غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) وسطی غزہ میں قابض صیہونی فورسز کی سابقہ بمباری کے نتیجے میں شدید زخمی ہونے والا ایک معصوم فلسطینی بچہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے آج بروز منگل جامِ شہادت نوش کر گیا، جبکہ پٹی کے مختلف حصوں میں صیہونی فائرنگ اور گولہ باری سے متعدد شہری زخمی ہو گئے، جس کے ساتھ ہی صیہونی توپ خانے کی بمباری، اندھا دھند شیلنگ اور شہریوں کے گھروں کو بارود سے اڑانے کے واقعات جنگ بندی معاہدے کی مسلسل دھجیوں کی صورت میں جاری ہیں۔
مقامی ذرائع نے بتایا کہ چار سالہ معصوم بچہ اسامہ احمد عابد تقریباً تین ہفتے قبل وسطی غزہ کے قصبے الزوایدہ پر ہونے والے صیہونی حملے میں شدید زخمی ہوا تھا، جو آج اپنے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہاد نوش کرگیا۔ جس سے اس صیہونی فضائی حملے میں شہید ہونے والے معصوم بچوں کی تعداد دو ہو گئی۔
پٹی کے جنوبی حصے میں خان یونس کے شمال میں واقع حي الأمل اور حمد سٹی کے گردونواح میں صیہونی فوج کی براہِ راست فائرنگ سے دو شہری شدید زخمی ہو گئے، جبکہ شہر کے برج الإسراء کے قریب صیہونی فائرنگ کا نشانہ بن کر ایک اور شہری زخمی ہوا۔
ان متواتر صیہونی تجاوزات کے سلسلے میں، صیہونی توپ خانے نے وسطی غزہ کے شہر دیر البلح کے مشرقی علاقوں پر شدید گولہ باری کی، جبکہ شمالی حصوں میں غزہ شہر کے مشرقی علاقوں اور بیت لاہیا کے مغربی حصوں کو بھی شدید ترین شیلنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
شمالی غزہ کے جبالیا مہاجر کیمپ کے مشرقی علاقوں میں قابض صیہونی فورسز نے شہریوں کے گھروں کو بارود سے اڑانے کا ہولناک آپریشن انجام دیا، جبکہ خان یونس کے شمال میں واقع حمد سٹی کے جنوبی اور مشرقی حصوں میں صیہونی جنگی گاڑیوں کی طرف سے شدید اور متواتر فائرنگ کی گئی۔
قابض صیہونی فورسز گذشتہ 10 اکتوبر سنہ 2025ء کو جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کے بعد سے اب تک غزہ کے مختلف حصوں میں فضائی بمباری، توپ خانے کی شیلنگ، اندھا دھند فائرنگ اور رہائشی مکانات کو بارود سے اڑانے کی کارروائیوں کے ذریعے معاہدے کی سنگین خلاف ورزیاں مسلسل انجام دے رہی ہیں۔
مقامی ذرائع کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، جنگ بندی معاہدے کے بعد سے اب تک ان صیہونی تجاوزات کے نتیجے میں 1,493 شہری شہید اور 5,299 افراد شدید زخمی ہو چکے ہیں۔
