فلسطینی مجلس قانون ساز کے ڈپٹی اسپیکر ڈاکٹر احمد بحر نے کہا ہے کہ جاسوسی کا جرم ثابت ہونے پر غزہ میں دو افراد کو دی جانے والی سزائے موت فلسطینی دستور اور قانون کے عین مطابق ہے۔
جمعہ کے رور جاری کردہ ایک بیان میں ڈاکٹر بحر نے واضح کیا کہ دو فلسطینیوں کو سزائے موت دینے کا فیصلہ دستور اور قانون کے مطابق درست ہے کیونکہ اس میں تفتیش، احتساب اور سزا پر عملدرآمد سب ہی مرحلوں پر تمام قانونی تقاضے پورے کیے گئے ہیں۔
بحر کے بہ قول “فتح” کی طرف سے حماس پر لگائے گئے سنگین الزامات اس دیرینہ نفرت کا شاخسانہ ہیں جو اس وقت سے محمود عباس کی تنظیم اپنے دل میں چھپائے بیٹھی ہے۔ اسی وجہ سے حماس نے فتح کو لغو اور ایسے بے بنیاد الزامات لگانے سے روک رکھا تھا کیونکہ ایسے گھٹیا نعروں سے غزہ کی پٹی میں سیاسی، سیکیورٹی، معاشری اور اقتصادی صورتحال خراب ہونے کا امکان ہے۔ انہوں نے کہا کہ تنگ نظر کے مظہر گروہی ایشوز کی ترویج سے عوام کی بھلائی نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ انسانی حقوق کی بعض تنظیموں کی جانب سے سزائے موت کے خلاف کی جانے والی تنقید آسمانی قوانین اور زمینی دساتیر اور قوانین، جن میں فلسطینی دستور اور آئین بھی شامل ہے، کی خلاف ورزی ہے۔ ان قوانین کے مطابق زندگی کی حفاظت، اسلامی معاشرے کو فساد پھیلانے والوں سے بچانے اور سوسائٹی میں امن و سکون کے لیے سزائے موت بالکل درست ہے۔
بحر نے سزائے موت پر معترض حلقوں سے کہا کہ وہ رام اللہ حکام کی جانب سے غزہ کی پٹی میں روا رکھے جانے والے جرائم اور علاقے کا محاصرہ شدید کرنے پر تنقید کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ حماس کی جانب سے عوام کے تحفظ، تحریک مزاحمت کے تسلسل اورمعاشرے کو پر امن رکھنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔