Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پی ایل ایف نیوز

طوفان اقصیٰ کی کامیابیوں کا سفر اور عالمی بیداری

تحریر : ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) تاریخِ انسانی میں کچھ معرکے ایسے ہوتے ہیں جو صرف جغرافیائی حدود تک محدود نہیں رہتے، بلکہ وہ تاریخ کے دھارے کو موڑ دیتے ہیں، باطل کے چہرے سے نقاب نوچ لیتے ہیں اور مظلوموں کو ایک نئی زندگی بخشتے ہیں۔ 7 اکتوبر 2023ء کو شروع ہونے والامعرکہ طوفانِ اقصیٰ بھی ایسا ہی ایک تاریخ ساز موڑ ہے، جس نے تین برسوں کے مسلسل اور صبر آزما سفر کے بعد یہ ثابت کر دیا ہے کہ باطل کا غرور فانی ہے اور حق کا نور کبھی بجھایا نہیں جا سکتا۔ ارشادِ باری تعالی ہے کہ،اور فرما دیجیے کہ حق آ گیا اور باطل نابود ہو گیا، بے شک باطل نابود ہی ہونے والا تھا۔
آج تین سال کا عرصہ گزرنے کے بعد اگر ہم طوفانِ اقصیٰ کے اثرات اور ثمرات کا جائزہ لیں، تو یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ یہ معرکہ صرف غزہ کی پٹی یا فلسطین کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس نے ایک عالمگیر تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے۔
طوفانِ اقصیٰ کا سب سے بڑا اعجاز یہ ہے کہ اس نے دنیا بھر کے حریت پسندوں کو ایک نقطے پر مجتمع کر دیا ہے۔ وہ طوفان جو غزہ کی مٹی سے اٹھا تھا، آج وہ بحرِ احمر میں یمن کے انصار اللہ کے بپھرے ہوئے سمندر، لبنان میں حزب اللہ کی فولادی مزاحمت، عراق کے غیور مجاہدین اور ایران کی اصولی و استوار حمایت کی صورت میں پوری طاقت کے ساتھ موجزن ہے۔
صرف یہی نہیں، بلکہ یہ طوفان ایشیا میں پاکستان کے غیور عوام کے دلوں میں دھڑک رہا ہے، جہاں کروڑوں مسلمانوں نے اپنی ہر آواز کو فلسطین کے ساتھ وابستہ کر دیا ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر حیرت انگیز منظر مغرب کے ایوانوں میں دیکھا گیا، جہاں امریکہ اور یورپ کی شاہراہوں اور تاریخی یونیورسٹیوں (کیمبرج، آکسفورڈ، کولمبیا) کی سڑکوں پر لاکھوں غیر مسلم بھی فلسطین کے پرچم تلے جمع ہو کر غاصب صیہونیوں کے خلاف سراپا احتجاج بنے۔ طوفانِ اقصیٰ نے یہ ثابت کر دیا کہ فلسطین کی آزادی صرف ایک عرب یا اسلامی مسئلہ نہیں، بلکہ انسانیت کی بیداری کا سب سے بڑا عنوان بن چکا ہے۔
طوفانِ اقصیٰ سے قبل عالمی سامراج اور صیہونی لابی نے تدبیریں کر رکھی تھیں کہ فلسطین کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا جائے۔ ابراہیم معاہدے کے ذریعے عرب دنیا کوغاصب صیہونی ریاست کے ساتھ ساز باز پر مجبور کیا جا رہا تھا اور تاریخ میں فلسطین کی حیثیت کو قصہ پارینہ بنانے کی کوششیں عروج پر تھیں۔لیـکن طوفانِ اقصیٰ نے ان تمام سامراجی منصوبوں اور سازشوں پر پانی پھیر دیا۔ اس معرکے نے سائے میں پڑے اس مسئلے کو عالمی سیاست کے سب سے اہم مرکز میں لا کھڑا کیا۔ آج دنیا کا کوئی فورم، بین الاقوامی عدالت یا سفارتی میز ایسی نہیں جہاں فلسطین کا نام گونج نہ رہا ہو۔غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی دہائیوں پر محیط مظلوم نما مہم جوئی خاک میں مل گئی اور دنیا پر واضح ہو گیا کہ جب تک فلسطین آزاد نہیں ہوتا، دنیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔
طوفانِ اقصیٰ کی ایک عظیم ترین کامیابی یہ ہے کہ اس نے انسانی معاشرے، خصوصاً امتِ مسلمہ کے اندر موجودمنافقین اور ان کے ناپاک و فرسودہ چہروں سے نقاب الٹ دیا۔ ارشادِ ربانی ہے کہ،اللہ مومنوں کو اس حالت پر چھوڑنے والا نہیں جس پر تم ہو، جب تک کہ وہ ناپاک کو پاک سے جدا نہ کر دے۔
اس معرکے نے صاف کر دیا کہ کون امت کا خیر خواہ ہے اور کون سامراج کے ٹکڑوں پر پلنے والا غلام۔ وہ حکمران اور طبقات جو انسانی حقوق، آزادی اور جمہوریت کے دعوے کرتے تھے، ان کی زبانیں غزہ کے بچوں اور عورتوں کے قتلِ عام پر گنگ رہیں۔ اس معرکے نے مسالک، قومیتوں اور جغرافیائی سرحدوں سے بالاتر ہو کر حق پرستوں کی ایک صف بنا دی، جبکہ باطل کے سہولت کاروں کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا۔
طوفانِ اقصیٰ نے صیہونی ریاست کا وہ نام نہاد رعب اور ناقابلِ شکست ہونے کا غبارہ ہمیشہ کے لیے پھوڑ دیا جس کی بنیاد پر وہ خطے میں دادا گری قائم کیے ہوئے تھی۔غاصب صیہونی دشمن کی جدید ترین ٹیکنالوجی، انٹیلی جنس نیٹ ورک (موساد، امان) اور ناقابلِ تسخیر سمجھی جانے والی فوج،فلسطینی مجاہدین کے گوریلا حربوں اور غیر متزلزل ایمان کے سامنے ناکام ہو گئی۔ تین سالہ مسلسل جنگ کے باوجود دشمن اپنے مقرر کردہ عسکری اہداف (مزاحمت کا خاتمہ،صیہونی قیدیوں کی بحفاظت واپسی) میں مکمل طور پر ناکام رہا۔یہاں تک کہ صیہونی قیدیوں کی واپسی کے لئے ان کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا ۔ یہ غاصب صیہونی دشمن کے لئے ایک بڑی ذلت تھی۔
غاصب صیہونی دشمن کے اندر شدید سیاسی بحران، نیتن یاہو حکومت کے خلاف عوام کا غصہ، اور لاکھوں صیہونیوں کا پناہ گاہوں میں محصور ہونا ان کی داخلی شکست کی واضح علامت ہے۔ بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) اور بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) میں صیہونی رہنماؤں پر جنگی جرائم کے مقدمات اور اسرائیل کا عالمی سطح پر بائیکاٹ دشمن کے معاشی و سفارتی وجود کا جنازہ نکال چکا ہے۔
غاصب صیہونی دشمن او ر اس کے سرپرست سامراجی قوتوں کا خیال تھا کہ فلسطین اور لبنان میں مزاحمت کے عظیم قائدین چاہے وہ فلسطین کی سرزمین پر اسماعیل ہنیہ اور یحییٰ سنوار ہوں، یا لبنان کی سرزمین پر سید حسن نصر اللہ ، سید ہاشم صفی الدین اور ان کے رفقاءکو شہید کر کے وہ اس پاکیزہ تحریک کا خاتمہ کر دیں گے۔ لیکن غاصب دشمن تاریخ اور سنتِ الٰہی سے بے خبر تھا۔ قرآن مجید فرماتا ہےکہ،اور جو اللہ کی راہ میں مارے جائیں انہیں مردہ مت سمجھو، بلکہ وہ اپنے رب کے پاس زندہ ہیں، انہیں رزق دیا جاتا ہے۔
قائدین کا خون مزاحمت کا زوال نہیں، بلکہ اس کے از سرِ نو جی اٹھنے کا سحر انگیز پیغام ثابت ہوا۔ تاریخ شاہد ہے کہ شہداء کا خون قوموں کی رگوں میں نیا خون دوڑاتا ہے۔ قائدین کی شہادت کے بعد، فلسطین سے لے کر لبنان تک، مزاحمت کے مجاہدین نے نئے عزم، نئی صف بندی اور زیادہ خوفناک حملوں کے ساتھ دشمن کو ششدر کر دیا۔ شہادتوں نے تحریک کو کمزور کرنے کے بجائے اس کی جڑوں کو مزید گہرا اور مضبوط کر دیا ہے۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ طوفانِ اقصیٰ کے ان تین سالوں نے ثابت کر دیا ہے کہ ظالم کی عمر قلیل ہوتی ہے اور حق کی فتح مقدر ہے۔ فلسطین کی مظلوم مگر غیور قوم، لبنان کے ثابت قدم مجاہدین اور دنیا بھر کے حریت پسندوں کی لا زوال قربانیاں ضائع نہیں جائیں گی۔ وہ دن دور نہیں جب بیت المقدس آزاد ہو گا، صیہونی غاصبوں کا ناپاک وجود اس مقدس سرزمین سے مٹ جائے گا اور دنیا ایک بار پھر عدل و انصاف کا سورج طلوع ہوتے دیکھے گی۔قرآن کا وعدہ ہے کہ کیا صبح کا وقت قریب نہیں ہے؟ (سورۃ ہود: 81)

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan