Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

ایک سالہ جنگ بندی کے دوران اسرائیلی فوج کی 5 ہزار سے زائد خلاف ورزیاں

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) سرکاری میڈیا کے ڈائریکٹر جنرل اسماعیل الثوابتہ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے نفاذ کو پورا ایک سال گزر جانے کے بعد، زمینی حقائق، سرکاری مانیٹرنگ اور درست ڈیجیٹل ریکارڈ نے اس بات کو ثابت کر دیا ہے کہ قابض ’اسرائیلی‘ دشمن نے معاہدے کے تحت اپنے عزم و وعدوں سے مکمل انحراف کیا ہے۔

انہوں نے ’فلسطینی ریجنسی ایجنسی‘ کو دیے گئے ایک اخلاقی بیان میں واضح کیا کہ گزشتہ سال کے دوران پٹی نے جس صورتحال کا مشاہدہ کیا وہ کسی پرسکون فضا کا احاطہ نہیں تھا، بلکہ یہ زندگی کے منظم انہدام اور انسانی و امدادی بحران کو جان بوجھ کر مزید گہرا کرنے کا ایک تسلسل تھا، جو آخرکار اس حقیقت پر منتج ہوا جسے آج ہر سطح پر ایک تباہ کن صورتحال سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

الثوابتة نے سرکاری مانیٹرنگ کی بنیاد پر معاہدے کی براہ راست عسکری اور سیکیورٹی خلاف ورزیوں کے حجم کا پردہ فاش کیا، اور بتلایا کہ قابض فوج نے جنگ بندی کے اصولوں اور شہریوں کی زندگیوں کی کوئی پروا نہیں کی، اور اس معاہدے کو مزید مظالم ڈھانے کے لیے ایک آڑ بنا لیا۔

انہوں نے کہا کہ جنگ بندی کے معاہدے کی گزشتہ سال کے دوران 5,304 عسکری خلاف ورزیاں دستاویزی شکل میں ریکارڈ کی گئیں، جن کے نتیجے میں 1,460 شہداء کے درجات بلند ہوئے اور 5,116 افراد زخمی ہوئے، اس کے علاوہ بنی نوع انسان کے بنیادی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے 202 شہریوں کو گرفتار کرنے کی مہمات بھی چلائی گئیں۔

جہاں تک انسانی اور معاشی سطح پر غزہ کا گلا گھونٹنے کا تعلق ہے، سرکاری میڈیا کے ڈائریکٹر جنرل نے انسانی امداد اور تعمیر نو کے سامان کے داخلے کو آسان بنانے کے قابض فوج کے دعوؤں کی پرزور تردید کی۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ شہریوں کے خلاف روزانہ کی بنیاد پر ایک ظالمانہ ہتھیار کے طور پر بھوک کی پالیسی کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ معاہدے اور عزم کے مطابق داخل ہونے والے 214,800 ٹرکوں میں سے صرف 74,283 ٹرکوں کو داخل ہونے کی اجازت دی گئی، جو34فیصد سے بھی کم کی انتہائی کم تعمیل کی شرح کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ قابض فوج نے نقل و حرکت اور سفر کی آزادی کو سخت اور سوچی سمجھی پابندیوں کے ساتھ جکڑ رکھا ہے، کیونکہ 36,000 مسافروں میں سے صرف 14,012 مسافروں کو پٹی سے باہر جانے کی اجازت دی گئی جنہیں اصولاً جانا چاہیے تھا، جس کی وجہ سے تعمیل کی شرح 39 فیصد کے ہندسے پر آکر رک گئی۔

ڈاکٹر الثوابتہ نے شدید سردی اور کثرتِ باراں والے موسمِ سرما کے قریب آنے کے ساتھ ہی ایک یقینی انسانی تباہی کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بجائی، جبکہ گزشتہ تین سالوں کے دوران صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کا نظام منظم طریقے سے تباہ کیا جا چکا ہے۔

انہوں نے بیان کیا کہ خیموں کا بحران خطرناک حد تک سنگین ہو چکا ہے، جہاں ڈیڑھ ملین سے زائد بے گھر افراد ایسے بوسیدہ خیموں میں زندگی گزار رہے ہیں جو نہ تو سردی سے بچاتے ہیں اور نہ بارش سے، اور انہوں نے اشارہ کیا کہ قطاع میں خیموں کی کل تعداد 270,000 ہے، جن میں سے 162,000 خیمے پرانے اور انسانی استعمال کے قابل نہیں ہیں، اور خستہ حالی کا یہ بحران ساٹھ فیصد سے زیادہ ہے۔

انہوں نے اور خستہ حال عمارتوں کے المیے سے بھی خبردار کیا، جہاں دسیوں ہزار افراد ایسے گھروں میں سکونت پذیر ہیں جو حفاظت کے ادنیٰ ترین لوازمات سے بھی عاری ہیں، اور انہوں نے انکشاف کیا کہ کسی بھی لمحے گرنے کے خطرے سے دوچار اور دراڑوں کا شکار ڈھائی سو سے زائد عمارتوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جو سینکڑوں افراد کی اموات کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے، انہوں نے غزہ شہر میں ’السعادة عمارت‘ کے انہدام کے دوران قطاع میں پیش آنے والے دلخراش سانحے کو بھی یاد کیا۔

الثوابتة نے اپنے بیان کے آخر میں قابض ’اسرائیلی‘ فوج کو اس صورتحال کو جان بوجھ کر اور سوچی سمجھی حکمت عملی کے تحت بحران کا شکار بنانے کی مکمل قانونی، اخلاقی اور جملہ ذمہ داریوں کا حامل قرار دیا، اور معاہدے سے فرار کی وجہ سے رونما ہونے والے تمام نتائج کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

انہوں نے بین الاقوامی برادری، اقوام متحدہ اور بین الاقوامی تنظیموں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ فوری اور ہنگامی بنیادوں پر مداخلت کریں، خاموشی کے دائرے سے باہر نکلیں، اور بہت دیر ہونے سے پہلے غزہ کے باسیوں کو بچانے کے لیے مؤثر اور حقیقی دباؤ ڈالیں، اس کے ساتھ ہی انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ قابض فوج کو مکمل طور پر راستے کھولنے، زندگی کے بنیادی لوازمات فراہم کرنے، اور سیکڑوں معصوموں و بے گھر افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے تباہ کن موسم سرما سے بچانے کے لیے فوری طور پر سرمائی امدادی سامان اور تعمیراتی مواد کے داخلے پر مجبور کیا جائے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan