Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

رام اللہ

اسرائیلی جیل الدامون میں فلسطینی خواتین جلدی بیماری اور خارش کا شکار

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک فلسطینی اسیر خاتون نے قابض صہیونی عقوبت خانے ’الدامون‘ کے اندر صحت اور قید کی ابتر ہوتی ہوئی حالت کا پردہ چاک کرتے ہوئے مسلسل جبر، غنڈہ گردی اور بنیادی انسانی حقوق سے محرومی کی تصدیق کی ہے، جبکہ وہاں اسکیبیوس (خارش) کی بیماری بڑے پیمانے پر پھیل چکی ہے اور متاثرہ خواتین کو کوئی مطلوبہ علاج بھی فراہم نہیں کیا جا رہا ہے۔

نو فروری کو گرفتار ہونے والی اسیر خاتون (ذ.ن) نے بتایا کہ وہ جیل کے اندر صحت کے نامساعد حالات کی وجہ سے اسکیبیوس بیماری کا شکار ہو چکی ہیں، جبکہ گرفتاری کے بعد سے وہ پیشاب کی نالی کے انفیکشن میں بھی مبتلا ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ انہیں دونوں امراض میں سے کسی کے لیے بھی کوئی علاج نہیں ملا ہے۔

وحشیانہ گرفتاری اور برہنہ تلاشی

کمیشن برائے امور اسیران کے ایک رپورٹ کے مطابق کمیشن کے وکیل کی جانب سے اسیر خاتون کے دورے کے بعد جاری کی گئی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔ قابض فوج نے رات گئے لگ بھگ ڈیڑھ بجے ان کے والد کے گھر پر دھاوا بولا اور انہیں برہنہ تلاشی کے عمل سے گزارنے کے بعد گرفتار کر لیا۔

اسیر خاتون نے بتایا کہ گرفتاری کے دوران انہیں گالیاں دی گئیں اور انہیں ہراساں کیا گیا، اس کے بعد فوجیوں نے انہیں فوجی جیپ کے فرش پر پھینک دیا، جہاں وہ صبح تقریباً سات بجے تک حرکت کرنے سے محروم رہیں، انہوں نے اشارہ کیا کہ جب بھی انہوں نے حرکت کرنے کی کوشش کی تو ان کی پیٹھ پر شدید تشدد کیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد انہیں کدومیم کے علاقے میں منتقل کر دیا گیا، جہاں انہیں گندگی کے قریب زمین پر ڈال دیا گیا، جبکہ فوجی ان کے قریب کھڑے ہو کر تصاویر بناتے رہے اس پر ہنستے اور طنز کرتے رہے، اس کے بعد صہیونی فوج نے اس کے سر اور چہرے پر وحشیانہ تشدد شروع کر دیا، جس کی وجہ سے اسے شدید تکلیف کا سامنا کرنا پڑا۔

اس کے بعد اسے المسکوبیہ منتقل کر دیا گیا، جہاں وہ دوپہر کے وقت سے لے کر رات کے نو بجے تک آنکھوں پر پٹی باندھے اور ہتھکڑیوں میں جکڑی رہیں۔

’قصاب خانہ‘ میں 17 دن

المسکوبیہ میں موجودگی کے دوران اسیر خاتون کو ایک بار پھر برہنہ تلاشی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ لیڈیز فوجی اہلکاروں نے اس کے نماز کے کپڑے اور اس کا خصوصی اسکارف ضبط کر لیا اور اس کی تصاویر بنائیں۔

اسیر خاتون المسکوبیہ میں 17 دن تک رہیں، جسے اس نے ایک ’قصاب خانہ‘ قرار دیا،۔ اس نےکہا کہ فلسطینی اسیرات کو ٹھریوں کے اندر قید کی انتہائی کٹھن صورتحال سے دوچار ہیں۔

خاتون نے بتایا کہ کوٹھریوں کی حالت ’قبر جیسی‘ ہے اور بستر سیمنٹ کا ایک ٹکڑا ہے جس پر بغیر غلاف کے پلاسٹک کا ایک پتلا گدھا رکھا ہوا ہے، اس نے اشارہ کیا کہ موسم اور جگہ کی سردی کے باوجود انہوں نے انہیں بہت ہلکے دو کمبل دیے۔

قیدی خاتون نے مزید کہا کہ جیل حکام نے فروری کے مہینے میں خواتین اسیران کے سروں کے اوپر ٹھنڈا اے سی چلا رکھا تھا۔ ایسے وقت میں جب روشنی کا کوئی ذریعہ نہیں تھا، جبکہ کھانا بھی انتہائی گھٹیا تھا ۔ اس نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ حالات انسانوں کے رہنے کے قابل ہرگز نہیں ہیں۔

’الدامون‘ کے اندر شدید بھیڑ اور محرومی

قابض صہیونی عقوبت خانے ’الدامون‘ میں، اسیر خاتون نے قید کے حالات کو ’انتہائی خراب‘ قرار دیا۔اشارہ کیا کہ کھانا بہت کم اور گھٹیا معیار کا ہے، اور خواتین اسیران کے لیے مختص ٹہلنے کا وقت انتہائی مختصر ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ اس دوران خواتین اسیران کو نہانے اور کمرہ صاف کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، اور یہ وقت صبح کے وقت ہوتا ہے، تقریباً پانچ بجے اور انہوں نے اشارہ کیا کہ اس دوران انہیں بات کرنے سے روکا جاتا ہے۔

انہوں نے کمروں کے اندر شدید بھیڑ کا بھی ذکر کیا، اور واضح کیا کہ ہر کمرے میں متعدد اسیران موجود ہیں، جبکہ ان میں سے کچھ کو مجبوری میں زمین پر سونا پڑتا ہے۔

بنجمن نیتن یاھو کے دورے کے بعد جبر

اسیر خاتون نے صہیونی وزیر بنجمن نیتن یاھو کے خواتین اسیران کے سیکشن، اور خاص طور پر کمرہ نمبر 3 اور 8 کے دورے کی طرف اشارہ کیا، اور اس بات کی تصدیق کی کہ ان کے دورے کے بعد سلوک مزید خراب ہو گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس دورے کے تقریبا دس دن کے بعد، ان کے کمرے کو جبر اور تلاشی کی کارروائی کا نشانہ بنایا گیا، جس کے دوران خواتین اسیران کو کمرے سے باہر نکال کر ایک چھوٹے کمرے میں منتقل کر دیا گیا، جہاں ان کی تعداد 11 خواتین اسیران تک پہنچ گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ قابض فورسز نے کپڑے اور ذاتی سامان ضبط کر لیا، جبکہ متعدد خواتین اسیران کو بعد میں باہر نکالنے سے پہلے تنہائی میں ڈال دیا گیا۔

اسیر خاتون ذ.ن کا یہ بیان کمیشن برائے امور اسیران کی طرف سے اس کے وکیل کے دورے کے بعد ان صحت مند اور معاشی حالات کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن کے بارے میں انہوں نے کہا کہ وہ قابض صہیونی عقوبت خانے ’الدامون‘ کے اندر سامنا کر رہی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan