غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یورپ کے 350 سے زائد سابق حکام بشمول سابق وزراء، سفراء اور یورپی یونین کے اعلیٰ عہدیداروں نے فلسطینیوں کے خلاف انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے پیش نظر قابض اسرائیل کے ساتھ شراکت داری کے معاہدے کو معطل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
بدھ کے روز جاری ہونے والے ایک کھلے خط میں دستخط کنندگان نے کہا کہ قابض اسرائیل فلسطینی اراضی پر غیر قانونی قبضے اور غلامی کی پالیسیوں کو مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ بستیوں کی تعمیر، فلسطینیوں کو نشانہ بنانے والی قانون سازی، تشدد اور غزہ کی پٹی کی انسانی صورتحال ابتر ترین ہو چکی ہے۔
خط پر دستخط کرنے والوں میں یورپی یونین کے سابق خارجہ پالیسی کے سربراہ اور یورپی پارلیمنٹ کے سابق صدر جوزپ بوریل بھی شامل ہیں، جنہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی حکومت ان بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کر رہی ہے جن پر یورپی یونین کی بنیاد ہے، انہوں نے ایک قابض قوت کے طور پر اس کی قانونی اور اخلاقی ذمہ داریوں پر بھی زور دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ سنگین خلاف ورزیاں شراکت داری کے معاہدے کی دوسری شق سے متصادم ہیں، جو انسانی حقوق کے احترام اور جمہوری اصولوں کو دوطرفہ تعلقات کی بنیاد قرار دیتی ہے۔
واضح رہے کہ یہ معاہدہ سنہ 1995ء میں طے پایا تھا اور جون سنہ 2000ء میں نافذ العمل ہوا، جو دونوں فریقین کے درمیان تعلقات کا قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے اور تجارتی تعاون کی بنیاد ہے، کیونکہ یورپی یونین قابض اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔
خط میں دستخط کنندگان نے یورپی یونین کو اس حوالے سے کارروائی میں تاخیر کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے مطالبہ کیا کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بین الاقوامی قانون کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں کے تناظر میں فیصلہ کن اقدامات کیے جائیں۔
انہوں نے اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی کہ یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کی جانب سے ماضی میں کیے گئے اسی طرح کے مطالبات پر اندرونی تقسیم اور پابندیاں لگانے سے متعلق سیاسی ہچکچاہٹ کی وجہ سے کوئی ردعمل نہیں دیا گیا تھا۔
ان سابق حکام کا ماننا ہے کہ دیگر فریقوں پر لگائی گئی پابندیوں کی طرح قابض اسرائیل کے خلاف اقدامات نہ کرنا کھلم کھلا دہرا معیار ہے۔
یہ مطالبہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی علاقوں میں ہونے والی تازہ ترین پیشرفت کے تناظر میں یورپی حلقوں کے اندر قابض اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر نظرثانی کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔
