں جن کے نتیجے میں قیمتی جانیں ضائع ہو رہی ہیں۔

جنیوا میں اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹر سے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ادارے کی انسانی ہمدردی کے کاموں کی ذمہ دار صوفیا کالٹروب نے تصدیق کی کہ مذکورہ عرصے میں غزہ میں 38 ہزار سے زائد خواتین اور بچیاں قابض اسرائیل کے فضائی حملوں اور زمینی فوجی کارروائیوں کا شکار بنیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ان شہداء میں 22 ہزار سے زائد خواتین اور 16 ہزار سے زائد بچیاں شامل ہیں، جس کا مطلب ہے کہ روزانہ اوسطاً کم از کم 47 خواتین اور بچیوں کو موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے آغاز سے 27 دسمبر سنہ 2025ء تک شہداء کی تعداد 71 ہزار 266 تک پہنچ گئی تھی، جبکہ گذشتہ روز جمعرات کو جاری ہونے والی تازہ ترین سرکاری رپورٹ میں یہ تعداد بڑھ کر 72 ہزار 345 ہو چکی ہے۔

جنگ بندی کے بعد کے حالات پر گفتگو کرتے ہوئے صوفیا کالٹروب نے کہا کہ سیز فائر کے بعد بھی شہداء میں خواتین اور بچیاں شامل ہیں، تاہم عمر اور صنف کے لحاظ سے درست اعداد و شمار کی کمی کے باعث ان کی صحیح تعداد کا تعین کرنا مشکل ہو رہا ہے۔ انہوں نے جنگ بندی کے باوجود خواتین اور بچیوں کے مسلسل قتل پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ غزہ کی پٹی میں ماضی کے تنازعات کے مقابلے میں اس بار شہداء میں خواتین اور بچیوں کا تناسب غیر معمولی طور پر زیادہ ہے، اور اکتوبر سنہ 2025ء میں جنگ بندی کے اعلان کے باوجود یہ طبقہ اب بھی انتہائی کٹھن انسانی حالات کا سامنا کر رہا ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تقریباً 11 ہزار خواتین اور بچیاں شدید زخمی ہوئیں جو مستقل معذوری کا شکار ہو چکی ہیں، جو اس طبقے پر جنگ کے طویل مدتی اور ہولناک اثرات کی عکاسی کرتا ہے۔

صوفیا کالٹروب نے مطالبہ کیا کہ جبری بے دخلی، خوراک اور پانی کی قلت اور طبی امداد تک محدود رسائی کے پیش نظر امدادی کارروائیوں میں خواتین اور بچیوں کو ترجیحی بنیادوں پر مرکزِ نگاہ رکھا جائے کیونکہ وہ سب سے زیادہ کمزور اور متاثرہ گروہ ہیں۔

ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق جنگ کے دوران تقریباً دس لاکھ خواتین اور بچیوں کو کئی کئی بار جبری طور پر دربدر ہونا پڑا، جبکہ ان میں سے 7 لاکھ 90 ہزار خواتین غذائی عدم تحفظ کی سنگین ترین اور تباہ کن صورتحال سے دوچار ہیں۔

اسی تناظر میں صوفیا کالٹروب نے نشاندہی کی کہ غزہ کی پٹی میں بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی نے خواتین اور بچیوں کے لیے اپنی بنیادی ضروریات بشمول صحت کی دیکھ بھال کا حصول تقریباً نامکن بنا دیا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے اعداد و شمار بھی یہ ظاہر کرتے ہیں کہ غزہ میں 5 لاکھ سے زائد خواتین بنیادی صحت کی سہولیات سے محروم ہیں، جن میں زچگی سے قبل اور بعد کی نگہداشت اور دیگر ضروری طبی علاج معالجے کی سہولیات شامل ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan