Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

جنگ بندی کے باوجود غزہ میں فلسطینیوں کی شہادتوں کا سلسلہ جاری، تعداد 1,538 ہوگئی

غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی وزارت صحت کی جانب سے جنگ بندی کے بعد سے غزہ میں شہدا کی مجموعی تعداد 1,538 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ قابض فوج نے گھروں، پناہ گزینوں کے مراکزی کیمپوں پر بمباری اور رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، یہ ایسی خلاف ورزیاں ہیں جو معاہدے کو ایک سال سے زائد کا عرصہ گزرنے کے باوجود شہریوں کو قتل اور بے گھر ہونے کے مسلسل خطرے میں مبتلا کیے ہوئے ہیں۔

وزارت صحت نے اپنی روزانہ کی شماریاتی رپورٹ میں کہا کہ گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران پٹی کے ہسپتالوں میں چار شہدا کی لاشیں لائی گئیں، جن میں تین نئے شہدا اور ایک زخمی شامل ہے جو زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا، اس کے علاوہ 12 افراد زخمی ہوئے ۔ یوں جاری صہیونی جنگ میں شہدا کی مجموعی تعداد 74,494 اور زخمیوں کی تعداد 175,616 تک پہنچ گئی ہے۔

وزارت نے وضاحت کی کہ 11 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے بعد سے زخمیوں کی تعداد 5,498 تک پہنچ چکی ہے، جبکہ اسی عرصے کے دوران جن شہدا کی لاشیں ملبے تلے سے نکالی گئیں ان کی تعداد 841 ہے۔

اس رپورٹ کا صدور جمعرات کی فجر سے لے کر صبح کے اوقات تک ہونے والی صہیونی ورزیوں کے ساتھ ہے جن میں فضائی اور توپ خانے کی گولہ باری، فائرنگ اور عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیاں شامل ہیں، جنہوں نے پٹی کے متفرق علاقوں کو نشانہ بنایا۔

خان یونس میں طبی ذرائع اور ناصر طبی کمپلیکس کے مطابق شہر کے مغرب میں واقع معسكر کے علاقے میں مصطفیٰ حافظ سکول کے صحن میں موجود ایک خیمے پر توپ خانے کی گولہ باری کے نتیجے میں بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے چار افراد زخمی ہو گئے۔

ایمبولینس اینڈ ایمرجنسی یونٹ نے بتایا کہ خان یونس کے شمال میں اپنے کنٹرول کے علاقوں سے باہر قابض افواج کی فائرنگ سے ایک فلسطینی زخمی ہو گیا، جبکہ مقامی ذرائع کے مطابق فائرنگ نے حمد سٹی کو نشانہ بنایا۔شہر کے جنوبی علاقوں کو توپ خانے کی گولہ باری کا سامنا کرنا پڑا، جس کے ساتھ ہی اس کے مشرقی علاقوں کی طرف شدید فائرنگ کی گئی۔

غزہ شہر میں جنگی طیاروں نے حی الرمال میں ’تاج مال‘ کے پیچھے ایک رہائشی اپارٹمنٹ اور الشيخ رضوان میں ابو علبہ چوراہے کے قریب ایک گھر پر بمباری کی، جبکہ الشجاعیہ چوراہے کے قریب کواڈ کاپٹر ڈرون کی جانب سے بم گرائے جانے کے بعد ایک گاڑی اور النازحین کے کچھ خیموں میں آگ بھڑک اٹھی۔

اسی دوران قابض افواج نے غزہ شہر کے مشرق اور پٹی کے شمال میں رہائشی عمارتوں کو دھماکوں سے اڑانے کی کارروائیاں کیں، اور شہر کے مشرق میں ایک بارود سے بھرا روبوٹ دھماکے سے اڑا دیا، ان حملوں نے رہائشی محلو ں کی تباہی میں مزید اضافہ کیا اور النازحین کی اپنے گھروں کو واپسی کے امکانات کو مزید محدود کر دیا۔

یہ حملے سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی چھت کے بحران کو دوچند کر رہے ہیں، کیونکہ غزہ میں سماجی ترقی کی وزارت نے رواں ماہ 13 اکتوبر کو خبردار کیا تھا کہ تقریباً 300,000 خاندان مناسب چھت کے بغیر اس موسم کا سامنا کر رہے ہیں اور نشاندہی کی تھی کہ استعمال ہونے والے تقریباً 90 فیصد خیمے بوسیدہ اور رہنے کے قابل نہیں رہے ہیں۔

20 اکتوبر کو شائع ہونے والے اقوام متحدہ کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ تقریباً 950,000 بے گھر افراد درمیانے اور تیز ترین سیلابی خطرات کا شکار مقامات پر رہ رہے ہیں، جن میں سے 400,000 سے زائد انتہائی خطرناک مقامات پر موجود ہیں، جبکہ دستیاب امداد کے ذریعے صرف 18 فیصد محتاج خاندانوں کو ہی پناہ کی جزوی امداد فراہم کی جا سکی ہے۔

متاثرین کی بڑھتی ہوئی تعداد، گھروں کی مسلسل تباہی اور پناہ گزینوں کی جگہوں کو نشانہ بنائے جانے کے درمیان جنگ بندی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے میں بالکل ناکام ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ جو خاندان اپنے گھروں سے محروم ہو چکے ہیں وہ اپنی عارضی پناہ گاہوں میں بمباری کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ایک نئی سردی بغیر کسی بنیادی تحفظ کے ان کے لیے سنگین خطرہ بنی ہوئی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan