Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

تحقیقاتی رپورٹ: اسرائیل سے وابستہ گیمز صارفین کی نجی معلومات تک رسائی حاصل کر رہی ہیں

یروشلم – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک صحافتی تحقیقاتی رپورٹ نے دنیا بھر میں کروڑوں افراد کی جانب سے استعمال کی جانے والی درجنوں مقبول الیکٹرانک گیمز کے قابض اسرائیلی کمپنیوں کے ساتھ تعلقات کو بے نقاب کیا ہے، ان میں گیمز کی تیاری (ڈویلپمنٹ)، ملکیت، یا پھر سرمایہ کاری اور تجارتی شراکت داری کی صورت میں ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ان میں سے بعض گیمز صارفین کی براہ راست پسند یا انتخاب کے بغیر ہی ان کے موبائل فونز میں پہلے سے انسٹال شدہ (Pre-installed) صورت میں پہنچ رہی ہیں، جس سے ذاتی ڈیٹا کی پرائیویسی اور سکیورٹی کے حوالے سے شدید خدشات جنم لے رہے ہیں۔

صحافی صالح دہنی کی تیار کردہ اور ویب سائٹ ’عربی پوسٹ‘ پر شائع ہونے والی اس تحقیقاتی رپورٹ میں 19 اکتوبر سنہ 2026ء تک ایسی متعدد گیمز کی نشاندہی کی گئی ہے جنہیں یا تو قابض اسرائیلی کمپنیوں نے تیار کیا ہے یا پھر ان کے ساتھ ان کے سندی تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات موجود ہیں۔ ان میں ایسی گیمز بھی شامل ہیں جو عرب خطے میں بے پناہ مقبول ہیں، جبکہ دیگر گیمز ڈیوائسز بنانے والی کمپنیوں اور ٹیلی کام اداروں کے سسٹم اپ ڈیٹس یا انسٹالیشن ٹولز کے ذریعے صارفین کے فونز تک پہنچ جاتی ہیں۔

اس فہرست میں متعدد مشہور گیمز شامل ہیں، جن میں نمایاں طور پر “Coin Master”، “Bubble Shooter”، “Match Masters”، “Woodoku”، “My Cafe”، “Wordscapes”، “Going Balls” اور “Travel Town” شامل ہیں، نیز “Rummikub”، “TAKI” اور “Backgammon Live” بھی اس کا حصہ ہیں، جو کہ عرب معاشروں میں معروف روایتی کھیل اور ڈومینو کی ڈیجیٹل شکلیں ہیں۔

تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی کمپنیوں سے تعلق کی نوعیت ہر گیم میں مختلف ہے،بعض کو ایسی کمپنیاں تیار کرتی ہیں جن کے دفاتر قابض اسرائیل میں واقع ہیں، جبکہ دیگر کی بنیاد اسرائیلیوں نے رکھی اور وہ دیگر ممالک سے کام کر رہی ہیں۔ کچھ دیگر گیمز کا تعلق سرمایہ کاری، خریداریاں (Acquisitions) اور تجارتی شراکت داریوں سے ہے، جس کے باعث اصلی ڈویلپر، مالکان، پبلشرز اور سرمایہ کار اداروں کے درمیان فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔

صارف کے انتخاب کے بغیر موبائل فونز تک پہنچنے والی گیمز

اس تحقیقاتی رپورٹ کے سب سے اہم انکشافات میں سے ایک یہ ہے کہ اوپن ٹیکنیکل ڈیٹا بیس اور صارفین کی شکایتوں کی بنیاد پر کچھ گیمز موبائل فونز میں پہلے سے انسٹال شدہ ہوتی ہیں یا سسٹم اپ ڈیٹس کے ذریعے فون میں داخل ہو جاتی ہیں۔

رپورٹ میں “Playtika” کمپنی سے منسلک تین گیمز کی نشاندہی کی گئی ہے جو سام سنگ کے کچھ فونز میں پہلے سے انسٹال شدہ ایپلی کیشنز کی فہرست میں نظر آئیں، یعنی “Woodoku”، “Solitaire Grand Harvest” اور “Slotomania”، نیز سسٹم اپ ڈیٹس کے ذریعے سام سنگ ڈیوائسز میں “Bingo Blitz” گیم کے شامل کیے جانے کی عوامی شکایتوں کو بھی دستاویز کا حصہ بنایا گیا ہے۔

تحقیق میں قابض اسرائیلی کمپنی “ironSource” سے منسلک “AppCloud” پلیٹ فارم کا ذکر کیا گیا ہے، جو مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کی مارکیٹوں میں سام سنگ کے بعض فونز کی سیٹنگ کے دوران ایپلی کیشنز تجاویز میں دیتا ہے اور ان کے آئیکنز انسٹال کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے، تاہم عرب خطے میں اس پلیٹ فارم کی جانب سے منتخب کی جانے والی گیمز کے مخصوص ناموں کا جائزہ لینے والے کوئی عوامی شواہد سامنے نہیں آئے۔

اس کے علاوہ رپورٹ میں موبائل بنانے والی کمپنیوں، بشمول شیاؤمی، کے ان طریقوں کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے جن کے تحت نئی ڈیوائسز کی سیٹنگ کے وقت مالی منافع کے عوض تجویز کردہ ایپلی کیشنز اور گیمز ظاہر کی جاتی ہیں، جس سے انسٹالیشن اور تقسیم کے عمل میں شامل فریقین کو معاشی فائدہ پہنچتا ہے۔

فوجی سروس کے لیے طلب کیے گئے ملازمین

دوسری جانب تحقیق نے قابض اسرائیل میں سرگرمیاں رکھنے والی گیمنگ کمپنیوں کی جانب سے جاری کردہ ان اعترافات کو بھی بے نقاب کیا ہے جن کے مطابق سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد ان کے متعدد ملازمین کو عسکری سروس کے لیے طلب کیا گیا۔

کمپنی “Playtika” نے سنہ 2025ء کی اپنی سالانہ رپورٹ میں ذکر کیا ہے کہ اس کے درجنوں ملازمین کو عملی عسکری سروس کے لیے بلایا گیا، جب کہ اسی سال کے اختتام تک قابض اسرائیل میں اس کے ملازمین کی تعداد تقریباً ایک ہزار تھی۔

اس سے قبل کمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر نے اعلان کیا تھا کہ قابض اسرائیل میں کمپنی کے تقریباً 14 فیصد ملازمین کو ریزرو فورسز میں طلب کیا گیا ہے۔ تحقیق نے کمپنی کی ایک گیم میں آمدنی کی دیکھ بھال کرنے والے ایک ملازم کی نشاندہی بھی کی جو اسرائیلی فوج کی ریزرو فورسز میں شامل ہوا اور اس نے 55 ویں بریگیڈ میں چار ماہ تک عسکری خدمات انجام دیں۔

تحقیقاتی رپورٹ میں “Plarium” کمپنی کی ہیومن ریسورسز المسؤول کے بیانات بھی نقل کیے گئے ہیں، جن میں اس نے بتایا کہ کمپنی کے ملازمین کی ایک بڑی تعداد ریزرو فورسز میں خدمات انجام دے رہی ہے، اور کمپنی نے ان ریزرو فوجیوں کو گرم کھانا بھیجنے اور ایک عسکری بٹالین کی مالی معاونت سمیت مختلف طریقوں سے مدد فراہم کی۔

کمپنی “PLAYSTUDIOS” نے بھی اعتراف کیا کہ قابض اسرائیل میں اس کے متعدد ملازمین کو عسکری سروس کے لیے طلب کیا گیا، جبکہ “vgames” انویسٹمنٹ فنڈ کے عہدیداروں نے بتایا کہ ان کے پورٹ فولیو میں شامل کمپنیوں کے بعض بانیوں نے ریزرو فورسز میں مہینوں گزارے۔

شخصی ڈیٹا اور پرائیویسی سے متعلق شدید خدشات

صارفین کی پرائیویسی کے حوالے سے تحقیق میں نشاندہی کی گئی ہے کہ ان ایپلی کیشنز اور کمپنیوں کی پرائیویسی پالیسیوں میں ذاتی اور تکنیکی معلومات جمع کرنا شامل ہے، جس میں جغرافیائی لوکیشن، آئی پی (IP) ایڈریسز، ڈیوائس فنگر پرنٹس اور آئیڈینٹی فائرز شامل ہیں، نیز پرائیویسی پالیسی کی شرائط کے تحت یہ ڈیٹا سرکاری اداروں یا لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں کے ساتھ شیئر کرنے کی گنجائش بھی موجود ہے۔

ایک واضح مثال دیتے ہوئے تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ تل ابیب میں واقع “Papaya Gaming” کمپنی اپنی پرائیویسی پالیسی میں اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ وہ پاسپورٹ نمبرز اور سرکاری شناختی کارڈز سمیت پورا نام، تاریخ پیدائش، فون نمبر، آئی پی ایڈریس اور ڈیوائس آئی ڈی جیسے ڈیٹا جمع یا افشا کر سکتی ہے۔

یہ کمپنی “Solitaire Cash”، “Bingo Cash” اور “Bubble Cash” جیسی گیمز چلاتی ہے جو کھلاڑیوں کو حقیقی مالی انعامات کے لیے مقابلہ کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔

اس کے باوجود، تحقیق میں وضاحت کی گئی ہے کہ پرائیویسی پالیسیوں میں سرکاری یا قانونی اداروں کو ڈیٹا افشا کرنے کی اجازت کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اس ڈیٹا کا جاسوسی کے مقاصد کے لیے استعمال ہونا ثابت ہو چکا ہے، یا اسے قابض اسرائیلی عسکری یا سیکیورٹی اداروں کو بالفعل فراہم کیا گیا ہے۔

رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ گیمز کے ڈیٹا کو قابض اسرائیل کے سرکاری یا عسکری اداروں کے فائدے کے لیے استعمال کیے جانے کا کوئی دستاویز ثبوت نہیں مل سکا، تاہم ایپلی کیشنز کے ذریعے جمع کیے جانے والے وسیع ڈیٹا اور پرائیویسی پالیسیوں کے تحت اس کی شیئرنگ کے امکانات پر سخت خبردار کیا گیا ہے۔

بورڈ اور تاش کی گیمز بھی اس فہرست میں شامل

تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ قابض اسرائیلی کمپنیوں سے تعلق رکھنے والی ان گیمز میں وہ کھیل بھی شامل ہیں جو عرب معاشروں میں انتہائی مقبول ہیں، بالخصوص بورڈ گیمز، لڈو، ڈومینو اور تاش کا کھیل۔

ان میں سے سب سے نمایاں گیمز “Lord of the Board Backgammon”، “Rummy Stars”، “Domino Go”، “Rummy Rush”، “OPA!” اور “Tilez” ہیں، جنہیں “Beach Bum” اسٹوڈیو نے تیار کیا ہے جس کا صدر دفتر اسرائیلی شہر رعنانا میں واقع ہے۔

اس فہرست میں شامل دو گیمز، یعنی “Lord of the Board Backgammon” اور “Rummy Stars”، میں سے ہر ایک کے گوگل پلے اسٹور (Google Play) پر ایک کروڑ (10 ملین) سے زائد ڈاؤن لوڈز ہو چکے ہیں۔

تحقیق میں “Backgammon Live” گیم کو بھی شامل کیا گیا ہے جس کے 50 لاکھ سے زیادہ ڈاؤن لوڈز ہیں، اور اس کا تعلق “Come2Play” اسٹوڈیو سے تھا جس کا دفتر حصول ملکیت سے پہلے تل ابیب میں واقع تھا، جب کہ اس کا موجودہ رجسٹرڈ قانونی مالک قابض اسرائیل میں موجود مرکزی مالکانہ ادارے سے منسلک ایک کمپنی ہے۔

اسی طرح اس فہرست میں “Rummikub” گیم بھی شامل ہے جس کے اینڈرائیڈ سسٹم پر ایک کروڑ (10 ملین) سے زائد ڈاؤن لوڈز ہیں، نیز “TAKI” گیم بھی شامل ہے، اور ان دونوں کے سرکاری ڈیجیٹل ورژنز کے مالک کے طور پر تل ابیب میں رجسٹرڈ کمپنی کا نام ظاہر ہوتا ہے۔

اربوں ڈالرز کی آمدنی

تحقیقاتی رپورٹ میں قابض اسرائیل سے منسلک متعدد گیمنگ کمپنیوں کی سالانہ آمدنی کے اعداد و شمار بھی پیش کیے گئے ہیں، جن کے مطابق “Playtika” کمپنی نے سنہ 2025ء کے دوران 2.76 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل کی، جبکہ “Moon Active” کی آمدنی سنہ 2024ء میں دو ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔

کمپنی “Plarium” کی آمدنی اکتوبر سنہ 2023ء سے ستمبر سنہ 2024ء کے عرصے کے دوران تقریباً 613 ملین ڈالر رہی، جبکہ “SuperPlay” کمپنی نے سنہ 2025ء میں تقریباً 573 ملین ڈالر کی آمدنی ریکارڈ کی۔

رپورٹ میں “vgames” فنڈ کی گیمنگ سیکٹر میں کام کرنے والی نو کمپنیوں میں سرمایہ کاری کا بھی جائزہ لیا گیا ہے، اس کے علاوہ ان عالمی گروپس کے بالواسطہ تجارتی تعلقات کی بھی نشاندہی کی گئی ہے جن میں قابض اسرائیل میں قائم اسٹوڈیوز یا کمپنیاں شامل ہیں، تاہم اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ایسے تعلقات کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں کہ ان گروپس کی تمام گیمز کو اسرائیلی کمپنیوں نے ہی تیار کیا ہے۔

صارف ڈویلپر کمپنی کی تصدیق کیسے کر سکتا ہے؟

تحقیقاتی رپورٹ میں صارفین پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کسی گیم کے پیچھے موجود ادارے کی شناخت معلوم کرتے وقت صرف گیم کے نام یا اس کی شہرت پر اکتفا نہ کریں، بلکہ گوگل پلے اسٹور (Google Play) میں گیم کے صفحے پر جا کر “ایپ سپورٹ” (App support) اور “ڈویلپر کے بارے میں” (About the developer) کے سیکشن میں جا کر کمپنی کا قانونی نام، پتہ اور دستیاب رابطہ نمبرز دیکھ کر ڈویلپر کی تصدیق کر سکتے ہیں۔

رپورٹ میں یہ وضاحت بھی کی گئی ہے کہ کسی گیم کا اس فہرست میں شامل نہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ اس کا کوئی تعلق نہیں ہے، کیونکہ اس سروے کو صرف ان کیسز تک محدود رکھا گیا ہے جن کی تصدیق کمپنیوں کے ڈیٹا، پرائیویسی پالیسیوں اور خریداریاں و سرمایہ کاری کے اعلانات کے ذریعے ممکن ہو سکی ہے۔

یہ تحقیقاتی رپورٹ دنیا بھر میں کروڑوں افراد کے روزمرہ استعمال میں آنے والی ایپلی کیشنز و گیمز اور ان کے ڈویلپرز و مالکان کے درمیان تعلق کی بحث کو ایک بار پھر چھیڑتی ہے، خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب ڈیجیٹل گیمنگ انڈسٹری میں وسعت آ رہی ہے اور صارفین کا ذاتی ڈیٹا ایک اہم معاشی ذریعہ بن چکا ہے، جس کے باعث ان ایپلی کیشنز کی نگرانی کرنے والی کمپنیوں کی شناخت، ان کے تجارتی تعلقات کی نوعیت اور شخصی معلومات جمع کرنے کے حوالے سے ان کی پالیسیوں پر نظر رکھنا انتہائی ضروری ہو گیا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan