Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس کا سزائے موت کے صہیونی قانون کو روکنے اور اسیران کی رہائی کا عالمی مطالبہ

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قابض دشمن کے عقوبت خانوں سے اسیران کی رہائی کا مسئلہ قومی تحریک کی اولین ترجیحات میں شامل رہے گا۔ تحریک نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسیران کے خلاف جاری ہولناک انسانی حقوق کی پالمایوں کو روکنے کے لیے فوری اور ہنگامی مداخلت کرے، بالخصوص ایک ایسے وقت میں جب قابض اسرائیل نے “اسیران کو سزائے موت” دینے کا نسل پرستانہ قانون منظور کر رکھا ہے۔

حماس نے 17 اپریل کو منائے جانے والے “یوم اسیر فلسطینی” کے موقع پر جاری کردہ ایک پریس بیان میں واضح کیا کہ یہ دن ایک ایسے المیہ کے سائے میں آیا ہے جس میں لگ بھگ 9500 اسیران زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں، جن میں 300 معصوم بچے اور 84 خواتین بھی شامل ہیں۔

تحریک نے سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے ان 1500 معتقلین کے مصائب پر بھی روشنی ڈالی جنہیں خفیہ مراکز میں قید رکھا گیا ہے، جہاں وہ بدترین قسم کے نفسیاتی و جسمانی تشدد اور جبری گمشدگی کا سامنا کر رہے ہیں۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قابض اسرائیل کی فاشسٹ حکومت کا اسیران کو سزائے موت دینے کے قانون کی جانب بڑھنا بین الاقوامی انسانی قانون اور چوتھے جنیوا کنونشن کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

تحریک کا کہنا تھا کہ یہ قانون ایک بار پھر قابض اسرائیل کا نسل پرستانہ چہرہ اور اس کے ان سنگین جرائم کی سفاکیت کو بے نقاب کرتا ہے جو کبھی پرانے نہیں ہوں گے اور نہ ہی ان کے مرتکب سزا سے بچ سکیں گے۔

حماس نے اقوام متحدہ، انسانی حقوق کونسل اور بین الاقوامی اداروں سے ہنگامی اپیل کی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور تحقیقاتی کمیٹیوں کو قابض صہیونی عقوبت خانوں کا دورہ کرنے اور اسیران کے حالات کا جائزہ لینے کا موقع فراہم کریں۔

تحریک نے اغوا کیے گئے اور جبری طور پر لاپتہ کیے گئے فلسطینیوں کی زندگیوں کی تمام تر ذمہ داری قابض اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے ان کے دانستہ قتل پر عالمی خاموشی کی شدید مذمت کی۔

اپنے بیان کے اختتام پر تحریک نے اسیران کے ساتھ اظہار یکجہتی کرنے والی عالمی عوامی تحریک کو سراہا اور فلسطینی عوام، عرب امت اور دنیا بھر کے حریت پسندوں سے اپیل کی کہ وہ 17 اپریل کو اسیران کے منصفانہ کاز کی حمایت کا عالمی دن بنائیں۔

تحریک نے تمام اسیران اور اسیرات کو یقین دلایا کہ وہ ان کی رہائی اور وفاداری کے عہد کو پورا کرنے کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی اور تمام وسائل بروئے کار لائے گی، تاکہ ان کی قربانیوں اور سلاخوں کے پیچھے ان کے صمود کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے یہاں تک کہ وہ مکمل آزادی حاصل کر لیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan