Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

قطر نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات مسترد کر دیے

دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قطری وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی انتخابات میں دوحہ کی مداخلت یا نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے سرگرمیوں کی مالی اعانت کے دعوؤں کی قطعی طور پر تردید کی ہے۔انہیں ایک ایسی گمراہ کن مہم قرار دیا ہے جس کا مقصد دائیں بازو کی جانب سے عرب جماعتوں پر “انتخابات چوری کرنے” کے بڑھتے ہوئے الزامات کے ساتھ ساتھ قطر کو اسرائیلی سیاسی تنازعات میں گھسیٹنا ہے۔

وزارت خارجہ نے پریس کو جاری ایک بیان میں بعض اسرائیلی سیاست دانوں کی سیاسی ناکامیوں کے لیے قطر کو “قربانی کا بکرا” بنانے کی کوششوں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یہ الزامات اسے وساطت کاری، سفارتی و انسانی کوششوں اور فلسطینی عوام کی حمایت سے ہرگز نہیں روک سکیں گے۔

یہ تردید ان اطلاعات کے بعد سامنے آئی ہے جن میں عبرانی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ قطر اور ترکیہ کے ذرائع سے رقم عرب اقلیت میں ووٹنگ کی حوصلہ افزائی کرنے والے اداروں کو منتقل کی گئی۔ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ اسے انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے غیر قانونی طریقوں سے استعمال کیا گیا۔

ان افواہوں کے متوازی، اسرائیلی مرکزی الیکشن کمیشن کے چیئرمین جج نوعام سولبرگ نے اندرونی سیکیورٹی کے ادارے “شاباک” کے سربراہ ڈیوڈ زینی سے غیر ملکی مالی اعانت اور انتخابی رشوت کے شبہات کی تحقیقات کرنے اور ایک ہفتے کے اندر اپنے نتائج پیش کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کے خط کے شائع شدہ متن کے مطابق سولبرگ نے اعتراف کیا کہ وہ ان کے سامنے پیش کیے گئے شبہات کی صداقت کا تعین نہیں کر سکتے ۔انہوں نے ان کو ثابت یا رد کرنے والے ثبوت کی تلاش کا مطالبہ کیا، جب کہ شائع شدہ متن میں قطر کا نام نہیں لیا گیا تھا، جبکہ اسرائیلی میڈیا کوریج میں اس کا تعلق اس فائل سے جوڑا گیا تھا۔

متضاد الزامات اور قطری طنز و مزاح پر مبنی ردِعمل

قطری وزارتِ خارجہ نے دوحہ پر عائد کیے جانے والے متعدد الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ”وہ قطر پر بنیامن نتن یاھو، اسرائیلی سیاسی بائیں بازو اور اب اس آخری مہم میں عرب ووٹروں کے ووٹ خریدنے کے لزام لگاتے ہیں۔ اگر ہم ان ادعاؤں پر یقین کر لیں، تو ایسا لگتا ہے کہ پورا ‘قابض اسرائیل’ قطر کی ملکیت میں ہے۔”

وزارت خارجہ نے ان الزامات کو “مضحکہ خیز اور اتنا ہی خطرناک” قرار دیتے ہوئے کہا کہ انتخابی بیانیے میں قطر کے نام کا بار بار استعمال بعض اسرائیلی سیاسی و میڈیا شخصیات میں ایک “غیر معمولی جنون” کو بے نقاب کرتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان سیاست دانوں کے لیے بہتر ہوگا کہ وہ قطر کی طرف دھیان منتقل کرنے کی کوشش کے بجائے اپنے ووٹروں پر توجہ مرکوز کریں، ان کی روزمرہ کی زندگی کو بہتر بنائیں، اور خطے میں اپنے پہنچائے گئے نقصانات کا ازالہ کریں۔

وزارت نے اس بات کی تصدیق کی کہ دوحہ کا سیاسی یا انتخابی مقابلے سے کوئی تعلق نہیں ہے، اور وہ اپنے آپ کو اسرائیلی اندرونی تنازعات میں گھسیٹنے کی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔

عرب ووٹ شک و شبہات کی مہم کے مرکز میں

غیر ملکی مالی اعانت کے دعوے لیکوڈ پارٹی کی طرف سے عرب قصبوں میں ووٹنگ کو چیلنج کرنے کی مہم کے ساتھ شدت اختیار کر گئے، کیونکہ اس نے عرب جماعتوں پر رشوت، دھاندلی اور دھمکیوں سمیت خلاف ورزیوں کا الزام لگایا، اور پولیس اور شاباک سے تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

الیکشن کمیشن نے کہا کہ وہ تمام فہرستوں کے مطالبات پر مشتمل معمول کے نگرانی کے طریقہ کار کے تحت لیکوڈ کی شکایت کی جانچ کر رہا ہے، جبکہ اسرائیلی میڈیا نے پولیس کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ دھاندلی کے حوالے سے پارٹی کے وسیع تر ادعاؤں کی حمایت کے لیے کوئی تحقیقاتی یا استخباراتی ثبوت موجود نہیں ہے۔

اس کے متوازی، پولیس ایک مخصوص واقعے کی تحقیقات کر رہی ہے جو النقب سے تین افراد کی گرفتاری سے متعلق ہے جن پر متحدہ عرب لسٹ کے حق میں ووٹ خریدنے کی کوشش کا شبہ ہے، جب کہ لسٹ نے اپنے خلاف عائد شبہات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس کے کارکنوں کو ہدف بنایا جا رہا ہے۔

یہ مہم جمعرات کی صبح شائع ہونے والی ووٹوں کی گنتی کی تازہ ترین معلومات کے بعد سامنے آئی ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں عرب لسٹوں نے 19 نشستیں حاصل کی ہیں، جو مشترکہ لسٹ کی 11 اور الموحدہ کی اٹھارہ نشستوں پر مشتمل ہیں، جب کہ بنیامن نتن یاھو کے کیمپ کو 53 اور گاڈی آئزنکوٹ کے کیمپ کو 48 نشستیں ملیں، جبکہ ووٹوں کی گنتی کا سلسلہ جاری ہے اور حتمی نتائج کی توثیق نہیں ہوئی ہے، اور یہ اعداد و شمار عرب نمائندگی کو پارلیمانی حساب کتاب میں ایک وزن فراہم کرتے ہیں، اس سائے میں کہ دونوں میں سے کوئی بھی کیمپ تنہا 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔

اس طرح قطر کو گھسیٹنا تحقیقات کے نتائج کے اعلان سے قبل سیکیورٹی شبہات اور غیر ملکی مالی اعانت کے ذریعے عرب ووٹنگ کی قانونی حیثیت کو مشکوک بنانے کی کوششوں سے میل کھاتا ہے۔

قطری وزارتِ خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ انتخابات کے نتیجے میں بننے والی کسی بھی حکومت سے بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی پابندی کرنے، اور فلسطینی معاملے کے ساتھ سنجیدگی اور سچائی سے نمٹنے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔

وزارت نے فلسطینی عوام کے نا قابلِ تصرف حقوق کے احترام کی ضرورت پر زور دیا، جن میں سب سے پہلے حقِ خودارادیت اور سنہ 1967ء کی حدود پر ایک آزاد ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت القدس ہو، شامل ہیں۔ اس کے لیے ذمہ داری اور جوابدہی قبول کرنے کی ضرورت ہے۔

وزارت نے کہا کہ الزامات کی مہمات اسے وساطت کار کے طور پر اس کے کردار یا اس کی انسانی و سفارتی کوششوں سے نہیں موڑ سکیں گی، اور اپنے شرکاء کے ساتھ تنازعات کے حل کے لیے کام جاری رکھنے کا اعادہ کیا، اور انتخاباتی ایجنڈوں اور تنگ سیاسی مفادات کی خدمت کے لیے قطر کے نام کے استعمال پر خاموش رہنے سے انکار کیا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan