غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی میں شہری دفاع کے ڈائریکٹوریٹ جنرل نے اقوام متحدہ اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قابض اسرائیل پر دباؤ ڈالیں تاکہ غزہ کی پٹی کے جنوبی شہر رفح میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی شہداء کی لاشوں کے مستقبل کے بارے میں معلومات حاصل کی جا سکیں۔
شہری دفاع نے ایک پریس بیان میں اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ قابض اسرائیل ان لاشوں کو اغوا کر سکتا ہے یا اپنی نام نہاد گرین زون کے قیام کے لیے جاری بلڈوزنگ کی کارروائیوں کے دوران انہیں زمین برد کر سکتا ہے۔
بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ شہری دفاع کو رفح میں شہداء کے سوگوار خاندانوں کی جانب سے روزانہ کی بنیاد پر ایسی اپیلیں موصول ہو رہی ہیں جن میں وہ اپنے پیاروں کے جسد خاکی کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں جو علاقے پر حملے کے دوران مکانات کی تباہی کے بعد ملبے تلے ہی رہ گئے تھے۔
اسی تناظر میں غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے اطلاع دی کہ قابض اسرائیل نے جنگ بندی کے معاہدے کی 2400 بار خلاف ورزی کی ہے جن میں قتل و غارت، گرفتاریاں، محاصرہ اور فاقہ کشی جیسی کارروائیاں شامل ہیں۔
وزارت صحت نے اشارہ کیا ہے کہ ان خلاف ورزیوں کے نتیجے میں 765 فلسطینی شہید اور 2140 دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
یہ صورتحال جنگ بندی کے ایک ایسے معاہدے کے بعد سامنے آئی ہے جو آٹھ اکتوبر سنہ 2023ء سے دو سال تک جاری رہنے والی اس ہولناک جنگ کے بعد طے پایا تھا جس میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید اور ایک لاکھ 72 ہزار سے زائد زخمی ہوئے جبکہ غزہ کی پٹی کا نوے فیصد بنیادی ڈھانچہ مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔
