رام اللہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی انفارمیشن سینٹر ’معطى‘ نے سات اکتوبر سنہ 2023ء سے لے کر سات اکتوبر سنہ 2026ء تک کے عرصے کے دوران مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں 4,168 معیاری مزاحمتی کارروائیوں کی دستاویزی توثیق کی ہے، جن میں فائرنگ، مسلح جھڑپیں اور دیسی ساختہ بموں کے دھماکے کے ساتھ ساتھ چاقو سے حملے اور گاڑی چڑھانے کی کارروائیاں بھی شامل ہیں۔
سینٹر کی رپورٹ میں درج اعداد و شمار مسلح جھڑپوں اور دیسی بموں کے ذریعے قابض فوج کو نشانہ بنانے کے نمایاں رجحان کو ظاہر کرتے ہیں، جبکہ ان 3 برسوں کے دوران ریکارڈ کی گئی کارروائیوں میں تنوع بھی پایا جاتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 1,288 فائرنگ کے واقعات اور 1,241 مسلح جھڑپیں ریکارڈ کی گئیں، اس کے علاوہ قابض فوج کو دیسی ساختہ بموں سے نشانہ بنانے کے 1,356 واقعات بھی پیش آئے۔
سینٹر نے اس کے علاوہ 77 چاقو کے وار اور 57 گاڑی چڑھانے کی کارروائیوں کا بھی احاطہ کیا ہے، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ ان میں قابض فوجیوں اور یہودی آباد کاروں کو نشانہ بنایا گیا، اس کے علاوہ ایک بس دھماکے، کار بم دھماکے، ایک فدائی کارروائی اور قابض فوج کی صفوں کے پیچھے گھسنے کے واقعے کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔
یہ اعداد و شمار قابض فوج کے دھاووں کے دوران ہونے والی جھڑپوں اور الگ تھلگ نشانہ بنانے کی کارروائیوں کے درمیان ٹکراؤ کی مختلف شکلوں کو ظاہر کرتے ہیں۔
مادی نقصانات کے حوالے سے ’معطى‘ نے 94 فوجی گاڑیوں کو ناکارہ بنانے، تنصیبات، آلات اور فوجی گاڑیوں کو نذر آتش کرنے کے 53 واقعات کا حساب لگایا ہے، اس کے علاوہ قابض فوج سے تعلق رکھنے والی 243 گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، اسی مدت کے دوران قابض ریاست کے 20 جاسوس طیارے گرائے گئے۔
سینٹر نے کہا کہ ان 3 برسوں کا حاصلِ کلام مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں مزاحمتی عمل کے تسلسل اور اس کی شکلوں کے تنوع کی نشاندہی کرتا ہے۔
مغرب کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہ مزاحمتی عمل قابض ریاست اور یہودی آباد کاروں کے حملوں، زمین پر قبضے کی کوششوں اور وہاں کے باشندوں کو جبراً بے دخل کرنے کے اقدامات کا مقابلہ کرنے کے تناظر میں سامنے آتا ہے۔
چنانچہ وال اینڈ سیٹلمنٹ ریزسٹنس کمیشن کے مطابق، قابض ریاست اور یہودی آباد کاروں نے اکیلے ستمبر سنہ 2026ء کے دوران 2,051 حملے کیے، جو کہ 21 نئی استععاری چوکیاں قائم کرنے، 254 فلسطینی تنصیبات کو مسمار کرنے، اور 3,821 استعماری یونٹس پر مشتمل منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوششوں کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔
کمیشن نے اس بات پر زور دیا کہ یہ حملے، گھروں کی مسماری، فصلوں کی تخریب اور زمینوں تک رسائی پر پابندی مل جل کر فلسطینیوں کے اپنی زمین پر بقا کے امکانات کو کمزور کرتی ہیں؛ یہ ایک ایسا سیاق و سباق ہے جو جبری بے دخلی اور استعماری پھیلاؤ سے فلسطینی وجود کے تحفظ کی خاطر جاری کشمکش کے دائرے میں تصادم کے تسلسل کو برقرار رکھتا ہے۔
