واشنگٹن (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) صدر ٹرمپ انتظامیہ نے عالمی فوجداری عدالت پر پابندیاں عائد کرنے کی تیاریاں شروع کر دیں۔
وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) کے خلاف پابندیوں کی پوری تیاری کر لی ہے اور انھیں جلد نافذ کرنے کا اعلان کرنے کا منصوبہ بنایا جا رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں جنگی جرائم اور نسل کشی کے مقدمات کی پیروی کرنے والی عالمی عدالت کے بارے میں اپنی ناپسندیدگی کبھی پوشیدہ نہیں رکھی اور اسے کمزور کرنے کے لیے اقدامات کرتی رہی ہے، تاہم یہ اقدام عالمی عدالت کے خلاف واشنگٹن کی کارروائی کو مزید سخت کر دے گا۔
امریکی حکام چاہتے ہیں کہ عدالت اسرائیلی رہنماؤں کے خلاف جاری گرفتاری کے وارنٹس واپس لے، جب کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کے خلاف کی جانے والی سابقہ تحقیقات بھی ختم کرے۔
مجوزہ پابندیوں کے تحت 6 سے 7 ماہ کی مہلت کے بعد آئی سی سی پر زیادہ تر مالی و تجارتی لین دین پر پابندی ہوگی۔ عالمی فوجداری عدالت نے غزہ میں جنگی جرائم کے الزام میں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو اور سابق وزیر دفاع یووو گیلنٹ کے گرفتاری وارنٹ جاری کیے تھے، جنھیں امریکا مسترد کر چکا ہے۔